ColumnImtiaz Ahmad Shad

تحفہ، اعتماد اور قانون

ذرا سوچئے

تحفہ، اعتماد اور قانون

امتیاز احمد شاد

حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک ریمارکس نے قانونی اور سماجی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تھوک کر چاٹنے والی بات ہے‘‘۔ یہ جملہ بظاہر سخت معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک مضبوط قانونی اور اخلاقی اصول پوشیدہ ہے۔ دراصل عدالت ایک ایسے مقدمے کی سماعت کر رہی تھی جس میں شوہر کی جانب سے بیوی کو دئیے گئے تحائف یا قیمتی اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر عدالت نے نہ صرف قانونی پہلو کو واضح کیا بلکہ معاشرے کو ایک اخلاقی پیغام بھی دیا کہ تحفہ ایک مکمل اور حتمی عمل ہوتا ہے جسے بعد میں محض حالات کی تبدیلی کی بنیاد پر واپس نہیں لیا جا سکتا۔

پاکستانی قانون اور اسلامی فقہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی اور رضا مندی سے کسی کو تحفہ دے دے اور وہ چیز اس کے قبضے میں چلی جائے تو وہ اس کی ملکیت بن جاتی ہے۔ شادی کے تناظر میں یہ اصول اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ نکاح محض ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور باہمی ذمہ داری کا رشتہ ہے۔ بیوی کو دیا گیا زیور، جائیداد یا کوئی اور تحفہ اس کی ذاتی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر شوہر بعد میں اسے واپس لینے کا مطالبہ کرے تو یہ نہ صرف قانونی طور پر کمزور موقف ہوتا ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں بھی تحفہ واپس لینے کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ احادیث میں اس کی مثال ایسے شخص سے دی گئی ہے جو اپنی قے کو دوبارہ چاٹ لے، جو کہ ایک نہایت ناپسندیدہ اور مکروہ فعل ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے الفاظ اسی اخلاقی تناظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی کی تضحیک کرنا نہیں بلکہ اس بات کو دو ٹوک انداز میں واضح کرنا تھا کہ تحفہ دینے کے بعد اس سے رجوع کرنا خودداری اور وقار کے منافی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس کے ذریعے دراصل اس سوچ کی حوصلہ شکنی کی کہ شادی کے دوران دی گئی اشیاء کو بعد میں دبا ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں خاندانی تنازعات کے دوران اکثر مالی معاملات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ طلاق یا علیحدگی کی صورت میں فریقین ایک دوسرے سے دی گئی اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ تعلقات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ بیوی کو دیے گئے تحائف کی واپسی کا مطالبہ بعض اوقات خواتین پر نفسیاتی دبا ڈالنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ ایسے میں عدالت کا یہ موقف خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ شادی کے بعد ملنے والی چیزیں بیوی کی ذاتی ملکیت ہیں اور ان پر کسی اور کا دعویٰ نہیں بنتا۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں بہت سی خواتین مالی طور پر خودمختار نہیں ہوتیں۔ شادی کے بعد ملنے والا زیور یا دیگر تحائف ان کے لیے ایک طرح کی معاشی سکیورٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر قانون شوہر کو یہ اجازت دے دے کہ وہ جب چاہے یہ تحائف واپس لے سکتا ہے تو اس سے خواتین کے معاشی تحفظ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عدالت کے حالیہ ریمارکس نے اس خدشے کو دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ رضا مندی سے دیا گیا تحفہ ناقابلِ واپسی ہوتا ہے۔ اس طرح یہ بیان نہ صرف ایک قانونی اصول کی توثیق ہے بلکہ خواتین کے معاشی حقوق کی مضبوطی کا ذریعہ بھی ہے۔

اگرچہ عمومی اصول یہی ہے کہ تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، تاہم بعض مخصوص حالات میں قانونی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چیز دبا، دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر دی گئی ہو تو اس کی قانونی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شے بطور امانت دی گئی ہو اور بعد میں اسے تحفہ قرار دے دیا جائے تو تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن عام حالات میں، جب تحفہ آزادانہ طور پر دیا گیا ہو اور وصول کرنے والے نے اس پر قبضہ کر لیا ہو، تو قانون اسے مکمل طور پر اسی کی ملکیت تسلیم کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے عدالت نے اپنے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا۔

عدالتی زبان عموماً محتاط اور رسمی ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات ججز عام فہم مثال دے کر پیچیدہ قانونی اصول کو آسان بنا دیتے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا یہ جملہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ اس میں ایک سخت مگر مثر استعارہ استعمال کر کے یہ پیغام دیا گیا کہ تحفہ واپس لینے کی خواہش اخلاقی کمزوری کی علامت ہے۔ اس بیان نے عوامی سطح پر بھی بحث کو جنم دیا، مگر مجموعی طور پر اسے ایک مثبت اور اصولی موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خاندانی نظام کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس کی مضبوطی کے لیے باہمی احترام اور اعتماد ناگزیر ہیں۔ اگر شوہر بیوی کو کوئی تحفہ دیتا ہے تو اسے اس فیصلے کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ وقتی جذبات میں آ کر دی گئی چیز کو بعد میں واپس لینے کی کوشش نہ صرف تعلقات کو مزید خراب کرتی ہے بلکہ قانونی پیچیدگیوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ عدالت کا حالیہ موقف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نکاح ایک سنجیدہ بندھن ہے جس میں سخاوت، دیانت اور خود داری کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا بیان محض ایک عدالتی ریمارک نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی پیغام ہے۔ اس میں قانون، اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ’’ بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا‘‘ کا اصول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلقات میں دی گئی چیزیں سودے بازی کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ اعتماد اور محبت کی علامت ہوتی ہیں۔ اگر معاشرہ اس اصول کو سنجیدگی سے اپنائے تو خاندانی تنازعات میں کمی اور خواتین کے حقوق کے بہتر تحفظ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button