ColumnTajamul Hussain Hashmi

نظام یا عوام کا دھندلا پن

نظام یا عوام کا دھندلا پن
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تضاد پایا جاتا ہے۔ ہم ہر مسئلے کی ذمہ داری حکومتی اداروں اور دوسروں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں ، جب خود کی عملی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو ہم خاموش تماشائی بن جاتے ہیں ۔ کوئی بھی ملک صرف نعروں، دعوئوں اور الزامات سے ترقی نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور ، اخلاقی تربیت اور عملی کردار نہایت ضروری ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ تینوں عناصر کمزور ہوتے جا رہے ہیں یوں کہہ لیں ختم ہونے کے در پے ہیں ۔ عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان جیسے ممالک میں شفافیت کا فقدان ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ مثال کے طور پر Transparency Internationalکی رپورٹس کے مطابق کرپشن صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ادارہ جاتی کمزوری، انصاف کی تاخیر اور عوامی اعتماد کے خاتمے کا سبب بھی ہے۔ جب ایک عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ بڑے بڑے مالی سکینڈل بے نتیجہ ختم ہو جاتے ہیں تو اس کا قانون اور نظام پر سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ اس کو سب کچھ دھندلا نظر آتا ہے۔
اسی طرح ورلڈ بینک کی مختلف مطالعات میں واضح کیا گیا ہے کہ جن ممالک میں قانون کی عملداری کمزور ہو، وہاں سرمایہ کاری بھی کم ہوتی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی، صنعتی زوال اور بیروزگاری کی ایک بڑی وجہ یہی غیر یقینی صورتحال ہے۔ سرمایہ کار اس ملک میں پیسہ لگانے سے گھبراتے ہیں جہاں فیصلے اصولوں کے بجائے سفارش اور رشوت پر ہوں۔ ویسے اگر غور کریں تو مقتدر شخصیات اور طاقتور حلقے دنیا کی مشہور تعلیمی ادارے سے تعلیم یافتہ ہیں لیکن پھر بھی ناکام ہیں۔ یہ سب باتیں وہ با خوبی جانتے ہیں لیکن ہمارا فرض ہے ان کو بار بار یاد کرانا۔ ہمارا مسئلہ اس وقت صرف حکمرانوں، اشرافیہ یا طاقتور حلقوں تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی کسی نہ کسی سطح پر اس دھندلے نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ جس میں لاء قانونیت ہے۔ ہمارے ہاں لاء قانونیت کو فخریہ پیش کیا جاتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، جعلی میڈیسن، نقل مافیا، بجلی و گیس کی چوری، ٹیکس سے بچنے کے بہانے، زمینوں پر قبضے، کرپشن، جھوٹ ، فراڈ اور ہر کام میں دو نمبری، یہ رویے ہمیں اجتماعی طور پر کمزور کر چکے ہیں۔ ہم اخلاقی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ہم اپنے گھر کا کچرا دوسرے کے دروازے کے سامنے پھینک دیتے ہیں، ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ سڑکوں پر گندا کرتے ہیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں، ریاستی ادارے بھی اسی معاشرے سے نکلتے ہیں۔ اگر معاشرہ ایماندار نہ ہو تو ادارے کبھی بھی مضبوط نہیں ہو سکتے۔
نیب جیسے دیگر اداروں کا قیام اسی مقصد کے لیے تھا کہ بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے، مگر جب احتساب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی ساکھ صفر رہ جائے گی۔ جب جھوٹے مقدمات کی بھر مار ہو تو احتساب پر عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے اور احتساب کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب کیسز کی بنیاد سیاسی ہو تو پھر قانون مذاق ہی بنے گا۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی بار ہا پاکستان کو اصلاحات کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے پروگراموں میں شفافیت، ٹیکس اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری پر زور دیا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم ان اصلاحات کو وقتی دبائو سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور پھر پرانے ہتھکنڈوں پر واپس آ جاتے ہیں۔ جس کی مثال حال ہی میں خریدا گیا وہ طیارہ ہے جو 11ارب روپے میں خریدا گیا جبکہ قومی ادارہ 10ارب روپے میں فروخت کیا گیا، ایسے ہزاروں کیس لاء قانونیت کی پرورش کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری معیشت بار بار بحران کا شکار ہو جاتی ہے اور کشکول سے نجات ممکن نہیں۔ بیشتر سرکاری اداروں میں شکایتی نظام موجود ہے، مگر مہینوں تک کسی شکایات کا اندراج نہیں، شکایتی فون اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسائل نہیں، بلکہ عوام نے شکایت درج کرانے کی امید چھوڑ دی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شکایت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ادارے انہیں ہراساں کریں گے یا ان کے لیے مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ جب یہ خوف پھیل جائے تو نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایسا خوف عام ہے۔ کوئی شکایت درج نہیں کراتا۔ سچ بولنے والوں کی حوصلہ شکنی ایک تلخ حقیقت ہے۔ صحافی، سماجی کارکن یا عام شہری جو کرپشن، لاء قانونیت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اکثر دبائو، دھمکیوں اور مقدمات کا سامنا کرتا ہے۔ کئی مثالیں ہیں جہاں ایمانداری کی سزا جیل ، بے روزگاری یا سماجی تنہائی یا پھر موت کی صورت ہے۔ ایسے ماحول میں کون آگے بڑھے گا؟ کون حق کی بات کرے گا؟ دوسری جانب، ہمارے سیاسی نمائندوں کی مراعات بھی سوالیہ نشان ہیں ۔ سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک علاج، مہنگے دورے، پروٹوکول اور دیگر سہولیات عوام کے دل میں احساسِ محرومی کو بڑھاتی ہیں۔ جب ایک طرف عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہوں اور دوسری طرف حکمران طبقہ عیش و عشرت میں مصروف ہو، تو اعتماد کیسے قائم رہے گا؟۔ تاہم، اس تمام صورتحال کا حل صرف تنقید نہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم بھی اس نظام کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایمانداری، ذمہ داری اور قانون کی پاسداری کو نہیں اپنائیں گے، اس وقت تک بڑے پیمانے پر تبدیلی ممکن نہیں۔
ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ ٹیکس دینا، صفائی رکھنا، قوانین کی پابندی کرنا اور شکایت درج کرانا حب الوطنی کے عملی مظاہر ہیں، نہ کہ محض نعرے۔ حقدار کا ساتھ دیں۔ سماجی سطح پر فلاحی سوچ کو فروغ دینا بھی ناگزیر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں امیر طبقہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور تحقیقی مراکز پر دل کھول کر خرچ کرتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اگر صاحبِ حیثیت لوگ ذاتی نمود و نمائش کے بجائے عوامی فلاح پر توجہ دیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔میڈیا اور صحافت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ذمہ دار صحافت صرف سکینڈلز اچھالنے کا نام نہیں بلکہ مسائل کی جڑ تک پہنچنے اور حل کی نشاندہی کرنے کا نام ہے۔ صحافیوں کو بھی سنسنی خیزی کے بجائے تحقیق اور دیانت داری کو ترجیح دینی ہوگی۔ قوم تو چاہتی ہے کہ حکمران ایماندار ہوں، ادارے مضبوط ہوں اور ملک ترقی کرے، ہمیں خود بھی ایمانداری، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ جھوٹ اور کرپشن کی یہ دھند یونہی پھیلتی رہے گی، اور ہم ہر سال نئے دعوئوں اور پرانے مسائل کے ساتھ ایک ہی دائرے میں گھومتے رہیں گے۔

جواب دیں

Back to top button