ColumnQadir Khan

سی سی ون‘ خفیہ مشن کا اعلانِ رسوائی

’ سی سی ون‘ خفیہ مشن کا اعلانِ رسوائی

 

قادر خان یوسفزئی

بین الاقوامی سیاست کی بساط پر جب ریاستیں اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر شطرنج کی چالیں چلنے لگتی ہیں، تو اکثر اوقات سفارتکاری کے لبادے میں چھپے وہ بھیانک حقائق طشت از بام ہو جاتے ہیں جو عالمی امن اور ملکی خودمختاری کے تصورات کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ ریاستوں کا جبر جب سرحدوں کا محتاج نہ رہے اور انٹیلی جنس کی تاریک دنیائیں غیر ملکی سرزمین پر اپنے اہداف کو نشانہ بنانے لگیں، تو قانون اور طاقت کے درمیان ایک ایسا ٹکرا جنم لیتا ہے جو عالمی تعلقات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں ایک ایسا ہی چشم کشا واقعہ رونما ہوا ہے، جس نے عالمی سطح پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والی ماورائے عدالت کارروائیوں کی ایک نئی اور تشویشناک بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک 54سالہ بھارتی شہری، نکھل گپتا، نے ایک ممتاز سکھ علیحدگی پسند رہنما اور امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش میں اپنے کردار کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ اعترافِ جرم محض ایک فرد کی قانونی شکست نہیں، بلکہ یہ اس گہرے اور پیچیدہ نیٹ ورک کی ایک واضح جھلک ہے جس کے تانے بانے مبینہ طور پر نئی دہلی کے ایوانِ اقتدار اور انٹیلی جنس کے تاریک راہداریوں سے ملتے ہیں۔

امریکی عدالت میں پیش کیے گئے حقائق اور استغاثہ کی دستاویزات کسی سنسنی خیز جاسوسی ناول سے کم نہیں، لیکن ان کے اثرات حقیقی اور انتہائی ہولناک ہیں۔ نکھل گپتا نے جن تین الزامات کا اعتراف کیا ہے، ان میں کرائے پر قتل کا انتظام کرنا، اس قتل کی سازش رچنا، اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اس جرم کی مالی معاونت کرنا شامل ہے۔ ان سنگین جرائم کے تحت گپتا کو 40سال تک قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کا حتمی فیصلہ 29مئی 2026ء کو سنایا جائے گا۔ اس پوری کہانی کا سب سے تشویشناک اور حساس پہلو وہ کردار ہے جسے امریکی دستاویزات میں 1 CC۔ کا خفیہ نام دیا گیا ہے۔ یہ کردار، جس کی شناخت بعد ازاں وکاش یادو کے نام سے ہوئی، مبینہ طور پر ایک بھارتی سرکاری اہلکار ہے جس کے کاندھوں پر انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی اہم ذمہ داریاں عائد تھیں۔ مئی 2023ء میں شروع ہونے والے اس کھیل میں، یادو نے گپتا کو اس شرط پر بھرتی کیا کہ بھارت میں اس کے خلاف درج ایک مجرمانہ مقدمہ ختم کر دیا جائے گا۔ ریاستی طاقت کا یہ استعمال، جہاں جرائم پیشہ افراد کو انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استثنیٰ کا لالچ دیا جاتا ہے، جاسوسی کی دنیا کا ایک پرانا مگر خطرناک ہتھکنڈا ہے۔

اس سازش کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ کس طرح سفارتی اور سیاسی نزاکتوں کو مدنظر رکھ کر قتل کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ گپتا نے اس کام کے لیے جس شخص سے رابطہ کیا، وہ درحقیقت ایک ’ ہٹ مین‘ یا کرائے کا قاتل نہیں تھا، بلکہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA)کا ایک انڈر کور افسر تھا۔ گپتا نے اس مبینہ قاتل کو 15000ڈالر کی پیشگی رقم ادا کی اور ساتھ ہی گرپتونت سنگھ پنوں کے گھر کا پتہ، فون نمبرز، روزمرہ کی نقل و حرکت کی تفصیلات اور نگرانی کی تصاویر بھی فراہم کیں۔ اس منصوبے کی سیاسی حساسیت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ گپتا نے واضح ہدایات دی تھیں کہ اس قتل کی واردات کو جون 2023ء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہِ امریکہ یا اعلیٰ سطحی امریکی اور بھارتی حکام کی ملاقاتوں کے دوران ہرگز انجام نہ دیا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کی سفارتی خفت سے بچا جا سکے۔ لیکن تقدیر کا کھیل دیکھیے کہ گپتا، جو اپنے تئیں ایک بڑی کامیابی کی طرف بڑھ رہا تھا، درحقیقت امریکی انٹیلی جنس کے بچھائے ہوئے جال میں خود پھنس چکا تھا۔ 2023ء میں پراگ ( چیک ریپبلک) میں اس کی گرفتاری اسی امریکی انٹیلی جنس کی بنیاد پر عمل میں آئی، جس نے اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔

یہ واقعہ سفارتی تنہائی میں رونما ہونے والا کوئی اکلوتا حادثہ نہیں ہے۔ اس واقعے کی کڑیاں براہ راست کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا سے جا ملتی ہیں، جہاں 18جون 2023ء کو ایک اور نمایاں سکھ علیحدگی پسند اور خالصتان کے حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو ایک گوردوارے کے باہر دن دہاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات یہ ہولناک انکشاف کرتی ہیں کہ نجر کے قتل کے فوراً بعد، وکاش یادو نے نکھل گپتا کو نجر کی خون میں لت پت لاش کی ایک ویڈیو بھیجی تھی۔ یہ محض ایک اطلاع نہیں تھی، بلکہ امریکہ اور کینیڈا میں موجود دیگر اہداف کے لیے ایک واضح اور بھیانک پیغام تھا کہ اگلا نمبر ان کا ہو سکتا ہے۔ جب ہم ان واقعات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں، تو پاکستان اور بھارت کے انٹیلی جنس ذرائع سے سامنے آنے والی وہ رپورٹس مزید وزن اختیار کر لیتی ہیں جن کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسی ’ را‘ (RAW)نے 2020ء سے لے کر اب تک غیر ملکی سرزمین پر خالصتان کے حامیوں سمیت تقریباً 20سے زائد عسکریت پسندوں اور ناقدین کو مبینہ طور پر قتل کرایا ہے۔ ان کارروائیوں کے لیے متحدہ عرب امارات میں موجود سلیپر سیلز، پاکستان میں مقامی بھرتیوں اور دبئی کے راستے ہونے والی مالی ادائیگیوں کا ایک منظم نیٹ ورک استعمال کیا گیا۔

اس تمام تر خون آلود ریاستی کشمکش اور انٹیلی جنس کی اس بے رحم جنگ کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹ کر 1980ء کی دہائی کے اس تاریک دور میں جھانکنا ہوگا، جس کے زخم آج بھی سکھ کمیونٹی کے اجتماعی شعور میں تازہ ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ کی جانب سے سخت بین الاقوامی جانچ پڑتال اور سفارتی دبا کے بعد، فی الوقت بھارت نے ان بیرون ملک کارروائیوں کو روک دیا ہے۔ مگر نکھل گپتا کے اعترافِ جرم نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا جغرافیائی و سیاسی مفادات کی خاطر جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور ملکی خودمختاری کے بنیادی قواعد کو قربان کیا جا سکتا ہے؟ یہ مقدمہ صرف نکھل گپتا، گرپتونت سنگھ پنوں یا وکاش یادو تک محدود نہیں؛ یہ عالمی ضابطہِ اخلاق کی بقا اور اس امر کے تعین کرنے کا امتحان ہے کہ آیا 21ویں صدی میں کوئی ریاست معاشی اور اسٹریٹجک طاقت کے نشے میں اس حد تک جا سکتی ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحدوں کو محض لکیریں سمجھنا شروع کر دے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاستیں اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانون کے بجائے بندوق اور سازش کا راستہ اپناتی ہیں، تو وہ نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ اپنے ہی معاشرے کے اندر عدم استحکام کے ایسے بیج بو دیتی ہیں جن کی فصل نسلوں کو کاٹنی پڑتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button