Column

غزہ میں امن کی جدوجہد پاکستان کا موقف اور عالمی

غزہ میں امن کی جدوجہد پاکستان کا موقف اور عالمی کردار

غزہ میں پائیدار امن کی جدوجہد نے آج کے دور میں نئی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر صدارت منعقدہ غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان کا واضح موقف اور مشن نہ صرف غزہ میں دیرپا امن کا قیام ہے بلکہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے اور یہ فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے۔ یہ بیان محض سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مستقل اور واضح رہنمائی کا مظہر ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اس مسئلے میں شامل ہیں، لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے اور ان کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو رد کیا جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت یہ اجلاس ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ غزہ پیس بورڈ کا قیام اپنے اہداف اور عالمی اہمیت کے اعتبار سے بے مثال ہے اور اس اجلاس میں شریک ہونا بذاتِ خود ایک اعزاز ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کی مشترکہ کاوشوں کے بغیر غزہ میں مستقل اور دیرپا امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ یہ کوششیں صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خاص طور پر کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا جائز حق دیا جائے اور غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں فوری بند کی جائیں تاکہ خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو۔ یہ ایک موثر حکمت عملی ہے جو نہ صرف موجودہ کشیدگی کو کم کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں بڑے بحرانوں اور انسانی المیوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خطاب میں کہا کہ غزہ پیس بورڈ کے اہداف اور اہمیت کے اعتبار سے کوئی متبادل نہیں اور اقوامِ متحدہ کو موثر اور قابلِ عمل بنانا ضروری ہے۔ یہ بیان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عالمی قیادت نے اس مسئلے کو کس حد تک اہمیت دی ہے اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی بروقت سفارتی مداخلت سے پاک بھارت کشیدگی کم ہوئی اور جنوبی ایشیا کو ممکنہ بڑے تصادم سے بچایا گیا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مہارت اور عالمی سطح پر متوازن موقف کی عکاسی ہی۔ غزہ میں پائیدار امن کے لیے صرف سیاسی اقدامات کافی نہیں۔ اس کے لیے معاشرتی، اقتصادی اور انسانی ترقی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ غزہ کے عوام صدیوں سے مظالم اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بنیادی سہولتوں، صحت اور تعلیم کے مسائل نے ان کی زندگی کو مشکل ترین بنادیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا موقف یہ ہے کہ صرف سیاسی معاہدوں سے ہی مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ انسانی بنیادوں پر اصلاحات اور تعاون بھی لازمی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کو دہرایا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ نہ صرف سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد کروائے، بلکہ اس کے ساتھ فلسطینی عوام کی روزمرہ زندگی میں بہتری کے لیے عملی اقدامات بھی کرے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک سیاسی یا سفارتی قوت ہے بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی ذمے داری کی حامل قوم بھی ہے۔غزہ پیس بورڈ کا قیام ایک ایسا موقع فراہم کرتا ہے جہاں مختلف عالمی طاقتیں، انسانی حقوق کے ادارے اور مقامی رہنما ایک پلیٹ فارم پر آ کر مسئلے کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان عالمی مسائل میں متوازن اور مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے بیان نے واضح کیا کہ پاکستان امن کی کوششوں میں شراکت دار ہونے کے ساتھ کسی بھی جارحانہ رویے کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے آج کا دن واقعی تاریخ کا سنہری باب ثابت ہوسکتا ہے، جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قدم، ہر اجلاس اور ہر فیصلہ عالمی سطح پر انسانی زندگیوں کو بچانے اور خطے میں استحکام لانے کی کوشش ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ عالمی قیادت کو اس مسئلے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ صرف پاکستان یا کسی ایک ملک کی کوششیں ہی کافی نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مضبوط اور موثر اقدامات کرے، تاکہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور غزہ میں پائیدار امن قائم ہو۔ آخر میں، وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں صرف سیاسی مفادات نہیں بلکہ انسانی اور اخلاقی اصول بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ پاکستان نے اپنے موقف کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات بلکہ عالمی امن اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے بھی کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ غزہ میں امن کا قیام صرف ایک سیاسی مقصد نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔ پاکستان کی قیادت، افواج اور عوام نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ظلم، جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف واضح موقف اختیار کیا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت یا غیر محفوظ صورت حال کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کی کوششیں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے اہم ہیں۔

کراچی: گیس لیکیج سے

دھماکہ، 16افراد جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سولجر بازار میں ہونے والا گیس لیکیج سے دھماکہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے نہ صرف 16انسانی جانوں کو نگل لیا، بلکہ شہری زندگی میں بے پناہ خوف اور عدم تحفظ کی صورت حال بھی پیدا کر دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبح کے قریباً 4بجے ایک تین منزلہ عمارت میں گیس لیکیج کے باعث دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کی فوری کارروائی کے باوجود اب تک 16افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 4بچے اور 6خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 12سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ الم ناک واقعہ نہ صرف انسانی المیے کی یاد دلاتا بلکہ اس امر کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور قانونی ضابطوں پر عمل درآمد کس حد تک ناکافی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کی تنگ گلیوں اور محدود وسائل کی وجہ سے امدادی کارروائیاں کافی مشکل ثابت ہوئیں۔ ڈی جی ریسکیو 1122بریگیڈئیر واجد نے بتایا کہ دھماکا پہلی منزل پر ہوا اور ملبے سے مزید لاشیں نکالنے کے لیے خصوصی آلات استعمال کیے جارہے ہیں۔ دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے بتایا کہ مزید تحقیقات اور کیمیکل ایگزیمین کے بعد ہی دھماکے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ عمارت کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی محکمہ شہری انتظامیہ فیصلہ کرے گا تاکہ ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہری علاقوں میں عمارتوں کی قانونی حیثیت، حفاظتی اصولوں اور معیاری تعمیراتی ضوابط کی پابندی لازمی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، گیس سلنڈرز اور دیگر خطرناک آلات کے غیر محتاط استعمال سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے، بلکہ شہری فضا میں خوف اور بے چینی بھی پھیلتی ہے۔ سولجر بازار کا دھماکا ایک انتباہ ہے کہ اگر ہم ضابطوں کی خلاف ورزی جاری رکھیں، تو ایسے حادثات دوبارہ رونما ہوسکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ حکومت، بلدیاتی ادارے اور شہری سب مل کر حفاظتی ضوابط کو عملی جامہ پہنائیں، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کریں اور شہریوں کو آگاہی فراہم کریں۔ ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی قابلِ ستائش ہے، لیکن اصل بچا تب ممکن ہوگا جب حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات وقت پر کیے جائیں گے۔ یہ المناک واقعہ صرف ایک دھماکا نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی قدر، ضابطوں کی پاسداری اور ذمے داری کے فقدان کا عکاس ہے۔ سولجر بازار کے متاثرین کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ احتیاط اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے اور معاشرتی شعور اور نظم و ضبط ہی مستقبل کے لیے حقیقی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button