Column

قومی کھیل ہاکی کی تباہی میں فیڈریشن کا کردار

قومی کھیل ہاکی کی تباہی میں فیڈریشن کا کردار
میری بات
روہیل اکبر
پاکستان کا قومی کھیل ہاکی کبھی ہماری پہچان، ہمارا فخر اور ہماری عالمی شناخت اور قومی وقار کی علامت تھا ایک وقت تھا جب گرین شرٹس میدان میں اترتے تو مخالف ٹیموں کے دل دہل جاتے تھے دنیا جانتی تھی کہ ہاکی کا اصل بادشاہ پاکستان ہے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہم عالمی رینکنگ میں پیچھے سے بھی پیچھے جا چکے ہیں سوال یہ ہے کہ اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ہماری قومی ٹیم نے تین مرتبہ Olympic Gamesمیں گولڈ میڈل جیتا، چار مرتبہ Hockey World Cup اپنے نام کیا اور ایشین سطح پر بے شمار فتوحات حاصل کیں یہ وہ سنہری دور تھا جب سمیع اللہ خان، حسن سردار، سہیل عباس اور شہباز احمد جیسے لیجنڈز نے دنیا کو اپنی مہارت کا قائل کیا مگر پھر کیا ہواکہ ہم ہیرو سے زیرو ہو گئے اصل مسئلہ انتظامی نااہلی، اقربا پروری، سیاسی مداخلت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان کا ہے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں برسوں سے وہی چہرے گردش کر رہے ہیں کارکردگی صفر لیکن عہدے برقرار ہیں اور تو اور گراس روٹ سطح پر ہاکی کو خیر آباد کہہ دیا گیا نہ اسکول و کالج میں ہاکی کو بحال کیا گیا نہ ہی کلب سسٹم کو مضبوط کیا گیا صوبائی اور ڈویژنل سطح پر ٹیلنٹ موجود ہے لیکن اسے سامنے لانے کا کوئی مربوط نظام نہیں ساہیوال، لاہور، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، بہاولپور سمیت پورے ملک میں آج بھی نوجوان ہاکی کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں گرائونڈ ختم ہو گئے کوچنگ ختم ہوگئی اور کھیلوں کا سامان بھی بچوں اور انکے والدین کی پہنچ سے دور ہوگیا جبکہ دنیا میں ہاکی تیزی سے بدل رہی ہے آسٹریلیا، ہالینڈ اور بیلجیئم نے جدید ٹیکنالوجی، فٹنس سائنس اور پروفیشنل لیگ سسٹم کے ذریعے اپنی ٹیموں کو مضبوط کیا لیکن ہم آج بھی پرانے ڈھانچے میں قید ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ فیڈریشن میں شفاف انتخابات ہوں سابق عظیم کھلاڑیوں کو انتظامی کردار دیا جائے اسکول اور کالج سطح پر ہاکی بحال کی جائے کارپوریٹ سپانسر شپ کو متحرک کیا جائے اور سب سے بڑھ کر احتساب کا نظام قائم کیا جائے کیونکہ قومی کھیل صرف ایک کھیل نہیں یہ قومی وقار کا مسئلہ ہے اگر آج بھی ہم نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں پاکستان کی ہاکی کا سنہری دور پڑھیں گی اب فیصلہ حکمرانوں، اسپورٹس حکام اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نام نہاد عہدیداروں کو کرنا ہے کیا وہ تاریخ کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا تاریخ کا المیہ؟ ویسے تو یہ ایک المیہ ہی ہے کہ سڈنی میں ہمارے قومی ہیروز کی جس طرح تذلیل کی گئی پاکستان ہاکی فیڈریشن میں نااہلی، اقربا پروری اور قومی وقار کی سنگین تذلیل کی اس بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ پرو لیگ میں شرکت کی اجازت اور خطیر گرانٹ ملتے ہی Pakistan Hockey Federationکے اندر اقربا پروری، بدانتظامی اور من پسند تقرریوں کا بازار گرم کر دیا گیا قومی ٹیم کو بین الاقوامی سطح پر رسوا کرنے کے ذمہ دار وہی افراد ہیں جو آج بھی اہم عہدوں پر براجمان ہیں پرو لیگ کے پہلے فیز میں متنازع شخصیت انجم سعید کو بطور مینجر ٹیم کے ساتھ بھیجا گیا، حالانکہ ان پر پہلے ہی مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات موجود تھے دورے کے دوران واپسی پر انہیں مبینہ طور پر جہاز میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے پکڑا گیا آف لوڈ کیا گیا اور ہزاروں ڈالر جرمانہ عائد ہوا یہ واقعہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان کی تذلیل کا باعث بنا مگر فیڈریشن خاموش رہی دوسرے فیز میں اولمپئن شہباز سینئر کو آبزرور بنا کر بھیج دیا گیا لیکن اصل نااہل مینجمنٹ وہی برقرار رکھی گئی نتیجہ یہ نکلا کہ سڈنی ایئرپورٹ پر لے اوور کے دوران قومی کھلاڑی دربدر ہوتے رہے ہوٹل بکنگ منسوخ ہو گئی اور ٹیم کو غیر موزوں اور مشکوک رہائش گاہ میں ٹھہرایا گیا ان تصاویر نے سوشل میڈیا پر پاکستان کی جگ ہنسائی کرائی یہ سب کچھ اتفاق نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت اور اقربا پروری کا تسلسل ہے فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت سمیت صدر طارق اور جنرل سیکرٹری رانا مجاہد اس تمام بدانتظامی کے براہِ راست ذمہ دار ہیں سوال یہ ہے کہ کیا قومی ٹیم ذاتی دوستوں اور منظورِ نظر افراد کو نوازنے کا ذریعہ بن چکی ہے؟ مزید شرمناک امر یہ ہے کہ انہی متنازعہ شخصیات کو چیف آف آرمی سٹاف انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کے فائنل رائونڈ میں اہم عہدوں سے نواز دیا گیا شہباز سینئر کو ڈائریکٹر ٹورنامنٹ اور انجم سید کو چیف کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا کیا یہی میرٹ ہے؟ کیا یہی احتساب ہے؟ پی ایچ ایف کا انتخابی عمل بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے میرٹ کی جگہ پسند و ناپسند نے لے لی ہے جب کھلاڑیوں کو انصاف نہیں ملے گا تو وہ دلجمعی سے کیسے کھیلیں گے؟ نتیجہ سب کے سامنے ہے ہم اولمپکس کے لیے کوالیفائی تک نہ کر پائے جو ایک قومی سانحہ ہے زوال کی بنیادی وجوہات کا اگر جائزہ لیا جائے تو چند اہم نکات ہیں جنہیں دور کرلیا جائے تو ہماری ہاکی دوبارہ اپنے پاں پر کھڑی ہوسکتی ہے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں تسلسل کی کمی، سیاسی مداخلت اور عہدوں کی بندر بانٹ نے نظام کو کمزور کیا کیونکہ کھیل منصوبہ بندی سے چلتا ہے، شخصیات سے نہیں ایک وقت تھا جب اسکول، کالج اور محکمے ہاکی کے مراکز ہوتے تھے آج وہ نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے نہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام موثر ہیں، نہ نچلی سطح پر کوچنگ کا معیار مضبوط ہے جبکہ دنیا تیزی سے آسٹرو ٹرف پر منتقل ہوئی مگر پاکستان نے اس تبدیلی کو بروقت نہیں اپنایا نتیجہ یہ کہ ہمارے کھلاڑی جدید رفتار اور فٹنس کے تقاضوں سے پیچھے رہ گئے ہمیں مالی مسائل اور سپانسر شپ کی کمی کا بھی سامنا ہے جب کھیل میں سرمایہ کاری کم ہو جائے تو سہولیات اور تربیت بھی ختم ہو جاتی ہے جس کا ہم شکار ہیں سوال یہ ہے کہ کیا بحالی ممکن ہے؟ جی ہاں، لیکن صرف جذبات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے سب سے پہلے فیڈریشن میں میرٹ پر تقرریاں اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے ہر ضلع میں انٹر سکول اور انٹر کالج ٹورنامنٹس کو لازمی بنایا جائے ٹیلنٹ وہیں سے نکلے گا ہر ڈویژن میں معیاری آسٹرو ٹرف گرائونڈ اور کوچنگ اکیڈمیز قائم کی جائیں سمیع اللہ خان، شہباز احمد، حسن سردار، محمد ثقلین اور شہزادہ عالمگیر جیسے نام صرف تاریخ کا حصہ نہ رہیں بلکہ نظام کا حصہ بنیں جو تجربہ سے نئی نسل کی رہنمائی کریں اور پاکستان سپر لیگ کی طرز پر ایک مضبوط ہاکی لیگ شروع کی جائے جو کھیل کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے جس سے میڈیا کوریج اور سپانسر شپ سے مالی استحکام آئے گا آخری بات قومیں اپنے ہیروز کو بھول جائیں تو کھیل مر جاتے ہیں۔ لیکن اگر نیت، قیادت اور منصوبہ بندی درست ہو تو واپسی ناممکن نہیں کیونکہ پاکستان نے ہاکی میں دنیا کو فن سکھایا ہی اور دوبارہ بھی سکھا سکتا ہے بشرطیکہ ہم ماضی پر فخر کرنے کے ساتھ حال کو سنوارنے کا عزم بھی کریں۔

جواب دیں

Back to top button