سی سی ڈی۔۔۔۔

سی سی ڈی۔۔۔۔
فیاض ملک
فیاضیاں ۔۔۔۔۔
گزرے ہوئے 78 برسوں میں مختلف قسم کے جرائم کی رفتار میں اضافے کی شرح کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1957ء میں ڈکیتی کی وارداتوں کی شرح33فی صد تھی، جو 1994ء میں بڑھ کر 50فی صد اور 1999ء میں 80فی صد سے تجاوز کر گئی۔ اغوا کی وارداتوں میں 1982ء کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا اور اغوا برائے تاوان، جرائم پیشہ افراد کے لیے آمدن کا ایک زبردست ذریعہ بن گیا۔ 1980ء کے بعد سے اب تک ملک میں بے گناہ انسانوں کا جتنا قتل عام ہوا ہے، ان سے متعلق سوچ کر ہی روح لرز جاتی ہے۔ قتل، ڈکیتی اور دیگر وارداتوں میں سال بہ سال اضافہ ہی ہورہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جرائم میں مسلسل اضافہ، امن و امان کی دگرگوں صورت حال کے حوالے سے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اکثر خطرناک مجرم سنگین سے سنگین جرم کرنے کے باوجود آسانی سے رہا ہوجاتے ہیں، جس سے مجرموں کے حوصلے بڑھتے ہیں، جبکہ شریف شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے۔
اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر دور حکومت میں حکمرانوں کی جانب سے سنگین جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے بڑے دعوں کا ڈھیر لگایا جاتا تھا۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلیے فنڈز کی فراہمی کی جاتی تھی۔ لیکن جب بات ہوتی کارکردگی کی تو نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پاتھ کی شکل میں نکلتا تھا۔ میں اگر یہاں پنجاب کی بات کروں تو سابق ادوار میں صرف پولیسنگ اصلاحات کے نام پر ٹرانسفر پوسٹنگ کا کھیل کھیلا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دعووں، سیاسی تقریروں میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک تھی مگر عملی طور پر کچھ نہیں تھا ۔اسی صورتحال کے پیش نظر موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں روز بروز بڑھتے ہوئے کرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے گزشتہ سال فروری میں جب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ( سی سی ڈی) کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس وقت مجھ سمیت ہر شہری کا یہی خیال تھا کہ سی آئی اے سے آرگنائزڈ کرائم یونٹ اور اب سی سی ڈی کے نام سے بننے یہ یونٹ بھی صرف حکومت کی سیاسی شعبدہ بازی ہی ہوگی۔ کیونکہ اگر پوری پنجاب پولیس کے تمام ونگز ملکر بھی سنگین وعام نوعیت کے جرائم پر قابو نہیں پاسکے تو یہ سی سی ڈی کیا کر لیں گی۔کابینہ نے پولیس کے اندر اس نئے ونگ کی منظوری دیدی۔ اور اس کے بعد اس کی کمانڈ ایک ایسے آفیسر کے سپرد کی گئی جس کو دنیا سہیل ظفر چٹھہ کے نام سے جانتی ہیں، محکمہ پولیس کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ عناصر میں اپنی ایگریسو پالیسیوں کی وجہ سی شہرت رکھنے والے اس آفیسر نے سی سی ڈی کا کنٹرول سنبھالتے ہی وہ کر دکھایا جس کی کسی کو بھی امید نہیں تھی، جی ہاں سہیل ظفر چٹھہ نے جرائم کے خاتمے کیلئے زبانی کلامی دعوے کرنے کی بجائے عملی طور اقدامات اٹھائے۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورے پنجاب میں جرائم میں نمایاں کمی سامنے آئی ہیں، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا کلیدی کردار نظر بھی آتا ہے، اس ڈیپارٹمنٹ کی تابڑ توڑ کارروائیوں سے منظم جرائم پیشہ گروہوں کے پنجاب میں بنائے گئے نیٹ ورکس ٹوٹ گئے، سال 2025ء پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جہاں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ( سی سی ڈی) سنگین اور منظم جرائم کے خلاف فیصلہ کن قوت کے طور پر سامنے آیا۔ سرکاری حکام اور جرائم کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں بڑے جرائم کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی، جس کا بڑا کریڈٹ سی سی ڈی کی موثر اور ہدفی کارروائیوں کو دیا جا رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سی سی ڈی کی شکل میں کی جانیوالی پنجاب حکومت کی پولیسنگ اصلاحات سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ یہی نہیں اگر مسلسل حکومتی حمایت، مزید اصلاحات اور سخت احتساب کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہا تو کوئی بعید نہیں کہ اس کے ذریعے جرائم میں کمی کے اس رجحان کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، پولیس کی کارکردگی میں بہتری ،امن و امان کا قیام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ڈیپارٹمنٹ کا قیام بہت ہی احسن اقدام ہے۔
واضح رہے کہ سی سی ڈی کو ایف آئی آر کے اندراج، تحقیقات اور کارروائی کا اختیار حاصل ہے، یعنی سڑکوں اور بازاروں میں دندنانے اور شریف شہریوں کی زندگی کو عذاب بنانے والے ان غنڈوں کو یہ ڈیپارٹمنٹ بطریقِ احسن نکیل ڈال رہاہے۔ تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ جرائم کی مجموعی صورتِ حال کا تحقیقی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔ بلاشبہ اب جرائم صرف چوری، ڈکیتی اور قتل وغارت گری تک محدود نہیں، اور محض بدنامِ زمانہ جرم ہی جرائم میں ملوث نہیں ہیں یا ایسا بھی نہیں ہے کہ کچھ مخصوص شعبے ہیں جن میں جُرم وقوع پذیر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے کوئی شعبہ ایسا نہیں بچا، جِس میں کسی نہ کسی حد تک جُرم نہ ہوتا ہو۔ کہیں زیادہ، کہیں کم، مگر جُرم نے ہر جگہ اپنے پائوں جما لیے ہیں۔ سو، جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ محکمہ پولیس میں اہم بنیادی اصلاحات کے ساتھ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو بھی تفتیش کے جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
سی سی ڈی ایک خصوصی پولیس ادارہ ہے جس کا مقصد صوبے بھر میں منظم جرائم کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ ہاں اب بھی اگر کوئی یہ پوچھیں کہ سی سی ڈی (CCD)کیا ہے تو اس کا مختصر سا خلاصہ: سی سی ڈی CCD پنجاب پولیس کا جدید اور طاقتور ادارہ ہے جو جرائم کے خلاف جنگ میں ایک نیا اور موثر قدم ہے۔ اس کا مقصد صرف گرفتاری نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام، انصاف کی فراہمی، اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
جہاں سی سی ڈی نے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کی قیادت میں پورے صوبے میں سنگین جرائم کی شرح کو واضح طور پر کنٹرول کیا ہے وہی اس ڈیپارٹمنٹ نے نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے کیلئے بھی انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ پہلی پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کی سپلائی لائن کو توڑا گیا ہے ان کے خلاف تاریخ کا سب سے کامیاب آپریشن کئے گئے۔کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے منشیات فروشوں کے خلاف تاریخ کا سب سے کامیاب آپریشن کر کے مختصر ترین وقت میں پنجاب سے منشیات فروشی کے مکروہ دھندے کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تمام آن لائن منشیات فروشی کرنے والوں کے خلاف بھی موثر کاروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت ’’ جرائم اور منشیات سے پاک پنجاب ‘‘ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔ یہاں یہ بات بھی پورے دعوے سے لکھ رہا ہوں کہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اور ان کی ٹیم نے انتہائی کم وسائل اور نفری کی واضح کمی کے باوجود حقیقی معائنوں میں کرائم کو کنٹرول کرکے وہ کارنامہ کر دکھایا ہے جس کی کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا تھا۔





