پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آئوٹ سورسنگ

پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آئوٹ سورسنگ
تحریر: رفیع صحرائی
پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی بڑے پیمانے پر آئوٹ سورسنگ نے صوبے کی تعلیمی بحث کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حکومت کے مطابق گیارہ ہزار سے زائد اسکول نجی شراکت داری کے تحت دئیے جا چکے ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اس عمل کو تعلیمی اصلاحات کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے۔ پتا چلا ہے کہ اب حکومت پنجاب نے مزید ہزاروں اسکولز آٹ سورس کرنے کے اگلے مرحلے پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسکولز کے بعد پنجاب کے کالجز کی باری بھی آنے والی ہے۔ حکومت پنجاب کا موقف ہے کہ آئوٹ سورسنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اسکولز کی انرولمنٹ بڑھی ہے اور اساتذہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب اساتذہ تنظیمیں، والدین اور سماجی حلقے اسے سرکاری تعلیم کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی تصور کرتے ہوئے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ قدم تعلیمی معیار بلند کرنے کا ذریعہ بنے گا یا سرکاری نظامِ تعلیم کی تدریجی نجکاری کی طرف پیش رفت ہے؟ پنجاب میں قریباً ایک کروڑ بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔ دیہی علاقوں میں کم انرولمنٹ، عمارتوں کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی اور نگرانی کے ناقص نظام جیسے مسائل برسوں سے موجود ہیں۔ ایسے میں حکومت نے کم کارکردگی والے یا کم داخلوں کے حامل اسکولوں کو پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے تحت نجی اداروں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ نجی شعبہ انتظامی چستی، احتساب اور بہتر تدریسی ماحول فراہم کر سکتا ہے۔ یہ استدلال اپنی جگہ وزن رکھتا ہے۔ اگر کوئی اسکول برسوں سے غیر فعال ہے، وہاں اساتذہ موجود نہیں یا بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے تو اصلاح کی کوشش ناگزیر ہے۔ سوال اصلاح کے طریقہ کار کا ہے۔
حکومتی دعوئوں کے مطابق آئوٹ سورس کیے گئے اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ ہوا ہے، اساتذہ کی حاضری بہتر ہوئی ہے اور بنیادی سہولیات میں بہتری آئی ہے۔ بعض مقامات پر نجی شراکت داروں نے عمارتوں کی مرمت، فرنیچر اور آئی ٹی سہولیات فراہم کی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست نگرانی اور پالیسی سازی تک محدود رہے گی جبکہ روزمرہ انتظام نجی ادارے سنبھالیں گے۔ یوں وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ماڈل تعلیمی نظام میں نئی روح پھونک سکتا ہے لیکن کسی بھی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اعداد و شمار کے بجائے اس کے پائیدار نتائج پر ہوتا ہے۔ اساتذہ تنظیموں کا سب سے بڑا خدشہ روزگار سے متعلق ہے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق صوبہ پنجاب میں اساتذہ کی تینتالیس ہزار سے زائد اسامیاں ختم کی گئیں یا غیر فعال ہو گئیں۔ یہ تو وہ اسامیاں تھیں جو برسوں سے منظور شدہ تھیں جبکہ ہر سال طلبہ کی تعداد کے بڑھنے کی شرح کے مطابق نئی اسامیاں مدت سے منظور نہیں کی گئیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبہ پنجاب میں قریباً 70ہزار مزید اساتذہ کی ضرورت تھی۔ بجائے اس کے کہ صوبائی حکومت اساتذہ کی کمی کو پورا کرتی اس نے پہلے سے موجود اسامیاں بھی ختم کر کے اسکولز کو آئوٹ سورس کر دیا جس سی سرکاری ملازمین میں بے چینی پھیلی۔ اگر ریاست خود اپنے ملازمین کے تحفظ کی ضمانت نہ دے سکے تو اصلاحات کا اخلاقی جواز کمزور پڑ جاتا ہے۔
دوسرا اہم اعتراض شفافیت کا ہے۔ کن بنیادوں پر اسکول منتخب کیے گئے؟ نجی اداروں کے انتخاب کا معیار کیا تھا؟ فیس اسٹرکچر اور داخلہ پالیسی کیا ہوگی؟ کیونکہ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ بعض اچھی کارکردگی کے حامل اسکولز بھی آئوٹ سورس ہوئے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آئوٹ سروس کیے گئے اسکولز میں میٹرک پاس اور ان ٹرینڈ ٹیچرز بھی پڑھا رہے ہیں۔ یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ ان اسکولز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ فرضی ٹیچرز بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ ان کی جگہ کم تعلیم یافتہ لوگ پڑھا رہے ہیں۔ ان اساتذہ کو حکومت کی جانب سے کم از کم مقرر کی گئی اجرت کا چوتھا حصہ بطور تنخواہ دیا جا رہا ہے۔ ان اسکولز میں فرضی انرولمنٹ کی باتیں بھی سننے میں آ رہی ہیں۔ اگر نگرانی کا موثر نظام نہ کیا گیا تو تعلیم ایک کاروباری سرگرمی میں بدل سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں غربت پہلے ہی ایک کروڑ بچوں کو اسکول سے باہر رکھے ہوئے ہے۔
تیسرا اور بنیادی سوال آئینی ہے۔ پاکستان کا آئین ریاست کو 5سے 16سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے اگر آئوٹ سورسنگ کے بعد کسی بھی شکل میں مالی بوجھ والدین پر منتقل ہوتا ہے تو یہ اصول متاثر ہو سکتا ہے۔ آئوٹ سورس کیے گئے اسکولز کی انتظامیہ کو حکومت پنجاب فی طالب علم معاوضہ ادا کر رہی ہے۔ حکومتی پالیسیاں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں حکومت پنجاب کی طرف سے اساتذہ کی مراعات، ڈسپیرٹی الائونس، پنشن اور گریجویٹی میں لگائے گئے کٹ ہیں۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی مراعات اور حقوق پر یک طرفہ طور پر فیصلہ کر کے انہیں عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ ان حالات میں کیا گارنٹی ہے کہ چند سال بعد یہی حکومت یا آنے والی کوئی حکومت آئوٹ سورس کیے گئے اسکولز کی انتظامیہ کے ساتھ طے کی گئی شرائط میں تبدیلی نہیں کرے گی۔ یہ کروڑوں بچوں کے مستقبل کا سوال ہے جسے پنجاب حکومت نے اپنے رویے سے بے یقینی کا شکار بنا دیا ہے۔
حکومت اسے نجکاری نہیں بلکہ’’ شراکت داری‘‘ قرار دیتی ہے۔ بظاہر اسکولوں کی ملکیت ریاست کے پاس ہی رہتی ہے مگر انتظام نجی شعبہ سنبھالتا ہے۔ مسئلہ اصطلاح کا نہیں، نتیجے کا ہے۔ اگر اس عمل سے معیار بہتر ہو، داخلے بڑھیں اور مفت تعلیم کا حق محفوظ رہے تو اسے مثبت اصلاح کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ تدریجاً ریاست کی ذمہ داری کم کرنے کا ذریعہ بن جائے تو خدشات درست ثابت ہوں گے۔ ان خدشات کے سدِباب کے لیے ضروری ہے کہ ہر اسکول کی کارکردگی کے اعداد و شمار عوامی سطح پر دستیاب ہوں۔ موجودہ ملازمین کے روزگار اور مراعات کی ضمانت دی جائے۔ طلبہ پر کسی بھی اضافی مالی بوجھ کو سختی سے روکا جائے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ آئوٹ سورسنگ عارضی بندوبست ہو، اسے مستقل متبادل نہ بنایا جائے۔
پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آئوٹ سورسنگ ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ یہ بیک وقت امید اور اندیشے دونوں کو جنم دے رہا ہے۔ اگر اس پالیسی کا مقصد واقعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے تو اسے سیاسی نعرے سے بہت آگے بڑھ کر عملی دیانت داری اور مسلسل احتساب کے ساتھ نافذ کرنا ہوگا۔ تعلیم محض ایک شعبہ نہیں، ریاست اور معاشرے کے درمیان بنیادی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے اعتماد کی فضا قائم کرنا ضروری ہے۔ پنجاب کا یہ تجربہ آنے والے برسوں میں طے کرے گا کہ ہم نے اصلاح کا راستہ اختیار کیا یا ذمہ داری سے دستبرداری کا۔ وقت ہی اس سوال کا حتمی جواب دے گا مگر احتساب کی نگاہ آج ہی سے درکار ہے۔







