Column

ننھا دل، جسم جوان ۔۔۔۔ وقت سے پہلے” بالغ "ہوتی بچیاں… قصوروار کون؟

نہال ممتاز:
​کاش ہم جان پاتے کہ جس معصوم بچی کے ہاتھ میں ہم نے ‘خاموش رہنے’ کے لیے موبائل تھمایا ہے، اس کی اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی صرف اس کی بینائی ہی نہیں چھین رہی، بلکہ اس کے دماغ کو وقت سے پہلے بالغ ہونے کا جھوٹا سگنل بھی بھیج رہی ہے۔ آج پاکستان کے ہر دوسرے گھر کا المیہ یہ ہے کہ گڑیا سے کھیلنے والی بچیاں آٹھ نو سال کی عمر میں اس جسمانی بوجھ تلے دب رہی ہیں جو قدرت نے ان کے لیے ابھی طے ہی نہیں کیا تھا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ہمارے طرزِ زندگی میں چھپے ان دشمنوں کا مشترکہ حملہ ہے جنہیں ہم نے خود اپنے گھروں میں جگہ دی ہے۔
​جدیدیت کے نام پر ہم نے جن سہولتوں کو اپنایا، وہی اب ہماری بچیوں کی معصومیت چھین رہی ہیں۔ پلاسٹک کی بوتلوں اور ڈبوں سے گھل کر نکلنے والے مخفی کیمیکلز انسانی جسم میں جا کر زنانہ ہارمونز (ایسٹروجن) کی ہو بہو نقل کرتے ہیں، جس سے معصوم جسم دھوکہ کھا کر وقت سے پہلے بلوغت کا سفر شروع کر دیتا ہے۔ رہی سہی کسر وہ خوشبودار شیمپو، لوشن اور کاسمیٹکس پوری کر دیتے ہیں جن میں موجود زہریلے اجزاء خاموشی سے ہارمونز کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ برائلر مرغی اور فاسٹ فوڈ، جو مصنوعی گروتھ ہارمونز کے زور پر تیار ہوتے ہیں، ہماری نسلِ نو کی قدرتی نشوونما کو غیر فطری طور پر تیز کر رہے ہیں۔
​سب سے سنسنی خیز اور تلخ پہلو وہ ذہنی تناؤ ہے جو ہمارے گھروں کے بگڑتے حالات اور لڑائی جھگڑوں کی دین ہے۔ تحقیق ثابت کر چکی ہے کہ جب بچی ایک غیر محفوظ اور پرتناؤ ماحول میں پرورش پاتی ہے، تو اس کا جسم ایک ‘بقا کے میکانزم’ (Survival Mechanism) کے تحت خود کو جلد بالغ کر لیتا ہے۔ جس عمر میں اسے تتلیاں پکڑنی تھیں، وہ اس عمر میں ان پیچیدہ جسمانی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہے جن کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار ہی نہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی خوراک، اسکرین کے بے جا استعمال اور گھر کے ماحول پر نظرِ ثانی نہ کی، تو کل کی مائیں جسمانی اور ذہنی طور پر اتنی کمزور ہوں گی کہ وہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھنے کے قابل نہیں رہیں گی۔
​اب وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں اپنی معصومیت اور صحت برقرار رکھیں، تو ہمیں آج ہی سے ان پانچ چیزوں پر عمل کرنا ہوگا:
​ڈیجیٹل کرفیو لگائیں: سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے بچوں سے موبائل اور ٹیبلٹ لے لیں تاکہ ان کے دماغ کو ‘نیلی روشنی’ کے دھوکے سے بچایا جا سکے۔
​پلاسٹک سے دوری اختیار کریں: بچوں کے کھانے پینے کے لیے پلاسٹک کی جگہ شیشے یا سٹیل کے برتن استعمال کریں، خصوصاً مائیکرو ویو میں پلاسٹک گرم کرنے سے گریز کریں۔
​خوراک کی تبدیلی: برائلر مرغی اور ڈبہ بند غذاؤں کے بجائے دیسی مرغی، سبزیوں اور پھلوں کو ترجیح دیں تاکہ وہ مصنوعی ہارمونز سے محفوظ رہ سکیں۔
​گھر کا ماحول پرسکون بنائیں: بچیوں کے سامنے گھریلو جھگڑوں سے پرہیز کریں؛ انہیں ایک ایسا ماحول دیں جہاں ان کا ذہن ‘بقا کی جنگ’ کے بجائے سکون محسوس کرے۔
​کاسمیٹکس کا محدود استعمال: چھوٹی بچیوں کو بچپن ہی سے میک اپ اور تیز کیمیکلز والے لوشنز کا عادی نہ بنائیں، بلکہ سادہ اور قدرتی مصنوعات کا انتخاب کریں۔
​یاد رکھیں، آپ کا آج کا تھوڑا سا احتیاط ان کے کل کی بڑی طبی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا راستہ روک سکتا ہے۔ یہ وقت شرمانے کا نہیں، بلکہ اپنی نسل کو اس خاموش یلغار سے بچانے اور انہیں ان کا ‘بچپن’ واپس لوٹانے کا ہے.

جواب دیں

Back to top button