Column

شکریہ جہان پاکستان، عام آدمی کی آواز بننے کے لیے

’’ شکریہ جہان پاکستان، عام آدمی کی آواز بننے کے لیے‘‘
کالم نگار :امجد آفتاب
مستقل عنوان:عام آدمی
کیا صحافت صرف خبروں کی ترسیل ہے؟ نہیں، صحافت وہ زندہ ضمیر ہے جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی دھڑکن سنتا ہے، ان کی خاموش فریاد کو صفحہ قرطاس پر زندہ کرتا ہے، اور طاقتور کے بیان سے پہلے مظلوم کی آواز سناتا ہے۔ اسی فلسفے کے تحت روزنامہ جہان پاکستان نے اپنی بنیاد رکھی، اور پچھلے چودہ برسوں میں یہ ثابت کیا کہ یہ محض اخبار نہیں بلکہ عام آدمی کا معتبر ترجمان ہے۔
14برس کا سفر کسی بھی صحافتی ادارے کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ یہ وقت صرف گزرتا نہیں بلکہ اصولوں کی آزمائش، سچائی کی حفاظت اور قارئین کے اعتماد کی تعمیر کا امتحان ہوتا ہے۔ حالات بدلتے ہیں، دبائو بڑھتا ہے، حکومتیں آتی ہیں اور جاتی ہیں، مگر وہ ادارہ جو سچائی اور عوام کے اعتماد پر قائم رہتا ہے، وقت کے امتحان میں سرخرو ہوتا ہے۔ یہی استقامت روزنامہ جہان پاکستان کو ممتاز اور قارئین کے دلوں میں یادگار بناتی ہے۔
میرا اس ادارے سے تعلق تقریباً تین سال پر محیط ہے۔ بطور کالم نگار، میرا مستقل عنوان ’’ عام آدمی‘‘ ہے، اور میری تحریریں زیادہ تر اسی طبقے کے گرد گھومتی ہیں جو معاشی دبائو، سماجی ناانصافی اور انتظامی بے حسی کا شکار رہتا ہے۔ میرے لیے سب سے بڑی خوشی یہ نہیں کہ میرا کالم شائع ہو جائے، بلکہ یہ یقین ہونا ہے کہ میری آواز کسی ضرورت مند کے حق میں بلند ہو رہی ہے۔ یہی یقین مجھے یہاں ملا۔ میں اپنے کالم سب سے پہلے اسی پلیٹ فارم کو بھیجتا ہوں اور اشاعت کا انتظار اس امید کے ساتھ کرتا ہوں کہ الفاظ کسی مظلوم کی فریاد کو متعلقہ حلقوں تک پہنچائیں۔ صحافتی ادارے کی اصل طاقت اس کی قیادت سے ظاہر ہوتی ہے۔ جناب اویس رئوف صاحب اور ان کی ٹیم نے ادارتی ماحول کو ایسا بنایا جہاں قلم کو آزادی حاصل ہے، سچائی کو فوقیت دی جاتی ہے، اور اختلافِ رائے کو احترام ملتا ہے۔ یہی فضا کسی بھی سنجیدہ صحافت کی جان ہے، اور اسی وجہ سے روزنامہ جہان پاکستان نے نہ صرف قارئین کا اعتماد حاصل کیا بلکہ عوامی مسائل کو صفحہ قرطاس پر زندہ کر دیا۔
آج کے دور میں معلومات کی بھرمار ہے، مگر سچائی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کی رفتار نے خبر کو لمحوں میں عام کر دیا، مگر تحقیق اور تصدیق اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں مستند اور ذمہ دار اخبارات کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزنامہ جہان پاکستان آج بھی عام آدمی کا معتبر پلیٹ فارم ہے، جہاں شائع ہونے والے الفاظ تحقیق، احتیاط اور دیانتداری کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔ جب ہم پاکستان کے سماجی و معاشی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کو ایسے پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے جو عوامی مسائل کو مسلسل اجاگر کریں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم و صحت کے بحران، اور سماجی ناانصافیاں ایسے موضوعات ہیں جن پر مستقل آواز اٹھانا لازمی ہے۔ ایک باشعور اخبار یہی فریضہ انجام دیتا ہے کہ یہ مسائل عوام کے سامنے لائے اور اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کرے۔ میری تحریروں کا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لفظ محض جملے نہ رہیں بلکہ عمل کی تحریک بنیں۔ اگر ایک کالم کسی فرد کو سوچنے پر مجبور کرے یا کسی مظلوم کے حق میں آواز بن جائے، تو یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اور یہ کامیابی تبھی ممکن ہے جب لکھنے والے کے لیے ایک ایسا ادارہ موجود ہو جو اس کے جذبے کو سمجھے اور مقصد کو اپنی ترجیح بنائے۔14برس مکمل ہونا دراصل ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ادارہ اپنے ماضی کے تجربات کو بنیاد بنا کر مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔ میری دلی دعا ہے کہ یہ اخبار دن دگنی، رات چگنی ترقی کرے، دائرہ اثر وسیع ہو، آواز مضبوط ہو، اور ہمیشہ حق و صداقت کے پرچم کو بلند رکھے۔ کیونکہ جب صحافت سچ کے ساتھ کھڑی ہو تو معاشرہ جھوٹ کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھتا ہے۔ آخر میں دل کی گہرائیوں سے یہی کہنا چاہوں گا کہ یہ تعلق محض ایک کالم نگار اور اخبار کا نہیں بلکہ ایک نظریے اور مقصد کا رشتہ ہے۔ جب تک معاشرے میں انصاف کی ضرورت باقی ہے اور عام آدمی کو نمائندگی درکار ہے، قلم کا سفر جاری رہے گا۔ دعا ہے کہ یہ رفاقت یونہی قائم رہے، لفظوں کی روشنی پھیلتی رہے، اور سچ کا چراغ ہمیشہ روشن رہے۔ آمین۔

جواب دیں

Back to top button