Column

بھٹو۔گزدر۔ کراچی اور سندھ

بھٹو۔گزدر۔ کراچی اور سندھ
تحر یر : شکیل سلاوٹ
کراچی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا کوئی نیا عمل نہیں، مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر بار یہ کوششیں ناکام ہوئیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کراچی کا سندھ سے تعلق محض انتظامی نہیں بلکہ تاریخی، تہذیبی اور آئینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا کوئی بھی بیانیہ نہ ماضی میں کامیاب ہوا اور نہ مستقبل میں ہو سکتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کو عارضی طور پر وفاقی دارالحکومت بنایا گیا۔ اس فیصلے کو اس وقت کی ضرورت قرار دیا گیا، مگر سندھ کے عوام اور سیاسی قیادت میں یہ خدشہ شروع ہی سے موجود تھا کہ کہیں اس عارضی بندوبست کو مستقل شکل نہ دے دی جائے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک مضبوط اور اصولی مزاحمت سامنے آئی۔
اس مزاحمت کی نمایاں علامت ہاشم گزدر تھے۔ انہوں نے نہ صرف ایوانوں میں بلکہ عوامی سطح پر بھی واضح انداز میں کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا موقف سیدھا اور دو ٹوک تھا: کراچی سندھ کی زمین، تاریخ اور شناخت کا حصہ ہے، اور اسے کسی بھی صورت وفاقی تحویل میں دینا سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ہوگا۔ ہاشم گزدر کی آواز دراصل سندھ کے اجتماعی شعور کی آواز تھی، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہو گیا، مگر اس کے باوجود مختلف ادوار میں کراچی کی حیثیت کو متنازع بنانے کی کوششیں جاری رہیں۔ کبھی الگ صوبے کا نعرہ، کبھی وفاقی کنٹرول کی بات اور کبھی شہری و دیہی کی مصنوعی تقسیم یہ سب دراصل سندھ کی وحدت کو کمزور کرنے کی مختلف شکلیں تھیں۔
ان تمام ادوار میں پیپلز پارٹی نے ہمیشہ یہ کہا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے اور رہے گا۔ یہ موقف کسی وقتی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ تاریخ اور آئین کی بنیاد پر اپنایا گیا۔1973ء اس حوالے سے ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔ اسی برس پاکستان کو متفقہ آئین ملا، جس کے خالق شہید ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف ایک مقبول رہنما تھے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان توازن کے قائل بھی تھے۔ ان کی قیادت میں بننے والے آئین نے صوبوں کی شناخت اور حدود کو واضح کیا اور کراچی کے بارے میں پائے جانے والے تمام ابہامات کو ختم کر دیا۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ شہید بھٹو خود سندھ سے تعلق رکھتے تھے اور سندھ کی تاریخ، محرومیوں اور حساس معاملات سے بخوبی واقف تھے۔ ان کا واضح مقف تھا کہ ایک مضبوط وفاق اسی وقت ممکن ہے جب صوبوں کو ان کا آئینی حق دیا جائے۔ 1973ء کا آئین اسی سوچ کا مظہر ہے، اور اسی آئین کے تحت کراچی کو واضح طور پر سندھ کا حصہ تسلیم کیا گیا۔
بعد ازاں جب بھی اس حقیقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی، سندھ اسمبلی نے قراردادوں کے ذریعے دو ٹوک انداز میں اس کی نفی کی۔ ان قراردادوں پر ہونے والی تقاریر میں ایک بات مشترک رہی: کراچی سندھ کی معاشی شہ رگ ضرور ہے، مگر وہ سندھ سے الگ کوئی وجود نہیں رکھتا۔ یہ قراردادیں دراصل اس تاریخی موقف کی توثیق تھیں جو ہاشم گزدر کے دور سے چلا آ رہا تھا۔
اسی طرح گورنر ہائوس سندھ میں مختلف سرکاری مواقع پر ہونے والی تقاریر میں بھی بارہا اس حقیقت کو دہرایا گیا کہ کراچی سندھ کی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔ ان تقاریر میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کراچی کی کثیر الثقافتی حیثیت سندھ کی صدیوں پرانی روایت کا تسلسل ہے، نہ کہ اس سے انحراف۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کا کراچی سے متعلق موقف دراصل ہر سندھی کی آواز ہے۔ اس جماعت نے آمریتوں کے ادوار میں بھی، سیاسی دبائو کے باوجود بھی، کراچی کے معاملے پر کوئی ابہام نہیں چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کا عام آدمی آج بھی اس جماعت کو اپنی نمائندہ آواز سمجھتا ہے۔
کراچی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان مسائل کا حل سندھ سے علیحدگی نہیں۔ حل بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور جمہوری عمل کے تسلسل میں ہے۔ کراچی کو سندھ کے اندر مضبوط کرنا ہی دراصل کراچی کو مضبوط بنانا ہے۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے۔
ہاشم گزدر کی مزاحمت، شہید ذوالفقار علی بھٹو کا آئینی وژن، سندھ اسمبلی کی قراردادیں اور ریاستی ایوانوں کے بیانات سب ایک ہی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے۔ یہ حقیقت نہ ماضی میں بدلی جا سکی اور نہ مستقبل میں بدلی جا سکے گی۔

جواب دیں

Back to top button