سلی گڑی کوریڈور: نئی دہلی کی ’’نازک گردن

سلی گڑی کوریڈور: نئی دہلی کی ’’نازک گردن‘‘
قادر خان یوسف زئی
جب ہم جغرافیائی حقیقتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو بعض اوقات چند کلومیٹر کا فاصلہ پوری ریاست کے وجود اور بقا کا فیصلہ کن عنصر بن جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست اور دفاعی حکمت عملی میں ’’چکنز نیک‘‘یا سلی گڑی کوریڈور محض ایک زمینی پٹی نہیں بلکہ بھارت کے لیے وہ اعصابی تنائو ہے جو اسے ہر لمحہ خوفزدہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ مغربی بنگال میں واقع یہ تنگ سی گزرگاہ، جو بمشکل 20سے 22کلومیٹر چوڑی ہے، بھارت کی آٹھ شمال مشرقی ریاستوں کو مرکزی سرزمین سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ ہے۔ یہ امر عیاں ہوتی ہے کہ یہ خطہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ بھارت کی سالمیت کا وہ نازک ترین نکتہ ہے جہاں ایک معمولی سی لرزش بھی پورے وفاق کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔
تقریباً 200کلومیٹر طویل یہ راہداری اپنی تزویراتی اہمیت کے باعث ایک ایسی عالمی بساط بن چکی ہے جہاں چین، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کی سرحدیں ایک دوسرے کے مفادات سے ٹکراتی ہیں۔ اس کوریڈور کی سب سے بڑی کمزوری اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے، جو اسے دشمن کے لیے ایک آسان ہدف بناتا ہے۔ شمال میں تبت کی چمبی وادی، جو چین کے زیر کنٹرول ہے، اس کوریڈور سے محض 100کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بیجنگ نے اس علاقے میں سڑکوں، ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کا جو جال بچھایا ہے، وہ بھارت کے لیے کسی ڈرانے خواب سے کم نہیں۔ 1962 ء کی ہند چین جنگ کی یادیں ہوں یا 2017ء کا ڈوکلام تنازع، ہر بار یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ اگر چین صرف 130کلومیٹر کی پیش قدمی کر لے تو بھارت کا اپنے شمال مشرقی حصے سے رابطہ مکمل طور پر کٹ سکتا ہے۔ یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ 50ملین انسانوں کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کا سوال ہے جو پلک جھپکتے ہی باقی ملک سے کٹ کر ایک جزیرے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
اگر معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو سلی گڑی کوریڈور بھارت کی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ آسام سمیت شمال مشرقی ریاستیں بھارت کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) میں تقریباً 6سے 10فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں سے بجلی کے گرڈز، گیس اور تیل کی پائپ لائنیں، ریلویز اور ہائی ویز گزرتی ہیں۔ بھارت کی ”ایکٹ ایسٹ پالیسی” کا سارا دارومدار اسی تنگ راہداری پر ہے۔ اگر یہ راستہ مسدود ہو جائے تو نہ صرف تجارت رک جائے گی بلکہ ان ریاستوں میں بسنے والے 40ملین سے زائد افراد کے لیے اشیائے ضرورت کی فراہمی ایک ناممکن چیلنج بن جائے گی۔ دارجلنگ جیسے سیاحتی مراکز اور سکم جیسے حساس سرحدی علاقوں کی معیشت اسی کوریڈور کے دم سے سانس لے رہی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والا کوئی بھی بحران صرف علاقائی نہیں بلکہ قومی معاشی ڈھانچے کو زمین بوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت جس طرح پڑوسی ممالک میں مداخلت کرنے کا وتیرہ اختیار کیا ہوا ہے ، اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی یہ نازک گردن بھی اس کی اپنی انتہا پسند پالیسی کی زد میں آسکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کی نظر میں اس خطے کو کثیر الجہتی خطرات کا سامنا ہے۔ ایک طرف چین کی عسکری قوت ہے تو دوسری طرف بنگلہ دیش کی بدلتے ہوئے سیاسی و اقتصادی حالات بھی نئی بحثوں کو جنم دے رہے ہیں۔ لال منیر ہاٹ ایئر بیس کی ممکنہ بحالی اور وہاں چین کے بڑھتے ہوئے قدم بھارت کے لیے نگرانی اور جاسوسی کے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور انتہا پسند گروہوں جیسے الفا (ULFA) یا این ایس سی این ( NSCN) کی سرگرمیاں اس علاقے کے امن کو دائو پر لگائے رکھتی ہیں۔ یہ خطہ محض روایتی جنگ کا میدان نہیں بلکہ غیر روایتی خطرات (Hybrid Warfare)کا بھی مرکز ہے۔
بھارت جانتا ہے کہ یہ کوریڈور اس کی نازک معاشی شہ رگ ہے اس لئے اس کی حفاظت کے لئے خوفزدہ رہتا ہت۔ تری شکتی کور (XXXIII Corps)کی تعیناتی، انڈو تبت بارڈر پولیس اور ساشسترا سیما بل کے دستوں میں اضافہ اس امر کی دلیل ہے کہ نئی دہلی اس ”نازک گردن” کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ ایس۔400ایئر ڈیفنس سسٹم کی تنصیب، برہموس میزائلوں کی موجودگی اور ہاشیمارہ میں رافیل طیاروں کے اسکواڈرن کی تعیناتی نے اس علاقے کو ایک ناقابل تسخیر قلعے میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ 2025ء تک چوپڑا، کشن گنج اور بامونی جیسے مقامات پر نئی چھائونیوں کا قیام اظہار ہے کہ بھارت بنگلہ دیش اور دیگر سرحدی علاقوں سے ہونے والی ہر نقل و حرکت پر خوفزدہ رہتا ہے۔ تاہم صرف عسکری طاقت کافی نہیں ہوتی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی اس کوریڈور کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ بھارت اب صرف سلی گڑی پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل راستوں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ میانمار کے ذریعے کالادان کوریڈور، بنگلہ دیش کے ساتھ ریلوے روابط کی بحالی اور ہیلی۔ مہندر گنج جیسے نئے تجارتی راستے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ بھارت کی کوشش کررہاہے کہ اگر کسی ہنگامی صورتحال میں سلی گڑی کوریڈور بند بھی ہو جائے تو شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی کے لیے سمندری یا غیر ملکی زمینی راستے موجود رہیں۔ اس کے علاوہ باگ ڈوگرہ ایئرپورٹ کی توسیع اور ہمالیہ کے دامن میں زیر زمین سرنگوں کی تعمیر جیسے منصوبے اس لیے شروع کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مکافات عمل کی صورت میں رسد کی فراہمی میں تعطل نہ آئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جغرافیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا، سلی گڑی کوریڈور بھارت کے لیے جہاں ایک جغرافیائی بوجھ ہے، وہیں یہ اس کی عسکری اور سفارتی مہارت کا امتحان بھی ہے۔ اگر بھارت اپنی اس ”کمزور رگ” کو محفوظ بنانے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے نتائج صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مرتب ہوں گے۔ معاشی نقصانات اربوں ڈالر تک جا سکتے ہیں اور ملک کی سالمیت کو لگنے والا زخم صدیوں تک نہیں بھر پائے گا۔ سلی گڑی کوریڈور کی حفاظت محض سرحد کی حفاظت نہیں بلکہ بھارت کے اتحاد اور بقا کی جنگ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو بھارت کو ایشیا کی بڑی منڈیوں سے جوڑتا ہے، اور اگر یہ راستہ کٹ گیا تو بھارت کا ”مشرق کی طرف دیکھو” کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ آج کا بھارت اس کوریڈور کو محض ایک دفاعی مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط عسکری اور معاشی شریان کے طور پر دیکھتا ہے۔ جس کی حفاظت پر ملک کی پوری طاقت صرف کی جا رہی ہے۔ تاہم بھارت کو یہ بھی ضرور سوچتا ہوگا کہ کہیں اس کی پڑوسی ممالک میں مداخلت کا اثر اُن علیحدگی پسند گروپوں پر نہ ہو جائے جو بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں۔





