تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ایرانی میزائل یورپی ملکوں و امریکی اڈوں کیلئے خطرہ ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جلد ہی امریکا تک پہنچیں گے، ایران کے میزائل یورپی ملکوں اور امریکی اڈوں کے لیے خطرہ ہیں، ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کر رہے ہیں، ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارت کاری سے حل ہو۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسرے دورِ صدارت کا پہلا اسٹیٹ آف یونین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکی تاریخ میں امریکی سرحدیں محفوظ ترین ہیں، 9 ماہ میں ایک بھی غیر قانونی شخص امریکا میں داخل نہیں ہو سکا، ہم قانونی طور پر ہمیشہ لوگوں کو امریکا آنے کی اجازت دیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں غیر معمولی کمی لائی گئی، 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے وعدے ممکن بنائے ہیں، پہلے ہم مردہ ملک تھے اور اب سب سے زیادہ پسندیدہ ملک ہیں، وینزویلا سے 18 ملین بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے، میں نے تیل کی تلاش کرو اور اسے نکالو کا وعدہ پورا کر دیا۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکا میں ڈی ای آئی ختم کر دیا ہے، اسٹیٹ آف یونین مضبوط ہے، امریکا اتنا کامیاب ہو رہا ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم مزید کامیابیاں نہیں سمیٹ سکتے، واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنائیں گے۔

 

امریکی صدر نے کہا کہ پچھلے سال میں نے کانگریس سے کہا کہ ٹیکس کٹوتی کریں اور ری پبلکنز نے یہ ممکن بنایا، ٹیکس کٹوتی پر ہر ڈیموکریٹ نے مخالفت میں ووٹ دیا، وہ ٹیکس میں اضافہ چاہتے تھے، ہم نے ٹپ پر ٹیکس ہٹایا اور اوور ٹائم پر ٹیکس ختم کیا، جو ممالک ہمیں لوٹ رہے تھے وہ اب ادائیگیاں کر رہے ہیں، ٹیرف کے باوجود تمام ممالک امریکا سے ڈیلز برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ میں نے کئی جنگیں ٹیرف کی مدد سے ختم کیں، ٹیرف آج کے دور کے انکم ٹیکس کی جگہ لے لے گا، بائیڈن دور میں ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

 

امریکی صدر نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم نامے پر تنقید کی اور کہا کہ ملک میں انڈوں کی قیمتیں 60 فیصد کم ہوئی ہیں، بڑی انشورنس کمپنیوں کی بجائے رقم لوگوں کو دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی ہیلتھ کیئر خود لیں، ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی لا رہا ہوں جس میں دیگر صدور ناکام رہے تھے

جواب دیں

Back to top button