عمرانی ہیلی کاپٹر سے مریم فیم لگژری جہاز تک

عمرانی ہیلی کاپٹر سے مریم فیم لگژری جہاز تک
تحریر : روشن لعل
ان دنوں بوجوہ ماضی کا وہ وقت بار بار یاد آرہا ہے، جب مسلم لیگ ن کے عظمیٰ بخاری جیسے ترجمان، عمران خان کی بذریعہ ہیلی کاپٹر بنی گالہ تا وزیراعظم ہائوس آمد و رفت پر تنقید کیا کرتے تھے۔ جو عظمیٰ بخاری یہ کہتے ہوئے عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر تنقید کرتی تھیں کہ وہ قومی خزانے کو بلاوجہ اپنی شاہ خرچیوں پر لٹا رہے ہیں آج وہی عظمیٰ بخاری انتہائی تابعداری سے مریم نواز کے لیے خریدے گئے لگژری جہاز پر دس ارب روپے سے زائد تصرف کو جائز قرار دینے کا فریضہ ادا کرتی نظر آرہی ہیں۔ جب عمران خان پر بذریعہ ہیلی کاپٹر، بنی گالہ سے وزیر اعظم ہائوس جانے پر تنقید ہوئی تھی اس وقت فواد چودھری نے یہ حیران کن انکشاف کیا تھا کہ، ہیلی کاپٹر کا استعمال قومی خزانے کا ہر گز زیاں نہیں ہے کیونکہ اس سفر پر صرف 55روپے فی کلو میٹر خرچہ آتا ہے۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے 55روپے فی کلومیٹر خرچ ہونے کے فواد چودھری کے دعوے کا جن لوگوں نے بری طرح پوسٹ مارٹم کیا، ان میں عظمیٰ بخاری سرفہرست تھیں۔ عظمیٰ بخاری کی مہربانی کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے خریدے گئے لگژری جہاز کی دس ارب روپے قیمت کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن محترمہ یہ ماننے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہیں کہ مریم نواز بھی عوام کا پیسہ، عمران خان کی طرح فضول خرچ کرنے کی مرتکب ہوئی ہیں۔ ویسے جو لوگ مریم نواز کی لگژری جیٹ خریدنے والی حرکت کو عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے جیسی حرکت کے مساوی نہیں سمجھتے وہ کسی حد تک درست ہیں، کیونکہ عمران خان نے چھپ چھپا کر نہیں بلکہ کھلم کھلا بنی گالہ سے وزیر اعظم ہائوس جانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا لیکن ہر چھوٹے بڑے کام کی نمائش کو ضروری سمجھنے والی مریم نواز صاحبہ نے نہ صرف اپنے لیے لگژری جہاز کی خریداری کو نمایاں نہیں کیا بلکہ اسے استعمال کرنے کا اعلان کرنا بھی ضروری نہ سمجھا۔ عمران خان جب بے دھڑک اور کھلم کھلا کچھ بھی کر دیا کرتے تھے، اس وقت انہیں ایک خاص قسم کی آشیر باد حاصل تھی، اب اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ مریم نواز صاحبہ کو مذکورہ قسم کی آشیر باد حاصل ہے یا نہیں ہے۔
اب اگر مریم نواز صاحبہ نے مذکورہ قسم کی کسی آشیر باد کے بغیر لگژری جہاز خریدا ہے تو ان کی جرات کا اعتراف نہ کرنا کنجوسی ہوگا۔ مریم نواز صاحبہ نے مبینہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو لگژری جہاز خریدا میڈیا رپورٹس ک مطابق اس کی قیمت، دس ارب روپے، اس پر فی گھنٹہ سفر کی لاگت 28لاکھ روپے، یہ جہاز اگر اڑائے بغیر صرف ہینگر میں کھڑا رکھا جائے تو ماہانہ خرچ 50لاکھ روپے اور اسے رکھنے کا سالانہ خرچہ 50سے55کروڑ روپے تک ہو گا۔ یہ لگژری جہاز، جس پر سفر صرف دنیا کے رئیس ترین لوگ ہی گوارا کرتے ہیں ، ا س کے متعلق کہا جارہا ہے کہ دنیا میں شاید ہی کسی پسنجر ایئر لائن نے اسے اپنے فلیٹ کا حصہ بنایا ہو، مگر عظمیٰ بخاری صاحبہ نے یہ وضاحت پیش کی ہے کہ یہ جہاز پنجاب ایئر کے نام سے بنائی جانے والی مبینہ ہوائی کمپنی کے فلیٹ میں شامل کرنے کے لیے خریدا گیا ہے۔ اس جہاز کے حوالے سے یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اسے ملک کے مالیاتی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر خریدا گیا ہے۔
مریم نواز کی پنجاب حکومت نے مالی سال 2025۔26کے لیے جو بجٹ منظور کیا اس میں وزیر اعلیٰ کی آمدورفت یا کسی اور مقصد کے لیے لگژری جہاز کی خریداری کی غرض سے براہ راست دس ارب روپے مختص کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بجٹ دستاویز میں کسی کام کے لیے کوئی بڑی رقم مختص نہ ہونے کے باوجود حکومتیں صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے خزانے سے ضرورت کے مطابق رقم خرچ کر سکتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کو صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس طرح سے رقم خرچ کرنے کی ضرورت زیادہ تر کسی قدرتی آفت یا کوئی حادثہ اچانک رونما ہونے کی صورت میں پیش آتی ہے۔ حکومتوں کے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے سے رقم خرچ کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک فیصلہ انتہائی اہم ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2016 ء کے دوران اپنے ایک فیصلے میں لکھا تھا کہ کابینہ سے پیشگی منظوری لیے بغیر، خزانے کا صوابدیدی اختیارات کے تحت استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے جو کچھ مزید کہا اس کا لب لباب یہ ہے کہ حکومت سے مراد کابینہ ہوتی ہے، جو صرف وزیر اعظم نہیں بلکہ وزیروں پر بھی مشتمل ہوتی ہے، لہذا صرف کسی سیکرٹری، کسی وزیر یا وزیر اعظم کو ذاتی حیثیت میں حکومت یا کابینہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے میں ذکر تو صرف وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کا تھا لیکن صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو بھی اس کا پابند سمجھا جاتاہے۔ مریم نواز کے لیے خریدے گئے لگژری جہاز کے متعلق اب تک ایسی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی کہ کسی کابینہ اجلاس میں اسے خریدنے کی پیشگی منظوری لی گئی تھی۔ اب اگر کسی لگژری جہاز کو خریدنے کے لیے نہ بجٹ میں الگ سے کوئی رقم مختص ہو اور نہ ہی صوابدیدی اختیارات کے تحت اسے خریدنے کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کابینہ سے پیشگی منظوری لی گئی ہو تو اس طرح سے جہاز پر صرف کی گئی رقم کے تصرف کو مالی بے ضابطگی کیوں نہ سمجھا جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے خریدے گئے لگژری جہاز کی خریداری سے جڑا ایک پہلو تو ممکنہ مالی بے ضابطگی اور دوسرا المناک پہلو یہ ہے کہ دس ارب روپے سے زیادہ رقم میں خریدے گئے اس جہاز کی خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب پنجاب کے سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں، ریٹائرمنٹ پر ملنے والے ، پینشن ، گریجوایٹی اور لیوانکیشمنٹ جیسے واجبات میں کی گئی کٹوتیوں کے خلاف سول سیکرٹریٹ کے سامنے سراپا احتجاج ہیں۔ واضح رہے کہ مریم نواز حکومت نے پنجاب کا خزانہ خالی ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے صوبے کے سرکاری ملازمین کے حق کے طور پر تسلیم شدہ ان واجبات میں کٹوتی کی تھی جو دیگر صوبوں اور وفاقی ملازمین کو اب بھی ماضی کی طرح مل رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ پنجاب حکومت کا خزانہ صوبے کے غریب سرکاری ملازمین کو ان کا جائز اور تسلیم شدہ حق دینے کے لیے تو خالی قرار دے دیا جاتا ہے لیکن مریم نواز کے لیے لگعری جہاز کی خریداری کے وقت اس میں نہ جانے کہاں سے پیسہ آجاتا ہے۔
واضح رہے کہ 2017ء میں ہمارے پاکستان ایئرو ناٹیکل کامپلیکس کامرہ میں 10سے30سیٹوں پر مشتمل کمیوٹر ایئر کرافٹ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مریم نواز کے لیے خریدے گئے لگژری جہاز کے حوالے سے ایک اور خیال ذہن میں آیا ہے کہ کیا حکومت پنجاب نے اسرائیلی اشتراک سے لگژری جہاز بنانے والی گلف سٹریم ائیرو سپیس کمپنی کے ساتھ سودا کرنے سے پہلے پاکستان ائیرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ سے رجوع کرتے ہوئے یہ پوچھا تھا کہ وہاں مریم نواز کی ضرورت کے مطابق کوئی کمیوٹر جہاز بنایا جا سکتا ہے۔







