Column

بنگلہ دیش میں مثبت نتائج

بنگلہ دیش میں مثبت نتائج

 

سیدہ عنبرین

 

بنگلہ دیش میں دو سیاسی جماعتوں کو اقتدار ملنے کے بعد ان کے سربراہوں کو قتل کیا گیا۔ پہلے شیخ مجیب الرحمٰن تھے، جنہوں نے انتخاب جیتنے کے بعد سر توڑ کوشش کی کہ انہیں اور ان کی جماعت کو انتخابی نتائج کی روشنی میں حکومت بنانے کا موقع دیا جائے، لیکن طالع آزما اسٹیبلشمنٹ نے ملک توڑ دیا۔ شیخ مجیب کو اقتدار نہ دیا، انہوں نے بھارتی فوج کی مدد سے دوسرا آپشن آزمایا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، الیکشن تو وہ پہلے ہی سے جیت چکے تھے، لہٰذا بنگلہ دیش کے وزیراعظم بنا دیئے گئی، ان کی پالیسیاں انہی کی تابع تھیں، جنہوں نے پاکستان توڑ کر بنگلہ دیش بنایا ان کے قتل کی وجہ کچھ اور تھی، لیکن کہانی یہی تراشی گئی کہ پاکستان سے محبت کرنے والے انہیں مجرم سمجھتے تھے، پھر میجر جنرل ضیاء الرحمٰن اقتدار میں آ گئے، انہوں نے 1965ء کی جنگ دفاع پاکستان کیلئے لڑی اور بہادری کے اعزازات حاصل کئے، لیکن 1971ء کی جنگ بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے لڑی، انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا، آج تک کوئی اس کی معقول وجہ نہیں بتا سکا۔

شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے بعد ان کی بیٹی حسینہ شیخ کو اقتدار دیا گیا، اسی طرح جنرل ضیاء الرحمٰن کے قتل کے بعد ان کی بیگم خالدہ ضیاء کو اقتدار کا جھولا دیا گیا۔ خالدہ ضیاء اور حسینہ شیخ کی حکومتیں جب بھی ختم ہوئیں ان پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے، لیکن ان کی جماعتوں کو بار دگر اقتدار میں لایا گیا، اس اعتبار سے بنگلہ دیش میں حکومتیں آنے اور جانے کی کہانی پاکستان سے خاصی حد تک ملتی جلتی ہے، دونوں کا آرکیٹکٹ ایک ہے یا اس آرکیٹکٹ نے ایک ہی درسگاہ سے ڈگری حاصل کر رکھی ہے، اس بات میں اب کوئی ابہام نہیں۔ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان میوزیکل چیئر ہوتا ہے، پاکستان میں جب مسلم لیگ کی حکومت برطرف کی جاتی ہے تو آئندہ الیکشن میں وہ زمین پر نظر آتی ہے، اقتدار پیپلز پارٹی کو دینے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کو زیر زمین پہنچا دیا جائے، اسی طرح جب پیپلز پارٹی کے دن پورے ہو جاتے ہیں تو اسے زندہ درگور کر کے مسلم لیگ مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی جاتی ہے، اس کے ختم ہوتے ہوئے پلیٹ لیس دیکھتے ہی دیکھتے پورے ہو جاتے ہیں، وہ گھوڑے کی طرح دوڑنے لگتی ہے اور پیپلز پارٹی چارپائی سے جا لگتی ہے، پھر حالات بدلنے تک وہ کبھی لاٹھی پکڑ کر چلتی اور کبھی ویل چیئر پر گھسیٹتی دیکھی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی رگوں سے لہو نکالنے والے ڈاکٹر کا بھی جواب نہیں، وہ جب چاہے لہو نکال لے، جب چاہے خون کی چار بوتلیں ملک کے اعلیٰ ترین مفاد میں لگا کر مردے زندہ کر دے۔ بنگلہ دیش میں بھی یہی ہوا ہے، پندرہ برس سے اقتدار سے باہر اور بستر مرگ پر پارٹی تن تنہا اپنے مخالف نو جماعتی اتحاد کو شکست دے کر الیکشن جیتی ہے، اسے دو تہائی اکثریت سے بھی کچھ زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایک ماضی و حال کے آنکھ کے تارے کو دو تہائی اکثریت دے کر اقتدار کی مسند پر بٹھایا گیا تھا، پھر اس بھاری مینڈیٹ کا جو حشر کیا گیا وہ دنیا نے دیکھا، بھاری مینڈیٹ بھاری بوٹوں کی ٹھوکروں میں نظر آیا اور صاحب اقتدار دس سال کیلئے ایک معاہدے کے مطابق جلا وطن ہو گیا، کچھ عجب نہیں بنگلہ دیش میں بھاری مینڈیٹ کی اگلی منزل یہی ہو۔ بنگلہ دیشی طارق رحمان اپنی پہلی جلاوطنی کاٹ چکے ہیں۔

پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے اپنی سی کوشش کی، لیکن پاکستان توڑنے والے ہاتھ بہت مضبوط تھے، یوں بھی مسلح ہاتھوں اور خالی ہاتھوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہوتا۔ حسینہ شیخ کے اقتدار میں متحدہ پاکستان کے حامیوں کو فرضی مقدمات بنا کر انہیں گرفتار کرنے اور پھانسیاں دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ سزائے موت کے خلاف ملک اور ان کی تنظیمیں سوئی رہیں، انسانی حقوق کسی کو یاد نہ رہے، پاکستان میں اس زمانے میں مسلم لیگ ( ن) کی حکومت تھی، کوئی ٹس سے مس نہ ہوا، سب کے ہونٹ سلے رہے۔ حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات نے منمنی آواز میں اسے بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دیا، بالکل اسی طرح جس طرح چھپن اسلامی ممالک نے دو برس تک فلسطینیوں کا خون بہتے دیکھا اور ہلکی پھلکی مذمت کرنے کا فرض ادا کرنے میں لگے رہے۔ جماعت اسلامی کو حالیہ انتخابات میں جس قدر نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ماضی میں وہ اتنی نشستیں کبھی حاصل نہیں کر سکی ہے، اتنی سیٹیں اس لئے دی گئی ہیں کہ ان کی تعداد کو بنیاد بنا کر کہا جا سکے اور ثابت کیا جا سکے کہ الیکشن آزادانہ اور منصفانہ تھے، منہ بند کرنے کی یہ کوشش زیادہ کارگر ثابت نہ ہو گی، اپنی حق تلفی پر آرام سے گھر بیٹھے رہنا اس کے خمیر میں نہیں، لیکن دیکھنا ہو گا خمیر اور ضمیر آج کل کس مشین میں ڈال کر باہر نکالے جا رہے ہیں، اس میں جان بھی باقی رہی ہے یا نہیں۔

جنہوں نے حسینہ شیخ کو حکومت چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا، وہ تو نوجوان نسل تھی، قربانیاں بھی انہوں نے دیں، خون بھی ان کا بہا، لیکن بادی النظر میں یوں لگتا ہے ان کے خون کے سودا ہو گیا ہے، ان کے حصے میں جتنی نشستیں آئی ہیں اتنی تو ہمارے مولانا خادم حسین رضوی مرحوم کے خطبوں اور فتوئوں کے زور پر حاصل ہو جایا کرتی تھیں۔ بنگلہ دیشی نوجوانوں کی پارٹی نے تو ایک بڑی موومنٹ کے ذریعے پندرہ برس سے قائم حکومت کے پائوں اکھیڑ دیئے تھے، ان کے حصے میں جھونکا آیا ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

طالبعلم راہنما ناپید اسلام نے ریکارڈ ووٹ حاصل کئے، یہ بھی منہ بند کرنے کی حکمت عملی کا حصہ، انہیں نہ ووٹ ملتے تو پھر کس کو ملتے۔

نو جماعتی اتحاد میں شامل ہر جماعت کے پاس فنڈز کی کمی تھی، جو ان کی الیکشن مہم میں واضع طور پر نظر آ رہی تھی۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی اور جماعت اسلامی کے حوالے سے خاص اہتمام کیا گیا تھا کہ کاروباری طبقہ اپنی مالی معاونت فراہم نہ کرے، ایسے ہی انتظامات بوقت ضرورت پاکستان میں بھی کئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف قریباً پندرہ برس سے اقتدار سے باہر بی این پی کے پارٹی بینک اکائونٹ خشک سالی کے سبب سوکھ چکے تھے، لیکن الیکشن مہم کے دوران ان پر ہن برستا نظر آیا، بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان کی نسبت کئی گنا طاقتور ہے، لیکن پھر بھی وہاں ایک الیکشن میں جیت پانچ کروڑ ٹکے کی مرہون منت ہوتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق جیتنے والی پارٹی کو یہ جیت قریباً دس سے گیارہ ارب ٹکے میں پڑی۔ اس الیکشن میں بھارت، امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک گھاٹ پانی پیتے نظر آئے، ایک دوسرے کی محبت میں وہ کچھ زیادہ ہی پانی پی گئے ہیں، اتنا زیادہ پانی پینے سے ’’ اپھارا‘‘ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹ پھٹ جانے کا خطرہ دھڑکا لگا رہتا ہے۔ یہ تمام حسن سلوک چین اور روس کا راستہ روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کے تمام چھوٹے اور کسی نہ کسی اعتبار سے اہم ملک دو سیاسی جنات کی جنگ کی زد میں ہیں، تمام اکھاڑ پچھاڑ اور حیرت انگیز نتائج دراصل ’’ مثبت نتائج‘‘ نکالنے کیلئے ہیں، یہ مثبت نتائج ملکوں کو برباد کر دیں گے۔

جواب دیں

Back to top button