واشنگٹن تا تہران: عالمی بساط پر سنگین بحران

واشنگٹن تا تہران: عالمی بساط پر سنگین بحران
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کے شطرنج پر ایک بار پھر مہروں کی بساط ایسے بچھائی جا رہی ہے کہ جس کا انجام بظاہر تباہی اور انسانی المیے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ فروری 2026ء کا یہ سرد مہینہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک ایسی قیامت خیز گرمی کا پیغام لا رہا ہے جس کی تپش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو جھلسا سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دس سے پندرہ دن کا الٹی میٹم اور یہ کھلم کھلا انتباہ کہ اگر جوہری معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو بہت برے نتائج برآمد ہوں گی، محض ایک روایتی دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسی خونی جنگ کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے جس کے بادل پوری شدت سے منڈلا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ، جو ایک طرف خود کو امن کا علمبردار اور’’ ڈیل میکر ‘‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں، دوسری جانب انہوں نے خطے میں امریکی افواج کی اتنی بڑی تعداد جمع کر دی ہے جس کی مثال دو ہزار تین کی عراق جنگ کے بعد آج تک نہیں ملتی۔
جنگ مسلط کرنے کے لیے، خواہ وہ کتنی ہی غیر منصفانہ کیوں نہ ہو، سامراجی طاقتوں کو ہمیشہ ایک اخلاقی یا قانونی بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موجودہ بیانیہ انتہائی متضاد، مبہم اور کئی حوالوں سے دو ہزار تین کی عراق جنگ کے جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی ہوبہو نقل دکھائی دیتا ہے۔ جارج ڈبلیو بش نے جس طرح وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں ( ڈبلیو ایم ڈی)، نائجر سے یورینیم کی مبینہ خریداری اور ’’ کَرو بال‘‘ (Curveball)نامی منحرف عراقی کے جھوٹے بیانات کا بہانہ بنا کر عراق جیسی مستحکم ریاست کو کھنڈر میں تبدیل کیا تھا، آج ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف عین وہی اسکرپٹ دہرا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی برادری کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے انتہائی سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے حالیہ مظاہروں کے دوران بتیس ہزار عام شہریوں کو ہلاک کیا اور آٹھ سو سینتیس افراد کو عوامی چوکوں میں کرینوں سے لٹکا کر پھانسی دینے کا منصوبہ بنایا جسے صرف امریکی دھمکیوں نے روکا۔ تاہم، اس صریح اور بظاہر مبالغہ آمیز دعوے کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مکمل شفافیت کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک تفصیلی سرکاری فہرست جاری کر دی جس کے مطابق حالیہ ہنگاموں اور بقول ان کے ’’ دہشت گردانہ کارروائیوں‘‘ میں تین ہزار ایک سو ستر افراد جان سے گئے، جن میں دو سو کے قریب سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ ایران کا یہ دو ٹوک مطالبہ کہ امریکہ اپنے بتیس ہزار ہلاکتوں کے ہوشربا دعوے کے ثبوت پیش کرے، واشنگٹن کے لیے ویسا ہی سوالیہ نشان بن چکا ہے جیسا کبھی عراق میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی عدم موجودگی پر اٹھا تھا۔
بات صرف انسانی حقوق کے مبینہ انخلا یا مظاہرین پر تشدد تک محدود نہیں، بلکہ امریکی جارحیت کا اصل زور ایران کے جوہری پروگرام کو بنیاد بنا کر دیا جا رہا ہے۔ اس حساس ترین معاملے میں بھی امریکی انٹیلی جنس کو اسی طرح شدید سیاسی دبائو کا نشانہ بنایا گیا ہے جس طرح ماضی میں سی آئی اے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں کہ2025ء میں امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ( ڈی این آئی) تلسی گبارڈ نے امریکی سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کے سامنے نہایت واضح الفاظ میں گواہی دی تھی کہ ایران فی الحال کوئی جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے 2003ء میں روکے گئے عسکری پروگرام کی دوبارہ منظوری ہرگز نہیں دی۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اعلانیہ اس مسلّمہ رپورٹ کو مسترد کیا، گبارڈ کی گواہی کو غلط قرار دیا اور شدید صدارتی دبائو کے تحت جون 2025ء میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کو اپنا تخمینہ بدل کر یہ کہنے پر مجبور کیا گیا کہ ایران محض چند ہفتوں یا مہینوں میں ایٹم بم بنا سکتا ہے۔ حقائق کو مسخ کرنے کی یہ وہ صریح ہیرا پھیری ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کلیدی اور انتہائی مکروہ کردار شامل ہے۔ نیتن یاہو پچھلی تین دہائیوں، یعنی 1992ء سے مسلسل یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ایران بم بنانے کے انتہائی قریب ہے، اور آج ایک بار پھر انہوں نے امریکی انٹیلی جنس کو بائی پاس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو نام نہاد ’’ ٹھوس شواہد‘‘ پیش کر کے خطے کو دانستہ طور پر بارود کے ڈھیر کی طرف دھکیل دیا ہے۔
پینٹاگون صدر ٹرمپ کو محض تنصیبات پر محدود حملوں تک محدود نہیں رکھ رہا بلکہ خونی خاکہ پیش کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ مکمل ( رجیم چینج، حکومت کی تبدیلی) کے منصوبے بھی میز پر رکھ چکا ہے۔ اسی دوران سفارتی محاذ پر جنیوا میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والے مذاکرات بظاہر بے نتیجہ اور وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں رہے، جنہیں امریکی اعلیٰ حکام خود ایک’’ نتھنگ برگر‘‘ (Nothing burger)قرار دے کر اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی مہم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا فضائی دفاعی نظام یا میزائل فورس نہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر خود امریکہ کے اندرونی سیاسی، معاشی اور انتخابی حقائق ہیں۔ 2026ء کے وسط مدتی ( مڈٹرم) انتخابات بالکل سر پر آ چکے ہیں، اور امریکی عوام کسی بھی نئی بیرونی جنگ میں کودنے کے شدید خلاف ہیں۔ معروف ریپبلکن سٹریٹجسٹ روب گوڈفرے نے انتہائی واضح الفاظ میں خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی طویل فوجی تصادم صدر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی موت کا پروانہ ثابت ہو گا کیونکہ اس سے کانگریس پر ان کا کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔ ان کا نہایت جاندار استدلال یہ ہے کہ وہ کٹر ووٹر (MAGA base)جس نے ٹرمپ کو تین بار صدارتی نامزدگی دلوائی، وہ غیر ملکی جنگوں اور غیر ضروری اخراجات سے شدید نالاں ہے۔ ٹرمپ نے خود ’’ ہمیشہ جاری رہنے والی جنگوں‘‘(Forever wars)کے خاتمے کا وعدہ کر کے اقتدار حاصل کیا تھا، اور اب اسی وعدے سے انحراف ان کی سیاسی ساکھ کو تباہ کر دے گا۔
اس تمام صورتحال میں عالمی اور سفارتی سطح پر بھی واشنگٹن مکمل طور پر تنہائی کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کے روایتی برطانیہ اور یورپی حلیف جنگ کی اس دھمکی کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں۔ یورپی یونین، جس کی تمام تر سفارتی اور عسکری توجہ روس کے ساتھ جاری کشیدگی اور یوکرین کی جنگ پر مرکوز ہے، مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی امریکی مہم جوئی کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں اور اس کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالس نے باقاعدہ طور پر روس کو یورپ کے لیے سب سے بڑا اور فوری خطرہ قرار دیا ہے۔





