زرداری اور عمران خان کی قید کا موازنہ

زرداری اور عمران خان کی قید کا موازنہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ان دنوں صدر مملکت آصف علی زرداری بانی پی ٹی آئی عمران خان پر بیانات کی سنگ باری کرکے خان کو نیچا دکھانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے منصب کا خیال رکھے بغیر قید و بند میں ملک کے مقبول ترین لیڈر کے خلاف طعنہ زنی کرکے اپنا قد کاٹھ بڑھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ کسی سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد نہ ہو جائے جیل جانے کے بعد اس کی حیثیت کسی مظلوم سے کم نہیں ہوتی۔ اللہ کے نبی حضرت یوسف ٌ نے ویسے تو نہیں کہا تھا جیل خانہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ایک سیاسی رہنما اور صدر مملکت کے منصب پر فائز شخص کو اپنے سیاسی حریف بارے اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہیے۔ گو آصف علی زرداری صاحب کی قیدی کے مقابلے میں عمران خان کی قید کا دورانیہ بہت کم ہے۔ خان کو جس جگہ رکھا گیا ہے وہاں سزائے موت کے ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، جنہیں ایک دو روز بعد پھانسی دینا ہوتی ہے۔ سینٹرل جیل راولپنڈی میں جب کسی قیدی کو پھانسی دینا ہو تو اسے سزائے موت کے دیگر قیدیوں سے پھانسی سے دو روز پہلے الگ کرکے سرکل نمبر چار میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں سزائے موت کے قیدیوں کے سیل ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو دو سال سے زیادہ عرصہ سے انہی سیلوں میں رکھا ہوا ہے۔ سب سے پہلی زیادتی تو یہ ہوئی ہے عمران خان کو بی کلاس قیدیوں کے لئے مختص جگہ نہیں رکھا گیا ہے، بلکہ سزائے موت کے قیدیوں کے سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ چلیں سزائے موت کے سیلوں میں سہی لیکن اس قید تنہائی نے ان کی صحت پر برے اثرات مرتب کئے ہیں۔ دن رات لوہے کے جنگلوں کو دیکھ دیکھ کر انسان اکتا جاتا ہے، اس کے برعکس صدر آصف علی زرداری کو کراچی سے راولپنڈی اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، جس کے تھوڑے عرصہ بعد انہیں پمز ہسپتال کے چار وی آئی پی روم الاٹ کئے گئے تھے، جن میں سے ایک جیل ملازمین کے لئے مختص تھا۔ میرے ایک مہربان دوست اظہر خان جو دار فانی سے رخصت ہو چکے ہیں، اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے، ایک ایسا دوست جس نے مجھ سے کبھی ایک روپیہ رشوت نہیں لی تھی۔ اظہر خان نے مجھے بتایا تھا زرداری صاحب کے پاس ہمہ وقت لوگوں کی آمدورفت رہتی تھی۔ موبائل فون کی سہولت ان کے پاس تھی، دنیا بھر کی آسائشیں انہیں میسر تھیں۔ اظہر خان نے مجھے بتایا ان کا تبادلہ کسی اور جیل میں ہوگیا تو انہوں نے صدر زرداری جو اس وقت ایک قیدی تھے، سے درخواست کی تو انہوں نے پنجاب کے سیکرٹری داخلہ کو فون کرکے ان کا تبادلہ کینسل کرایا تھا۔ بھلا سوچنے کی بات ہے ایک قیدی سیکرٹری داخلہ کو فون کرکے اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کا تبادلہ منسوخ کرائے، اسے قیدی کہنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ مرحوم اظہر خان مجھے بتایا کرتے تھے زرداری صاحب انہیں اچھا خاصا خرچہ بھی دیا کرتے تھے، اسی لئے وہ ان کے پاس ڈیوٹی میں دل چسپی رکھتے تھے۔ پمز ہسپتال کے وی آئی پی رومز میں زرداری صاحب کے پاس پارٹی رہنمائوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگ بلا روک ٹوک آیا کرتے تھے ،کجا ایک قیدی سے اس کے گھر والوں کو بھی ملاقات سے محروم رکھا جائے۔ یہ علیحدہ بات ہی بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کی وجوہات کا اس ناچیز کو اچھی طرح علم ہے، جس کی تفصیلات کالم میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ بانی سے ملاقات کرنے والے زور سے سانس بھی لیں تو یہ چیز ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو جاتی ہے۔ مجھے صدر مملکت کے بیانات سے افسوس ہوا، قید و بند میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد کے بارے میں اس طرح کے کلمات اتنے بڑے منصب پر فائز کسی شخصیت کو زیب نہیں دیتے ۔ الحمدللہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ہے نہ پی ٹی آئی میں مجھے کوئی جانتا ہے، زرداری صاحب کے بیانات نے مجھے خان اور زرداری صاحب کی قید کا موازنہ کرنے پر مجبور کیا۔ صدر زرداری کے بیانات سے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ خان کی قید و بند پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ اگرچہ میری عمران خان سے جان پہچان نہیں، جن دنوں وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں انہوں نے جڑواں شہروں کے سپورٹس رپورٹرز کو مدعو کیا تو مجھے بھی ان سے مصافحہ کرنے کا موقع ملا۔ بس یہی بانی پی ٹی آئی سے میری پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ جہاں تک بانی کی آنکھ کی بینیائی کی بات ہے۔ سابق سپرنٹنڈنٹ جیل جو آج کل سینٹرل جیل فیصل آباد میں متعین ہیں، نے بتایا انہوں نے عمران خان کی آنکھوں کا کئی مرتبہ معائنہ کرایا۔ یہاں تک جس روز انہوں نے چارج چھوڑا اس روز بھی پمز کے ماہرین چشم نے ان کا معائنہ کیا تھا، جس کا مکمل ریکارڈ جیل میں موجود ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے آصف زرداری صاحب کی نگرانی پر جیل ملازمین مامور تھے جبکہ بانی پی ٹی آئی کسی اور کی نگرانی میں ہیں، جس کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں ہے۔ عمران خان ایک سابق وزیراعظم ہیں اور سیاسی جماعت کے بانی ہیں انہیں دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا اس لئے بھی ضروری تھا کہیں کوئی انہیں نقصان نہ پہنچا دے۔ جیلوں کا یہ معمول ہے جب کوئی سیاسی رہنما یا سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والا کوئی جیل آجائے تو اسے دیگر قیدیوں سے علیحدہ رکھا جاتا ۔اگر ہم آصف علی زرداری اور عمران خان کی قید و بند کا موازنہ کریں تو زرداری صاحب سے ملاقات کرنے والے لوگ جیل سے باہر آکر نہ تو پریس کانفرنس کرتے تھے نہ ہی کوئی بیان دیتے تھے، اس کے برعکس بانی سے ملاقات کرنے والے بانی سے ہونے والی بات چیت پریس کو بتائے بغیر گھروں کو نہیں لوٹتے تھے۔ ہاں البتہ بانی پی ٹی آئی نے صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے مقابلے میں طاقتور حلقوں سے ٹکر لی، شائد انہی وجوہات کی بنا وہ جیل میں بی کلاس ملنے کے باوجود بی کلاس کے قیدیوں کے لئے مختص جگہ پر رکھے جانے سے محروم رکھے گئے ہیں۔







