جہانِ پاکستان۔ آرزووں کا جہان

جہانِ پاکستان۔ آرزووں کا جہان
باد شمیم
ندیم اختر ندیم
ٔلکھنے کا شوق تو میری جواں عمری کی دہلیز پر ہی دستک دے چکا تھا۔ وہ دور جب ذہن میں سوالات کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا اور دل کی دھڑکنیں لفظوں کی ترتیب میں سکون تلاش کرتی تھیں۔ وقت بدلا، حالات نے کئی کروٹیں لیں، زندگی کے میلے میں کئی چہرے آئے اور گئے، مگر قرطاس و قلم سے میرا رشتہ وقت کی گرد کے ساتھ دھندلانے کے بجائے مزید گہرا اور معتبر ہوتا اور نکھرتا چلا گیا۔ یہ ربِ کریم کا خاص کرم ہے کہ میری تحریروں نے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ لمحے میری زندگی کا کل اثاثہ نظر آتے ہیں جب کبھی اچانک فون کی گھنٹی بجتی ہے اور دوسری طرف سے کوئی انجان قاری میری کسی تحریر پر اپنی عقیدت کا اظہار کرتا ہے، یا کبھی میسج کی صورت میں محبتوں کا وہ پیغام موصول ہوتا ہے جو روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ ایک لکھاری کے لیے دنیاوی جاہ و حشم سے بڑھ کر یہی دعائیں اور یہی محبتیں اس کا سب سے بڑا اثاثہ اور کٹھن راستوں کا زادِ راہ ہوتی ہیں۔
ٔآج سے ٹھیک 14برس پہلے کی بات ہے، جب لاہور کی فضائیں سرد تھیں مگر ادبی محفلیں گرم۔ لاہور کا تاریخی "پاک ٹی ہائوس” اس سے قبل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آباد تھا، جہاں دانشوروں کی بحثیں، سگریٹ کا دھواں اور چائے کی بھاپ مل کر ایک ایسا سحر انگیز ماحول بناتی تھیں جو کسی بھی تخلیق کار کے لیے مہمیز کا کام کرتا۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ اس میز پر بیٹھا گرم گرم چائے کی چسکیاں لے رہا تھا، جہاں کبھی فیض، منٹو اور ناصر کاظمی جیسے قد آور لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ گفتگو کے دوران میرے دوست نے تذکرہ چھیڑا: "ندیم صاحب! ایک نیا اخبار ‘جہانِ پاکستان’ کے نام سے منظرِ عام پر آیا ہے، لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے منتظمین اور پشت پناہ صرف سرمایہ دار نہیں، بلکہ خبر کی نزاکت اور کالم کی گہرائی کو سمجھنے والے سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔ آپ اس کے لیے کالم کیوں نہیں لکھتے؟”۔
دوست کی وہ بات کسی الہام کی طرح میرے دل میں اتر گئی۔ اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ سردار سراج محمد جیسی نفیس، مدبر اور دور اندیش شخصیت کے زیرِ نگرانی پروان چڑھنے والا یہ ادارہ ایک دن اردو صحافت کا معتبر ترین حوالہ بن جائے گا۔ میں نے اسی شام قلم اٹھایا اور ایک نئے عزم کے ساتھ ” جہانِ پاکستان” کے لیے لکھنا شروع کیا۔ میں اس اخبار کے ان اولین کالم نگاروں کی فہرست میں شامل ہوا جنہوں نے اس کی بنیادوں میں اپنی فکر کا خون شامل کیا۔ وہ ایک ایسا سفر تھا جو آج چودہ سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پوری آب و تاب، وقار اور سچائی کے ساتھ جاری ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے اس ادارے کے بچپن کو دیکھا، اسے لڑکپن سے گزرتے ہوئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے دیکھا اور آج اسے ایک تناور درخت کی صورت میں سایہ فگن پایا۔
ٔابتدائی چند سال تو ایک جنون کی کیفیت تھی۔ قلم سے نکلتا ہر لفظ قارئین کے سامنے ہوتا تھا۔ وہ دور ایسا تھا کہ جیسے قلم میرے وجود کا حصہ بن چکا ہو۔ سیاست ہو، سماج ہو یا اخلاقی گراوٹ، ادب۔ تعلیم میں ہر موضوع پر ‘ جہانِ پاکستان’ کے صفحات پر اپنا دل کھول کر رکھ دیتا۔ پھر زندگی کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، میری درویشانہ طبیعت اور دیگر علمی و عملی مصروفیات نے کچھ وقت کے لیے جسمانی فاصلے تو پیدا کیے، مگر یہ جدائی کبھی مستقل نہ تھی۔ میں وقفے وقفے سے اپنے لفظوں کا نذرانہ پیش کرتا رہا، کیونکہ کچھ رشتے وقت اور مسلسل حاضری کے محتاج نہیں ہوتے، وہ روح کے تاروں سے بندھے ہوتے ہیں۔
کسی بھی اخبار کی کامیابی کے پیچھے صرف کاغذ، سیاہی اور مشینری کا رشتہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے وہ ‘منفرد پہچان’ ہوتی ہے جو اسے میڈیا کے اژدہام اور بھیڑ میں الگ کھڑا کرتی ہے۔ ‘ جہانِ پاکستان’ نے اپنے آغاز سے ہی پرنتنگ کی نفاست، ڈیزائننگ کی جدت اور خبروں کی صداقت کے حوالے سے جو بلند معیار قائم کیا، وہ اس دور کی اردو صحافت میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا۔ جب رنگین صفحات اور خوبصورت لے آئوٹ کے ساتھ یہ اخبار مارکیٹ میں آیا، تو اس نے روایتی اخبارات کے جمود کو توڑ دیا۔ اس ادارے کی نفاست اخبار کے ہر صفحے، ہر سرخی اور ہر تصویر سے جھلکتی تھی۔ یہاں صرف ایک اخبار نہیں نکالا گیا تھا، بلکہ ایک مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی گئی تھی جہاں سچائی کو مصلحت پر فوقیت حاصل تھی۔
ٔصحافت کی دنیا میں اخبارات روزانہ پیدا ہوتے ہیں اور شام ڈھلے گمنامی کے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن جو اخبار عوامی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتا ہو اور ادبی رنگوں کی چاشنی کے ساتھ سنجیدہ فکر کو پروان چڑھائے، وہی تاریخ کے صفحات پر ‘معتبر’ کہلاتا ہے۔ ‘جہانِ پاکستان’ نے خبر کو صرف ایک خشک اطلاع نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے گہرے تجزیے اور قلمی جمالیات کا وہ پیرایہ دیا کہ پڑھنے والا خود کو اس خبر کا حصہ محسوس کرنے لگا۔ اس چودہ سالہ طویل سفر میں کئی کڑے وقت آئے۔ میڈیا انڈسٹری نے بحران دیکھے، ڈیجیٹل دور کی یلغار ہوئی، مگر اس ادارے نے اپنی ساکھ پر آنچ نہیں آنے دی۔
میری وابستگی اس ادارے سے محض ایک کالم نگار کی نہیں، بلکہ ایک ایسے مسافر کی ہے جس نے اس شاہراہ پر چلتے ہوئے بہت سی منزلوں کو دیکھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب کبھی میں کسی سماجی ناانصافی پر قلم اٹھاتا، تو قارئین کا فیڈ بیک مجھے یہ احساس دلاتا کہ ‘جہانِ پاکستان’ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ مظلوموں کی آواز ہے۔ یہ اس ادارے کی بہترین ٹیم کا کمال تھا کہ انہوں نے بہترین دماغوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ ان کی محنت نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد سچائی کی ترویج ہو، تو وسائل کی کمی کبھی راستہ نہیں روک سکتی۔
آج جب اس اخبار ن یاپنی چودہویں سالگرہ منائی تو یہ صرف ایک ادارے کی کامیابی کا جشن نہیں تھا۔ یہ ان تمام قلم کاروں کی فتح ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ یہ ان قارئین کی جیت ہے جنہوں نے زرد صحافت کے دور میں بھی ‘جہانِ پاکستان’ کے سنجیدہ اور متوازن بیانیے پر اعتماد کیا۔ چودہ سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، اس دوران نسلیں بدل جاتی ہیں، سوچ کے انداز بدل جاتے ہیں، مگر حرف کی حرمت کا جو بیج 14سال پہلے بویا گیا تھا، وہ آج ایک ایسا گلستاں بن چکا ہے جس کی خوشبو پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔
اس موقع پر میرا دل تشکر کے جذبات سے لبریز ہے۔ میں ان تمام ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو اس سفر میں میرے ہم سفر رہے۔ ان ایڈیٹرز، سب ایڈیٹرز اور نامہ نگاروں کو جن کی دن رات کی محنت سے یہ اخبار ہر صبح ہمارے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ میں خاص طور پر سردار معراج صاحب کی بصیرت اور چیف ایڈیٹر اویس رئوف صاحب کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس پودے کی آبیاری اپنے خونِ جگر سے کی۔ ان کی محنت نے ‘جہانِ پاکستان’ کو وہ وقار بخشا جس کی مثال دورِ حاضر کی صحافت میں کم ہی ملتی ہے۔
دعا ہے کہ یہ ‘جہان’ ہمیشہ آباد رہے، سچائی کا یہ سورج کبھی نہ ڈھلے اور حرف کی حرمت اسی طرح سلامت رہے۔ قلم سے کاغذ تک کا یہ رشتہ، جو چودہ سال پہلے پاک ٹی ہائوس کی اس تاریخی میز پر ایک پیالی چائے کی بھاپ سے شروع ہوا تھا، آنے والی دہائیوں میں مزید معتبر، توانا اور طاقتور ہو کر ابھرے۔ ہم رہیں نہ رہیں، مگر ہماری لکھی ہوئی سچائیاں ‘جہانِ پاکستان’ کے اوراق پر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہنی چاہئیں۔ سچ کا یہ سفر جاری تھا، جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا۔





