مہنگی بجلی کا بحران، ذمہ دار کون؟

مہنگی بجلی کا بحران، ذمہ دار کون؟
روشن لعل
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا بحران سال 2006ء سے 2014ء تک جس طرح جاری رہا وہ تو بڑی حد تک کم ہو چکا ہے لیکن حکومت کی طرف سے مہنگی بجلی فراہم کرنے سے جو بحران سال 2014ء کے بعد شروع ہو وہ بجلی کے مسلسل مہنگا ہوتے رہنے کی وجہ سے مستقبل قریب میں کسی صورت ختم یا کم ہوتا نظر نہیں آتا۔ بجلی مہنگی ہونے سے پیدا ہونے والے بحران کے بھی وہی لوگ ذمہ دار ہیں جن کی ناعاقبت اندیشیوں کی وجہ سے یہاں لوڈ شیڈنگ کا بحران پیدا ہوا تھا لیکن ان لوگوں کا کمال یہ ہے کہ اپنے حواریوں کے ذریعے یہ اپنی غفلتو ں کا ذمہ بڑی آسانی سے دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ مہنگی بجلی سے جان چھڑانے کے لیے سولر تنصیبات پر اپنی بچتیں خرچ کر نے والوں کو جب زبردستی مہنگی بجلی کا صارف بنائے رکھنے کے لیے جال بچھایا گیا تو اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے حسب سابق یہ پراپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا کہ بجلی کے مسلسل بحران کی ذمہ دار پیپلز پارٹی کی وہ دو حکومتیں ہیں جن میں سے ایک نے آئی پی پیز سے تھرمل بجلی پیدا کرنے کے معاہدے کیے اور دوسری لوڈ شیڈنگ کا بحران ختم کرنے میں ناکام رہی۔
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کی تاریخ یہ ہے کہ اس کا آغاز ضیاء الحق کے دور میں ہوا۔ ضیا دور سے جاری لوڈ شیڈنگ کے فوری خاتمے کے لیے سال 1993ء میں بے نظیر بھٹو شہید کے دوسرے دور حکومت میں جب پرائیویٹ سیکٹر کو تھرمل بجلی کی پیداوار میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تو ان سے یہ معاہدہ کیا گیا کہ دس سال تک حکومت ان سے ان کی کل پیداوار ی استعداد کے مطابق بجلی خریدنے کی پابند ہو گی ۔ آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے کے مطابق حکومت ان کے پاور سٹیشنوں سے پیدا ہونے والا ہر بجلی کا یونٹ خریدتی رہی ، اسی وجہ سے نہ صرف بے نظیر بھٹو کے مذکورہ دور حکومت کے دوران بلکہ میاں نواز شریف اور پرویز مشرف کی ادوار حکومت کے آٹھ برس تک بھی ملک میں لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان تک نہیں تھا ۔
ضیا دور سے جاری جس لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کیا اس کا دوبارہ آغاز 2006ء میں بجلی کی انتہائی طلب کے مہینوں میں ہوا۔ سال 2007ء میں جون اور جولائی کے دوران لوڈ شیڈنگ کا بحران اس حد تک پہنچ گیا تھا جو 2005 ء میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ 2006ء کے جون اور جولائی میں بجلی کی طلب اور رسد کا عدم توازن 411میگا واٹ تھا۔ اس سے دو سال قبل یعنی 2004ء میں انتہائی طلب کے مہینوں میںواپڈا کے پاس 1215میگا واٹ فاضل بجلی موجود تھی۔ سال2003 ء تک ملک میں بجلی کے استعمال میں اضافہ کی سالانہ شرح 4.48فیصد رہی تھی۔ واپڈا کے پالیسی سازوں نے 2004ء کے آغاز میں یہ اندازہ ظاہر کیا تھا کہ جس شرح سے بجلی کے استعمال اور طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے مطابق ملک میں 10۔2009ء تک ضرورت کے مطابق فاضل بجلی موجود ہے۔ یہ اندازہ اس وقت غلط ثابت ہوا جب 2005ء میں فاضل بجلی 1215میگا واٹ سے کم ہو کر 440میگا واٹ رہ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ جو بجلی آئندہ چھ برس کے لیے کافی سمجھی جارہی تھی اس کا تقریباً 63فیصد ایک سال ہی میں کم ہوگیا۔ بجلی کی کھپت اور طلب میں اضافہ کی شرح کو دیکھتے ہوئے واپڈا حکام اور اس وقت کے حکمرانوں کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں تھے اور ہنگامی بنیادوں پر بحران کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خاتمہ کی تیاریاں شروع ہو جانی چاہئے تھیں مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔
جب بے نظیر بھٹو شہید نے آئی پی پیز کے ساتھ دس برس تک بجلی خریدنے کا معاہدہ کیا تو ساتھ ہی یہ پالیسی بھی طے کی کہ سستی پن بجلی کے منصوبے جن کی تعمیر کا دورانیہ طویل ہوتا، ان پر بھی کام شروع کر دیا جائے تاکہ جب دس برس بعد آئی پی پیز سے معاہدہ ختم ہو تو وافر مقدار میں پن بجلی کی دستیابی کی وجہ سے کسی قسم کا بحران پیدا نہ ہو۔ اس پالیسی کی سب سے بڑی مثال بے نظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا جانے والا غازی بروتھا پن بجلی کا منصوبہ ہے جس سے 1400میگا واٹ کے قریب بجلی پیدا ہوتی ہے۔ بے بنیاد پراپیگنڈے اور سازشوں کے تحت بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم کرنے کے بعد میاں نواز شریف نے ان کے شروع کیے گئے دیگر ترقیاتی کاموں کے ساتھ پن بجلی کے منصوبے بھی ختم کر دیئے۔ ایسا ہونے کی ایک مثال بونگ اسکیپ پن بجلی کا منصوبہ ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں لاریب انجینئرنگ کو بونگ اسکیپ پر79میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ (LOI)جاری کیا گیا تھا۔ بونگ اسکیپ پن بجلی کا جو منصوبہ 1999ء تک مکمل کیا جانا تھا اسے بھی بے نظیر بھٹو کے دور میں شروع کیے گئے دیگر منصوبوں کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔ میاں نواز شریف، بونگ اسکیپ اور اس قسم کے پن بجلی پیدا کرنے والے دیگر منصوبوں کی اہمیت سمجھنے میں بری طرح ناکام رہے۔ مشرف دور میں شروع ہونے والا لوڈ شیڈنگ کا بحران جب زرداری دور میں شدت اختیار کر گیا تو اس سے نمٹنے کے لیے 2009ء میں بونگ اسکیپ پن بجلی منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز ہوا ۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ بے نظیر کے جس منصوبے کو نواز شریف نے ختم کیا تھا اسے دوبارہ شروع تو آصف علی زرداری نے کیا لیکن سال 2013ء میں اس کا افتتاح میاں نوازشریف کے ہاتھوں ہوا۔
جب 2008ء میں آصف علی زرداری کی حکومت کو میاں نواز شریف اور مشرف کی ناعاقبت اندیشیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا لوڈ شیڈنگ کا بحران ورثے میں ملا تو انہوں نے بھی بے نظیر بھٹو کی طرح تھرمل رینٹل پاور سٹیشنوں کے ذریعے لوڈ شیڈنگ فوری ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے منصوبے پر کرپشن کے الزامات کی اس قدر بوچھاڑ کر دی گئی انہیں مجبوراً یہ منصوبہ رول بیک کرنا پڑا۔ یہ سند نہیں دی جاسکتی کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر کرپشن سے پاک تھا لیکن رینٹل پاور سٹیشنوں کا کیس ایک عرصہ تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہنے کے باوجود وہ لوگ عدالت میں کرپشن کے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے جو کئی مہینوں تک کرپشن کرپشن کی رٹ لگاتے رہے۔
میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی پہلے بے نظیر بھٹو دور میں آئی پی پیز کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں اور پھر آصف علی زرداری کے رینٹل پاور منصوبے پر اندھا دھند تنقید کرتے رہے لیکن تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے خود بجلی پیدا کرنے کے ایسے تھرمل پاور منصوبوں کے معاہدے کیے جن کی وجہ سے نہ صرف عوام کو مہنگی ترین بجلی فراہم کی جارہی ہے بلکہ مہنگی بجلی سے جان چھڑانے کے لیے اگر کوئی اپنی بجلی کی ضرورتیں سولر پاور پر منتقل کرتا ہے تو اس کے گلے میں دوبارہ سے مہنگی تھرمل پاور بجلی کا پھندا ڈال دیا جاتا ہے۔ مذکورہ حقائق سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی کے بحران کا اصل ذمہ دار کون ہے۔





