بھارت کا غرور اور عالمی دنیا میں حقیقت کا سامنا

بھارت کا غرور اور عالمی دنیا میں حقیقت کا سامنا
کالم نگار :امجد آفتاب
مستقل عنوان:عام آدمی
کیا صرف آبادی، اسلحہ اور بلند دعوے کسی ملک کو عالمی طاقت بنا سکتے ہیں؟ دنیا کی تقریباً آٹھ ارب آبادی میں نمایاں آبادی رکھنے والا ملک بھارت خود کو ابھرتی عالمی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر جب اس دعوے کو عالمی تناظر میں پرکھا جائے تو تصویر اتنی سادہ نہیں رہتی جتنی سرکاری بیانات میں دکھائی دیتی ہے۔ عالمی سیاست میں اصل طاقت کا پیمانہ بیانات نہیں بلکہ ساکھ، اعتماد، ادارہ جاتی استحکام اور مستقل کارکردگی ہوتے ہیں اور یہی وہ میدان ہے جہاں کسی بھی ریاست کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ بھارتی قیادت، خصوصاً نریندر مودی، عالمی فورمز پر ملک کو معاشی، سفارتی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط قوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم کسی ریاست کی اصل طاقت اس کے داخلی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی اور عالمی اعتماد سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی ادارے اشاریے جاری کرتے ہیں تو کئی بار سرکاری بیانیہ اور زمینی حقائق میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے، جو عالمی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ معاشی میدان میں بھی تضادات موجود ہیں۔ World Bankاور دیگر عالمی مالیاتی جائزوں کے مطابق بھارت کے ترقی کے دعووں کے باوجود بے روزگاری، آمدنی میں عدم مساوات اور علاقائی فرق جیسے مسائل برقرار ہیں۔ بڑے شہری مراکز میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی چمک نظر آتی ہے، مگر دیہی علاقوں کے معاشی حالات اس تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہیں۔ یہی فرق ناقدین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا بھارت کی ترقی واقعی ہمہ گیر ہے یا مخصوص طبقات تک محدود۔
جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے اور بھارت کے دنیا کی سب سی بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے رہے۔ امریکی تنظیم Freedom Houseاور صحافتی آزادی کی نگرانی کرنے والی Reporters Without Bordersکی رپورٹس میں درجہ بندیوں نے بحث کو جنم دیا۔ جب کسی ریاست میں میڈیا آزادی یا ادارہ جاتی خودمختاری پر سوال اٹھیں تو اس کا اثر براہِ راست اس کی عالمی ساکھ پر پڑتا ہے، جبکہ بھارت اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔ اسی طرح بھارت میں انسانی حقوق کے معاملے میں بھی مختلف عالمی تنظیموں نے خدشات ظاہر کیے۔ مثال کے طور پر United States Commission on International Religious Freedom اور Human Rights Watchکی رپورٹس میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خدشات زیادہ تر اُن علاقوں سے رپورٹ ہوئے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت رہی یا جہاں نظریاتی اثر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک حلقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ بھارت میں بالخصوص مسلمانوں کا ریاستی سرپرستی میں قتل عام کیا جاتا رہا ہے جبکہ آزادی کے حقوق سلب کیا جانا معمول کی بات ہے۔ ہندوستان میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دعوئوں اور حقیقت کے فرق کی مثالیں سامنے دنیا کے سامنے ہیں۔ ایک تازہ مثال حالیہ کانفرنس میں چینی کمپنی Unitree Roboticsکے تیار کردہ روبوٹ کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کا واقعہ سامنے آیا جس پر بعد میں وضاحت دیتے ہوئے Galgotias Universityکو معذرت کرنا پڑی۔ ناقدین نے اسے سائنسی شفافیت پر سوال قرار دیا، اور بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر بات کریں بھارت کے داخلی پالیسیوں کی تو 2016ء میں نوٹ بندی کو بدعنوانی کے خاتمے کا تاریخی قدم قرار دیا گیا تھا، مگر بعد ازاں اعداد و شمار سی ظاہر ہوا کہ بڑی مقدار میں بند کی گئی کرنسی دوبارہ بینکاری نظام میں واپس آ گئی اور کالا دھن سفید ہو گیا۔ متعدد معاشی ماہرین نے اس اقدام کی افادیت پر سوالات اٹھائے، اور اس کورگھ دھندے سے حیران رہ گئے۔ سفارتی اور دفاعی تناظر میں جنوبی ایشیا کی صورتحال پیچیدہ ہے۔ بھارت جو اپنی زبان سے خود کو سپر پاور بتاتا رہتا ہے اور سفارتی سطح پر خود کو بڑا کھلاڑی مانتا ہے مگر حالیہ پاک، بھارت جنگ کے دوران اس کی یہ حقیقت بھی دنیا کے سامنے عیاں ہو گئی۔ جہاں بھارت نے جنگ کے میدان میں پاکستان کے ہاتھوں شکست فاش کھائی تو سفارتی محاذ پر بھی وہ تنہا کھڑا تھا۔ اس صورتحال میں سوائے اسرائیل کے دنیا کا کوئی بھی ملک اس کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ اس ساری صورتحال میں یہ حقیقت نمایاں ہے کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود کئی مواقع پر عملی حکمت عملی، دفاعی توازن اور سفارتی فعالیت کا مظاہرہ کیا۔ علاقائی بحرانوں میں موثر ردِعمل، عالمی فورمز پر موقف پیش کرنے کی صلاحیت اور کم وسائل میں موثر دفاعی منصوبہ بندی ایسے عوامل ہیں جنہیں عالمی مبصرین پاکستان کی اہم عملی برتری قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق طاقت کا اصل معیار حجم نہیں بلکہ کارکردگی اور توازن ہوتا ہے۔ تاریخ کا اصول واضح ہے، عالمی عزت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتبار سے ملتی ہے۔ جب کسی ریاست کا بیانیہ اس کی عملی کارکردگی سے مطابقت نہ رکھے تو اسے عالمی سطح پر تنقید، دبائو اور ساکھ کے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں غرور حقیقت کے آئینے سے ٹکراتا ہے۔ دنیا اب نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے متاثر ہوتی ہے اور وقت ہمیشہ اسی کو یاد رکھتا ہے جو دعوئوں کے بجائے عملی ثبوت پیش کرے۔





