بلوچستان کو کہاں سے دیکھا جائے؟

بلوچستان کو کہاں سے دیکھا جائے؟
تحریر : روشن لعل
جس بلوچستان کے لیے اختر مینگل نے لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیرکانفرنس کے دوران ’’ ادھر تم ادھر ہم‘‘ کا وہ نام نہاد نعرہ لگایا جو کبھی سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے لیے بھی نہیں بولا گیا تھا، وہ بلوچستان ایک ایسی کھلی کتاب ہے جس کا کوئی باب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بلوچستان کی ضخیم ہو چکی کھلی کتاب کا آغاز جس پیرائے میں ہوا، اسی پیرائے میں رقم ہونے والے مزید ابواب، گاہے بگاہے اس کا حصہ بنتے گئے۔ ضخیم ہونے کے باوجود ، بلوچستان کی کتاب کا حجم مزید بڑھتے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ نہ اس کے لکھے جانے کا ڈھنگ تبدیل ہوا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی نیا والیم شروع کرنا ضروری سمجھا گیا۔ یہ کتاب ضخیم ہی نہیں انتہائی سلیس بھی ہے مگر وہ لوگ اسے مشکل ترین بنا رہے ہیں جو اس کے آغاز کو فراموش کر کے ، اپنی سہولت کے مطابق کہیں سے بھی کوئی صفحہ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔
کسی کو بھی اس بات پر شک نہیں ہونا چاہیے کہ بلوچستان ایسا علاقہ ہے جسے عالمی نقشہ پر ٹوٹی پھوٹی نہیں بلکہ مستقل لائنوں کے ساتھ پاکستان کے غیر متنازعہ حصے کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی علاقے متنازعہ ہیں، انہیں عالمی نقشے پر شکستہ لائنوں کے درمیان دکھایا جاتا ہے۔ عالمی نقشے پر ہمارے ملک کا غیرمتنازعہ حصہ ہونے کے باوجود صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرونی دنیا میں بھی بلوچستان کی پاکستان کے ساتھ جڑت کے نازک ہونے کا احساس موجود ہے۔ اس احساس کی عمر اتنی ہی ہے جتنی عمر پاکستان کے وجود کی ہے۔ جن وجوہات کی بنا پر بلوچستان کی پاکستان کے ساتھ جڑت کو نازک تصور کیا جاتا ہے ، ان وجوہات کو ، کوئی بلوچ نہیں بلکہ بانی پاکستان ، قائداعظم سب سے پہلے ریکارڈ پرلے کر آئے تھے۔ برطانوی راج کے دوران جب متحدہ ہندوستان میں سیاسی اصلاحات کے نفاذ کی سفارشات مرتب کرنے کے لیے سائمن کمیشن برصغیر آیا، اس وقت قائد اعظمؒ نے ہی یہ مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان اور شمال سرحدی صوبے کے عوام بھی ہندوستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی طرح آئینی اصلاحات کے نفاذ کا مساوی حق رکھتے ہیں۔
بلوچستان میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کرنے والے اس صوبے کی کتاب کا وہ باب بند رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں قائد اعظمؒ کے انگریزوں سے کیے گئے مذکورہ مطالبے کا ذکر ہے۔ آج بلوچستان کے جو بھی حالات ہیں ، ان کی بنیادیں تلاش کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک اس بات پر غور نہ کیا جائے کہ قائد اعظم نے اس علاقے میں جن اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ انگریزوں سے کیا تھا انہیں پاکستان بننے کے بعد بھی وہاں نافذ کرنے سے جان بوجھ کر مسلسل گریز کیا گیا۔ بلوچستان کے جن باسیوں کو پاکستان بننے سے پہلے یہ احساس دلایا گیا تھا کہ انہیں بھی ہندوستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی طرح سیاسی حقوق ملنے چاہئیں، انہیں اگر پاکستان بننے کے بعد بھی مساوی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا تو ان کے اندر پیدا ہونے والے احساس محرومی اور اس احساس کے نتیجے میں بغاوت کی طرف مائل ہونے پر زیادہ حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔
بلوچستان کی کتاب کا ایک باب مذکورہ احساس محرومی اور اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے ان باغیانہ رویوں سے متعلق ہے جنہیں کسی طرح بھی بلاوجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلوچستان میں میں موجود باغیانہ رویوں کا مختلف شکلوں میں جو اظہار ہوتا رہتا ہے ان کی وجہ سے ہی پاکستان اور بلوچستان کی جڑت کو نازک تصور کیا جاتا ہے۔ جن رویوں کے اظہار کی وجہ سے پاکستان اور بلوچستان کی جڑت کو نازک تصور کیا جاتا ہے ان رویوں کے پیدا ہونے کی وجوہات پر بہت کم سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے۔ ان رویوں کو مسلسل جبر سے دبانے کے دوران بلوچستان میں جو خون خرابہ ہوتا رہا اس کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہوئے کچھ ایسا اخذ کرنے کی ضرورت ہے جس سے بلوچستان کی کتاب کے اس والیم کا آغاز ہو سکے جس کے مندرجات سابقہ والیم سے یکسر مختلف ہوں۔ گو کہ بلوچستان کی پاکستان سے نازک جڑت ایک افسوسناک حقیقت ہے مگر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ خون خرابے کے دوران ایک طرف تو نازک جڑت کو ظالمانہ طریقوں سے مضبوط بنانے کی کوشش کرنے والے کبھی مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے اور دوسری طرف نازک جڑت کو ہر صورت توڑنے کی کوشش کرنے والے بھی باہمی توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر بری طرح ناکام ثابت ہوتے آرہے ہیں۔ اگر آئندہ بھی، انتہا پسند رویوں کا اظہار اسی طرح ہوتا رہا تو یہ سلسلہ چاہے جتنا بھی طویل کیوں نہ ہو جائے دونوں اطراف کا حاصل وصول ناکامیوں کے علاوہ کچھ اور برآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔
کچھ روز قبل دانشوروں کی ایک بیٹھک میں راقم نے بلوچستان کے حوالے سے اپنا مذکورہ موقف بیان کیا تو ایک صاحب نے کہا کہ ناعاقبت اندیش ریاستی حلقوں نے بلوچستان میں جو حالات پیدا کر دیئے ہیں ان کی موجود گی میں بلوچ وہی راستہ کیوں اختیار نہ کریں جو مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے کیا تھا۔ اس سوال کا جواب یہ دیا گیا کہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کا بغاوت پر آمادہ ہونے سے پہلے صوبائی مختاری کے حصول کا مطالبہ تھا ، یہ مطالبہ ریاست کی طرف سے بری طرح رد کیے جانے کے بعد ان لوگوں کے زبان پر بنگلہ دیش کا نام آیا۔ موجودہ پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں صوبائی خود مختاری چاہے نہیں دی گئی لیکن اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام کا پہلا حق تسلیم کرایا جا چکا ہے۔ یہ حق تسلیم کرائے جانے کے باوجود اس کا مکمل حصول ممکن نہیں ہو سکا۔ بلوچستان میں جو لوگ دہشت گردی کرتے ہوئے ایسی جدوجہد میں مصروف ہیں جس کا نتیجہ ناکامیوں کے سوا کچھ اور برآمد ہوتا نظر نہیں آتا وہ اپنے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے وہ جمہوری راستہ کیوں اختیار نہیں کرتے جس پر چلتے ہوئے اٹھارویں ترمیم منظور کرائی گئی تھی۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت جو کچھ منظور کرایا گیا وہ اگرچہ صوبائی خود مختاری سے بہت کم ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مقتدر حلقوں نے اس ترمیم پر بھی بادل نخواستہ رضامندی ظاہر کی تھی۔ جس اٹھارویں ترمیم کے لیے بادل نخواستہ رضامندی ظاہر کی گئی تھی بعد ازاں اس کے خاتمے کے لیے مسلسل حملے شروع کر دیئے گئے۔ اٹھارویں ترمیم پر ہونے والے مسلسل حملوں کے دوران اس ترمیم کو ناکام ثابت کرنے کی جو کوششیں کی گئیں ان کی وجہ سے اس کے ثمرات عوام تک کما حقہ نہ پہنچ سکے ۔ بلوچستان میں جن لوگوں کی ترجیح پاکستان کے ساتھ نازک جڑت کو توڑنا ہے وہ اٹھارویں ترمیم پر ہونے والے حملوں سے بے نیاز ہوکر ایسی جدوجہد میں مصروف ہیں جس کا مقدر ناکامیوں کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ یہ لوگ اگر حقیقت میں بلوچستان کے محروم عوام کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں بندوقیں اٹھا کر پہاڑوں پر چڑھنے کی بجائے جمہوری راستہ اختیار کرتے ہوئے پارلیمان کے ایوانوں اور میدانوں میں اٹھارویں ترمیم کے تحت تسلیم کیے گئے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنا چاہیے۔ اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو بلوچستان کو چاہے کوئی جہاں سے مرضی بیٹھ دیکھے اسے وہاں وہی دکھائی دیتا رہے گا جو پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نظر آتا رہا۔







