Column

روزے کے جسمانی فوائد

روزے کے جسمانی فوائد
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
انسانی جسم ایک نہایت پیچیدہ، حساس اور حکیمانہ نظام ہے۔ اس کی بقا، توانائی اور صحت کا انحصار اس توازن پر ہے جو غذا، آرام اور جسمانی افعال کے درمیان قائم رہتا ہے۔ روزہ اس توازن کو بحال کرنے کا ایک فطری اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ یہ صرف روحانی عبادت نہیں بلکہ جسم کے لیے ایک ایسا قدرتی وقفہ ہے جو اسے صفائی، مرمت اور تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
روزہ جسم کو اس مسلسل بوجھ سے آزاد کرتا ہے جو اسے ہر وقت کھانے، ہضم کرنے اور غذائی اجزاء کو جذب کرنے کے عمل سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مگر ایک افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم روزے کے دوران حاصل ہونے والے ان عظیم جسمانی فوائد کو افطار اور سحری میں مرغن، تلی ہوئی اور غیر متوازن غذائیں کھا کر ضائع کر دیتے ہیں ۔ یوں روزہ جو جسم کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا تھا، بعض اوقات جسم پر مزید بوجھ کا سبب بن جاتا ہے۔
ان سطور میں ہم روزے کے جسمانی فوائد، اس کے سائنسی اثرات، اور مرغن غذائوں کے ذریعے ان فوائد کے ضیاع کی حقیقت کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔
عام حالات میں انسانی جسم مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ معدہ، جگر، لبلبہ (Pancreas)اور آنتیں ہر وقت غذا کو ہضم کرنے اور اسے توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل میں مصروف رہتی ہیں۔ یہ مسلسل عمل جسم کے نظام کو تھکا دیتا ہے ۔
روزہ اس نظام کو ایک وقفہ دیتا ہے۔ جب انسان کئی گھنٹوں تک کھانے سے رک جاتا ہے تو جسم کو ہضم کے مسلسل عمل سے آرام ملتا ہے۔ اس دوران جسم اپنی توانائی کو مرمت، صفائی اور اصلاح کے عمل میں استعمال کرتا ہے۔
یہ وقفہ جسم کے لیے ویسا ہی ہے جیسے مشین کو بند کر کے اس کی مرمت کی جائے۔
روزے کے دوران جسم کئی اہم مراحل سے گزرتا ہے ۔
روزے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں جسم خون میں موجود گلوکوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
جب خون میں موجود گلوکوز ختم ہو جاتا ہے تو جسم جگر میں ذخیرہ شدہ گلیکوجن کو استعمال کرتا ہے۔
جب گلیکوجن بھی ختم ہو جاتا ہے تو جسم چربی کو توانائی کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں روزہ جسم کے لیے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔یہ عمل وزن کم کرنے، کولیسٹرول کم کرنے اور جسم کو صحت مند بنانے میں مدد دیتا ہے۔
روزے کے دوران جسم کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے اندر جمع شدہ زہریلے مادوں کو خارج کرے۔ عام حالات میں جسم اپنی زیادہ تر توانائی ہضم کے عمل میں استعمال کرتا ہے، مگر روزے میں یہ توانائی صفائی کے عمل میں استعمال ہوتی ہے۔جگر، گردے اور آنتیں بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں اور جسم سے نقصان دہ مادے خارج کرتے ہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے روزہ کسی نعمت غیر مترقبہ سے ہرگز کم نہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ روزہ انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے۔ جب انسان مسلسل کھاتا رہتا ہے تو انسولین مسلسل خارج ہوتی رہتی ہے، جس سے جسم انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتا ہے۔ روزہ اس عمل کو کم کرتا ہے۔
اس سے: خون میں شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے۔
انسولین کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
ذیابیطس کا اچانک اور مسلسل بڑھنے کا خطرہ کم سے کم ہوتا ہے۔
روزہ دل کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔
یہ: کولیسٹرول کم کرتا ہے۔
خون کی نالیوں کو صاف کرتا ہے۔
بلڈ پریشر کو متوازن کرتا ہے۔
یہ عوامل دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔
روزے کے دوران جسم ایک اہم عمل شروع کرتا ہے جسے سائنسی زبان میں ’’ آٹوفیجی‘‘ (Autophagy)کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں جسم پرانے، کمزور اور خراب خلیوں کو ختم کرتا ہے اور نئے، صحت مند خلیے بناتا ہے۔
یہ عمل بڑھاپے کو سست کرتا ہے اور جسم کو صحت مند رکھتا ہے۔
روزہ معدے اور آنتوں کو آرام دیتا ہے۔
اس سے: تیزابیت کم ہوتی ہے۔
بدہضمی کم ہوتی ہے۔
قبض میں بہتری آتی ہے۔
نظامِ ہضم مضبوط ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم افطار کے وقت وہ غذائیں استعمال کرتے ہیں جو روزے کے فوائد کو ختم کر دیتی ہیں۔ سموسے، پکوڑے، تلی ہوئی اشیاء اور مرغن غذائیں جسم پر بوجھ ڈالتی ہیں۔
یہ غذائیں: معدے پر دبائو ڈالتی ہیں۔
کولیسٹرول بڑھاتی ہیں۔
بلڈ پریشر زیادہ کرتی ہیں۔
شوگر میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
یہ وہی مسائل ہیں جنہیں روزہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
روزے کے بعد معدہ حساس حالت میں ہوتا ہے۔ جب اچانک زیادہ اور بھاری غذا کھائی جاتی ہے تو: معدہ متاثر ہوتا ہےبدہضمی ہوتی ہے،تیزابیت بڑھتی ہی، یہ عمل جسم کو بہت نقصان پہنچاتا ہے۔
تلی ہوئی غذائوں میں ٹرانس فیٹس اور نقصان دہ چکنائیاں ہوتی ہیں۔ یہ: دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں، کولیسٹرول بڑھاتی ہیں، وزن میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ چیزیں جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔
روزے کے ثمرات حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ افطار ہلکی اور متوازن غذا سے کرنا چاہیے، جیسے: کھجور،پانی،پھل،کچی سبزیاں۔ یہ غذائیں جسم کے لیے مفید ہیں۔
کچی سبزیاں روزے کے فوائد کو بڑھاتی ہیں۔ ان میں فائبر، وٹامنز اور منرلز ہوتے ہیں جو جسم کو مضبوط بناتے ہیں۔
یہ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
فطرت کا اصول اعتدال ہے۔ روزہ اعتدال سکھاتا ہے، مگر ہم افطار میں اس اصول کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
روزہ جسم کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ جسم کو صاف کرتا ہے، مرمت کرتا ہے اور صحت مند بناتا ہے۔ مگر مرغن اور تلی ہوئی غذائیں ان فوائد کو ضائع کر دیتی ہیں۔
اگر ہم روزے کے حقیقی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی افطار اور سحری کو سادہ، متوازن اور فطری بنانا ہوگا۔ میں سمجھنا ہو گا کہ روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ جسم اور روح کی اصلاح کا ایک مکمل نظام ہے۔ اور اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم افطار میں کیا کھاتے ہیں۔
جب انسان روزے کو اس کی اصل روح اور فطری اصولوں کے مطابق اپناتا ہے، تو وہ نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی طور پر بھی ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔
جب روزے کے بعد اچانک زیادہ مقدار میں تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور غذائیں کھائی جاتی ہیں تو جسم کے اندر کئی منفی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں وقتی طور پر محسوس نہ ہوں، مگر مسلسل ایسا کرنے سے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
روزے کے دوران لبلبہ نسبتاً آرام کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ انسولین کی طلب کم ہوتی ہے۔ مگر جب افطار میں میٹھی، نشاستہ دار اور چکنائی والی اشیاء زیادہ مقدار میں کھائی جاتی ہیں تو: اچانک خون میں شوگر بڑھ جاتی ہے،انسولین کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے،لبلبہ پر شدید دبائو پڑتا ہے۔ یہ عمل طویل عرصے میں انسولین مزاحمت (Insulin Resistance)کو بڑھا سکتا ہے، جو ذیابیطس کی بنیاد ہے
جگر جسم کی صفائی اور چکنائی کو توڑنے کا اہم عضو ہے۔ روزے میں جگر چربی کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے اور جسم کی صفائی کا عمل تیز ہوتا ہے۔ مگر جب افطار میں بہت زیادہ تلی ہوئی غذا لی جائے تو: جگر کو اضافی چکنائی سنبھالنی پڑتی ہے، فیٹی لیور (Fatty Liver)کا خطرہ بڑھتا ہے، خون میں ٹرائی گلیسرائیڈز بڑھ جاتے ہیں، یوں روزے کا صفائی کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔
تلی ہوئی غذائوں میں موجود ٹرانس فیٹس اور سیر شدہ چکنائیاں: کولیسٹرول بڑھاتی ہیں، خون کی نالیوں کو سخت کرتی ہیں، دل پر دبائو بڑھاتی ہیں۔ جب کہ روزہ دل کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، مگر غلط غذا اس فائدے کو کم کر دیتی ہے۔
افطار میں اچانک بھاری غذا کھانے سے: معدہ پھیل جاتا ہے،تیزابیت بڑھ جاتی ہے،سینے میں جلن ہوتی ہے، بدہضمی اور اپھارہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ رمضان میں معدے کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ روزہ خود معدے کے لیے مفید ہے۔
بہت سے روزے دار رمضان میں وزن کم کرنے کے بجائے بڑھا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ: افطار میں زیادہ کیلوریز، تلی ہوئی اشیا، میٹھی ڈرنکس، رات گئے تک کھانا، جب کہ روزہ دراصل وزن کم کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے، ہم اسے الٹا بنا دیتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ روزے کے جسمانی فوائد برقرار رہیں تو افطار کا طریقہ درج ذیل ہونا چاہیے: افطار کے وقت پانی ، کھجور (1یا 2عدد) کوئی ایک آدھ پھل لیں ۔
نماز کے بعد ہلکی غذا، کچی سبزیوں کا سلاد، دال یا سبزی لیں، گہرے تیل میں تلی ہوئی اشیائ، زیادہ میٹھی چیزیںسافٹ ڈرنکس، وغیرہ سے مکمل پرہیز لازم ہے۔
سحری میں ایسی غذا لینی چاہیے جو: فائبر سے بھرپور ہوں، پروٹین مناسب مقدار میں ہوں، زیادہ نمک نہ ہو، مثلاً: دلیہانڈا ( ابلا ہوا)، کچی سبزیاں، دہی،یہ غذا دن بھر توانائی فراہم کرتی ہے اور پیاس کم لگتی ہے۔
روزہ انسان کو اعتدال سکھاتا ہے۔ یہ نفس کو قابو میں رکھنے اور خواہشات کو محدود کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ مگر جب افطار میں ہم حد سے تجاوز کرتے ہیں تو دراصل ہم روزے کے پیغام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
روزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کم کھانا بہتر ہے، سادہ کھانا بہتر ہے، فطری غذا بہتر ہے، روزہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ جسم کو صاف کرتا ہے، مرمت کرتا ہے اور نئی توانائی دیتا ہے۔ مگر اگر ہم افطار کو دعوتِ شکم بنا دیں تو یہ نعمت اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ روزے کے دوران حاصل ہونے والی صفائی برقرار رکھی جائے، جسم کو بوجھ سے بچایا جائے،اعتدال اپنایا جائے، جب انسان روزے کو صحیح فہم اور درست غذا کے ساتھ اختیار کرتا ہے تو وہ نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی طور پر بھی نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔
روزہ دراصل جسم کو ری سیٹ کرنے کا عمل ہے۔ اور اگر ہم اس ری سیٹ کے فوراً بعد اسے دوبارہ بوجھ تلے دبا دیں تو یہ ہماری اپنی کوتاہی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ
روزہ شفا ہے، بشرط یہ کہ ہم اسے شفا رہنے دیں۔

جواب دیں

Back to top button