Column

بنوں حملہ: دہشت گردی کیخلاف قومی عزم

بنوں حملہ: دہشت گردی کیخلاف قومی عزم
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر گزشتہ روز ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں نے انٹیلی جنس بنیاد پر جاری آپریشن کے دوران قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ بروقت اور موثر کارروائی میں پانچ دہشت گرد ہلاک کردئیے گئے۔ یہ واقعہ نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ اس عزم کی بھی تجدید کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی، جن میں ایک خودکُش بمبار بھی شامل تھا، کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کیا۔ اگلے دستے نے گاڑی میں سوار خودکُش بمبار کو بروقت روک کر اس کے ناپاک عزائم ناکام بنائے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ آور بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ اس طرح فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور جرأت نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ تاہم مایوسی کے عالم میں دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی فورسز کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دو جوانوں نے شہادت پائی۔ یہ قربانی اس حقیقت کی غماز ہے کہ پاکستان کی افواج دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑی ہیں اور ہر لمحہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں تاکہ ملک اور قوم محفوظ رہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز، جو مانسہرہ سے تعلق رکھتے تھے، ایک بہادر کمانڈنگ آفیسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی قیادت اور جرأت مندانہ کارروائیاں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت تھیں۔ سپاہی کرامت شاہ کی شہادت بھی اسی جذبۂ حب الوطنی کی مثال ہے، جو پاکستانی سپاہی کی پہچان ہے۔ ان شہدا کی قربانیاں محض اعداد نہیں بلکہ وہ زندہ داستانیں ہیں، جو ہر پاکستانی کے دل میں وطن سے محبت اور دفاع کا جذبہ تازہ کرتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار اور شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوم اور اس کی افواج نے کبھی بھی دہشت گردی کے سامنے سر نہیں جُھکایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود عناصر سے ملتے ہیں اور اس کی ذمے داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ گروہ حافظ گل بہادر نیٹ ورک سے منسلک ہے، جس کے سرغنہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پاکستان بارہا اس امر کی نشان دہی کرچکا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔ دہشت گردی کی سرپرستی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ یہ صورت حال علاقائی تعاون اور سفارتی سطح پر موثر اقدامات کی متقاضی ہے۔ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے ذمے دار عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، خواہ وہ کہیں بھی موجود ہوں۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی) کی بروقت کارروائی نے ایک اور بڑے سانحے کو روک دیا۔ شیخ یوسف خیمہ بستی سے ایک مبینہ خاتون خودکُش حملہ آور کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب نوجوان لڑکیوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ذہن سازی سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کی جارہی تھی، جو ایک نہایت تشویش ناک رجحان ہے۔ یہ پہلو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اب صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی اور ڈیجیٹل محاذ پر بھی لڑی جارہی ہے۔ اس کے لیے ریاستی اداروں، والدین، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ نوجوان نسل کو شدت پسندی کے زہر سے محفوظ رکھا جاسکے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے تقدس کو پامال کرنے والے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے شہدا کی قربانی کو قوم کا سرمایہ قرار دیا اور فتنہ الخوارج کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور پوری قوم اس جنگ میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان قربانیوں کی مقروض رہے گی۔ سیاسی قیادت کا یہ متحد موقف قومی یکجہتی کا مظہر ہے اور دہشت گردوں کے لیے واضح پیغام کہ پاکستان تقسیم نہیں ہو گا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک طویل اور کٹھن جدوجہد ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے اور آج بھی فورسز پوری قوت سے سرگرم ہیں۔ تاہم اس جنگ کی کامیابی کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں، ہمیں سماجی، تعلیمی اور فکری محاذ پر بھی مضبوطی لانا ہوگی۔ شدت پسند بیانیے کا مقابلہ دلیل، تعلیم اور قومی اتحاد سے ممکن ہے۔ بنوں کا واقعہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی اور امن کی قیمت قربانی ہے۔ افواجِ پاکستان کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت نے ثابت کیا کہ وہ ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور قوم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم متحد رہیں، افواجِ پاکستان پر اعتماد برقرار رکھیں اور ہر اس عنصر کو مسترد کریں جو ملک میں انتشار اور خوف پھیلانا چاہتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان شاء اللہ اسی عزم اور اتحاد کے ساتھ امن، استحکام اور ترقی کی منزل حاصل کرے گا۔
زبانیں ہماری پہچان اور فخر
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ روز مادری زبانوں کا عالمی دن بھرپور انداز میں منایا گیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، ثقافت اور شناخت کی امین ہوتی ہے۔ کسی بھی قوم کی اصل روح اس کی زبان میں بستی ہے اور مادری زبان وہ پہلا وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کو سمجھنا اور اپنے جذبات بیان کرنا سیکھتا ہے۔ پاکستان لسانی اعتبار سے ایک خوبصورت اور رنگا رنگ گلدستہ ہے۔ یہاں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوی، شینا، بلتی اور دیگر متعدد علاقائی زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ہر زبان اپنے اندر صدیوں پر محیط روایات، لوک داستانیں، شاعری اور دانش سموئے ہوئے ہے۔ یہ تنوع پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ یہی زبانیں ہمارے معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرتی اور مقامی ثقافتوں کو زندہ رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے جدید دور میں گلوبلائزیشن اور بڑی زبانوں کے غلبے کے باعث چھوٹی زبانوں کو خطرات لاحق ہیں۔ کئی بولیاں ایسی ہیں جو نئی نسل میں منتقل نہیں ہو رہیں، جس سے ان کے معدوم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی مادری زبانوں کو گھریلو اور تعلیمی سطح پر فروغ دیں۔ بچوں کو اپنی مادری زبان سکھانا نہ صرف ان کی ذہنی نشوونما کے لیے مفید ہے بلکہ انہیں اپنی شناخت سے جوڑے رکھتا ہے۔ریاستی سطح پر بھی علاقائی زبانوں کے تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نصاب میں علاقائی ادب کو شامل کرنا، مقامی زبانوں میں تحقیق اور اشاعت کی حوصلہ افزائی اور میڈیا میں ان زبانوں کے لیے جگہ مختص کرنا اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز بھی زبانوں کے فروغ کا موثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قومی زبان اردو اور دیگر علاقائی زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ تکمیل کرنے والی ہیں۔ ایک مضبوط اور متحد پاکستان وہی ہوسکتا ہے، جو اپنی تمام زبانوں کو عزت اور برابری کا مقام دے۔ لسانی ہم آہنگی قومی یکجہتی کو تقویت دیتی ہے۔ مادری زبانوں کا عالمی دن ہمیں پیغام دیتا ہے کہ اپنی زبان سے محبت دراصل اپنی جڑوں سے محبت ہے۔ اگر ہم نے اپنی زبانوں کو محفوظ رکھا تو ہم اپنی تاریخ، ثقافت اور شناخت کو بھی محفوظ رکھ سکیں گے۔ یہی شعور مستقبل کی مضبوط بنیاد ہے۔

جواب دیں

Back to top button