CM RizwanColumn

اب دہشتگردوں کا مکمل صفایا ممکن

جگائے گا کون ؟

اب دہشتگردوں کا مکمل صفایا ممکن

تحریر: سی ایم رضوان

پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے مشن پر گامزن ہے۔ اس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ جس کے نتیجے میں دہشت گرد گروہ بھی منظم ہو کر اس ریاست کے خلاف جنگ چھیڑ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے گزشتہ روز کوہاٹ کے نواحی علاقے شکر درہ روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جس میں ڈی ایس پی لاچی سمیت 5اہلکار شہید اور تین اہلکاروں سمیت 4افراد زخمی ہو گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزمان لے جا رہی تھی۔ پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دو زیرِ حراست ملزمان بھی جان کی بازی ہار گئے۔ شہداء میں ایک ڈی ایس پی، ایک انسپکٹر، ایک گن مین، ریڈر اور ڈرائیور شامل ہیں۔ دہشت گردوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی اور فرار ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے فتنہ الخوارج کے اس دہشت گردانہ حملے کی پر زور مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لکیر ہے جس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ جبکہ گزشتہ سے پیوستہ روز بھی فتنہ الخوارج نے بدترین دہشت گردی کرتے ہوئے کرک میں ایمبولینس کو بھی نہ بخشا۔ ایمبولینس کو آگ لگا کر اس میں موجود زخمی ایف سی اہلکاروں کو زندہ جلا دیا۔ شہید ہونے والے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے رہائشی تھے۔ خوارج نے اس واقعہ کی پوری فلم بندی کی اور سوشل میڈیا پر ریلیز کیا۔ اس سے پہلے خوارج نے پہلے ایف سی پوسٹ پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا تھا جس کے بعد دو ایمبولینسز زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچیں تو زخمیوں کو لے جاتے ہوئے دونوں ایمبولینسز پر فتنہ الخوارج نے پھر سے حملہ کیا۔ ایک ایمبولینس کو آگ لگا کر زخمیوں سمیت جلا دیا گیا جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئی۔ واضح رہے کہ خوارج اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو سراسر ظلم، کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے لیکن اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سانپ جب زخمی ہوتا ہے تو زیادہ ڈنگ مارتا ہے۔دہشت گردی کے ان بڑھتے واقعات کے تناظر میں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے اور کیا کر رہا ہے۔ اندرونی سیاست سے قطع نظر پاکستان کی عسکری رجیم نے اس وقت پاکستان کو دنیا میں ایک بہادر، اصول پسند اور امن پسند ملک کے طور پر منوایا ہے جو دہشت گردی کی کسی بھی صورت کو قبول کرنے یا اسے اپنی سرزمین تو کجا ہمسائیوں کی زمین پر بھی زندہ رہنے کا حق دینے کی منافقت نہیں کر رہا۔ امریکی صدر ٹرمپ اسی وجہ سے اس رجیم کو پسند کرتا ہے کہ یہ رجیم اپنی نظریاتی اور جغرافیائی دونوں سرحدوں کی دلیری، بہادری اور اصول پسندی کے ساتھ حفاظت کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی اس پسندیدگی خاص طور پر گزشتہ روز امریکی کانگریس سے خطاب کے دوران ایک بار پھر پاکستان کی تعریف اور اس کی قیادت کی ستائش نے اب امریکہ کی دوسرے درجے کی ملکی قیادت اور عوامی نمائندوں کو بھی پاکستان کی تعریف و ستائش پر مجبور کیا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دیا اور اس کے ساتھ تعاون کیا ہے بلکہ اس نے خطہ میں موجود دو بڑے دہشت گردوں اور بدمعاش ملکوں کو بھی نکیل ڈال دی ہے جو کہ خطہ میں دہشت گردی کے سب سے بڑے مراکز اور سہولت کار ہیں۔ ایک دہشت گرد بھارت کو پچھلے سال دس مئی کو سبق سکھایا گیا تھا۔ اب اس سانپ کا زہر نکل چکا ہے اور وہ بس کسمسا اور بل کھا رہا ہے جبکہ گزشتہ دنوں افغانستان کے اندر گھس کر اس کے اندر موجود دہشت گردوں کے اڈوں اور تربیت گاہوں کو جس طرح تباہ کیا گیا ہے اس نے افغانستان کو بھی پاکستان کی عسکری سپرمیسی کو تسلیم کرنے پر یوں مجبور کیا ہے کہ وہ اب خاموشی، معذرت اور جنگ بندی کی پالیسی اپنانے کی راہ پر چل پڑا ہے۔ طالبان حکومت ایک طرف سے شرمندہ ہے اور دوسری طرف سے خوفزدہ کہ اب پاکستان اس کو کسی صورت معاف نہیں کرے گا لیکن غنڈہ آخر کار غنڈہ ہوتا ہے اور جب تک اسے موت نہ آ جائے وہ غنڈہ گردی اور بدمعاشی سے باز نہیں آتا۔ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے ساتھ ساتھ اب ان غنڈوں کا پاکستان کے ہاتھوں اندر گھس کر مارے جانے جیسی شکست کے بعد ایک عالمی گٹھ جوڑ ہونے کی اطلاع ہے۔ ایک امریکی تحقیقاتی جریدے ’’ جسٹ دی نیوز‘‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ قیادت افغانستان میں القاعدہ سمیت متعدد عالمی دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ سرگرم ہو چکی ہیں اور طالبان رجیم ان تنظیموں کی نہ صرف نگرانی بلکہ بھرپور سرپرستی بھی کر رہی ہے۔ یعنی افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لئے محفوظ ترین ٹھکانہ بن چکا ہے، جہاں سے خطے کے امن کو نشانہ بنانے کی خطرناک منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور طالبان حکومت نے بھی القاعدہ کو وہ تمام سہولیات اور پناہ گاہیں فراہم کر دی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں میں ان کے پاس نہیں تھیں۔ واضح رہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلق محض نظریاتی نہیں بلکہ انتظامی اور عسکری نوعیت کا ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

عالمی دفاعی ماہرین نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی بند نہ کی تو افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ افغانستان میں ان تنظیموں کی موجودگی عالمی سلامتی کے لئے ایک ’’ ٹائم بم‘‘ قرار دی جا رہی ہے۔

بات پھر گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ پاکستان اپنی امن پسند اور دہشت گرد دشمن پالیسی پر غیر متزلزل طور پر سختی سے کاربند اور عمل پیرا ہے اس کی عسکری اور انٹیلی جنس مہارت اور جدت اب فیصلہ کن جنگ شروع کر چکی ہے اور اس نیک مقصد سے پیچھے ہٹنے یا کسی سفارتی و مذاکراتی ڈھکوسلے کے ذریعے وہ اپنی دی گئی عظیم قربانیوں کو رائیگاں جانے دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ جس طرح دنیا بھر کے طاقتور ترین دہشت گرد افغانستان میں اکٹھے ہو گئے ہیں اسی طرح پاکستان امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اب ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنی کا مضبوط پروگرام بنا چکی ہیں۔ اس سلسلے میں ماضی کی امریکی اور پاکستانی پالیسیاں اب وجود نہیں رکھتی بلکہ ان میں تبدیلی آ گئی ہے جس کے تحت نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ نے بھی بہت کچھ کھویا ہے اور دہشت گرد سوائے انسانیت دشمنی کے اور کچھ بھی نہ کر سکے ہیں اور نہ ہی ایسا کچھ ان کے پروگرام میں شاملِ ہے۔

جہاں تک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا ذکر ہے تو یہ بات اکثر تجزیہ کار کرتے ہیں کہ ٹرمپ اس وقت دنیا میں ایک بدمست ہاتھی کی مانند دندنا رہا ہے اس لئے جو بھی اس کے سامنے آئے گا وہ کچلا جائے گا۔ ان تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پاس بھی امریکی انتظامیہ کی حمایت اور سہولت کاری کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ ان تجزیہ کاروں کو شاید یہ علم نہیں کہ پاکستان کی موجودہ عسکری رجیم ایسے کسی تحفظ کا شکار نہیں بلکہ یہ حسن اتفاق ہے کہ اب پاکستان اور امریکہ کی دہشت گردوں کے خلاف سٹریٹجی مشترک ہو گئی ہے اور پاکستان اس حوالے سے امریکہ کی سہولت کاری نہیں بلکہ اپنے خطہ کی دہشت گردوں سے صفائی کر رہا ہے۔ مذکورہ تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ بھی سفارتی بحث کی جاتی ہے کہ پاکستان ٹرمپ کے ساتھ چلتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ بھی محض اس صورت میں کر سکتا ہے کہ وہ ٹرمپ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دے۔ لیکن یہ نقطہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ٹرمپ سے زیادہ پاکستان کی جنگ ہے اور پاکستان دنیا بھر میں اپنی اس پالیسی کو دیانتداری کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہی۔ ساتھ ہی یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ موجودہ جیو پولیٹیکل حالات اور حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کے علاوہ دیگر اسٹریٹجک آپشنز بھی موجود ہیں جن پر وہ فعال طور پر کام بھی کر رہا ہے۔ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے اہم پہلوئوں میں کثیر الجہتی سفارت کاری بھی روبہ عمل ہے جس کے تحت صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے سعودی عرب، چین اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر 2025ء میں پاکستان نے روس کے ساتھ اقتصادی تعاون اور لیبیا کے ساتھ دفاعی معاہدے بھی کیے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دیئے گئے غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن پاکستان اسے حتمی راستہ سمجھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ جہاں تک معاشی معاملات کا تعلق ہے تو امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، اس لئے ٹرمپ کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی ضروری ہیں۔ تاہم، پاکستان سی پیک کے ذریعے چین کے ساتھ اپنی معاشی وابستگی کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ ایک مشکل مساویانہ عمل ہے۔ مختصر یہ کہ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کی ضرورت ضرور ہیں، لیکن پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو متنوع بنا کر دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ بھی اپنے مفادات کو محفوظ بنا رہا ہے اور عسکری اہمیت و طاقت بھی دنیا پر واضح کر رہا ہے۔ یہ کہنا بھی بیجا نہ ہوگا کہ آج کے حالات میں ہمیں اگر ٹرمپ کی ضرورت ہے تو اسے بھی ہماری ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے تناظر میں دوسرا بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ افغانستان میں اس وقت بیس سے تئیس ہزار دہشت گرد جمع ہو کر دنیا کو دہشت گردی کی ایک خوفناک تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں لیکن ساتھ یہ موقع بھی بڑا مناسب ہے کہ پاکستان امریکہ کے تعاون سے ایک بڑا حملہ کر کے ان دہشت گردوں کا مکمل صفایا بھی کر سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button