Column

رمضان ریلیف پیکیج

رمضان ریلیف پیکیج
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 38ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان خوش آئند ہے۔ رمضان المبارک صرف عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ ایثار، ہمدردی اور اجتماعی ذمے داری کا بھی پیغام دیتا ہے۔ ایسے میں ریاست کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ کمزور اور مستحق طبقات کا سہارا بنے۔ شہباز حکومت کا یہ اقدام اسی احساسِ ذمے داری کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ رمضان ریلیف پیکیج کے تحت فی خاندان 13ہزار روپے فراہم کرنے کا فیصلہ ایک نمایاں اقدام ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ بریفنگ کے مطابق اس سال پیکیج کا مجموعی حجم 38 ارب روپے رکھا گیا ہے جب کہ گزشتہ سال 20ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس نمایاں اضافے سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے نہ صرف معاشی حقائق کو مدنظر رکھا بلکہ مستحقین کی ضروریات کو بھی سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس پیکیج کی ایک اہم خصوصیت اس کی شفاف اور ڈیجیٹل تقسیم ہے۔ مستحق افراد کو رقوم براہ راست بینکوں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جس سے نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ مستحقین کی عزتِ نفس بھی مجروح نہیں ہوگی۔ ہمارے ہاں ماضی میں امدادی رقوم کی تقسیم کے دوران لمبی قطاریں، سفارش اور غیر شفافیت جیسے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر ڈیجیٹل نظام کو موثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ سماجی بہبود کے نظام میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی) کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ سیکریٹری بی آئی ایس پی کی بریفنگ کے مطابق مستحقین کی نشان دہی اور ادائیگی کا عمل ایک منظم نظام کے تحت انجام دیا جائے گا۔ بی آئی ایس پی گزشتہ کئی برسوں سے نادار طبقے تک مالی معاونت پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور رمضان پیکیج کے لیے اسی ادارہ جاتی ڈھانچے کا استعمال حکومت کی دانش مندانہ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں شفاف طریقے سے رقوم تقسیم کی جائیں گی۔ یہ بیان نہایت اہم ہے، کیونکہ وفاقی سطح کے پیکیجز اکثر عمل درآمد کے مرحلے میں صوبائی ہم آہنگی کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر وزرا پر مشتمل کمیٹی واقعی موثر نگرانی کرے اور وزیراعظم خود اس نظام کی نگرانی کرتے رہیں، تو اس سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں وسائل محدود ہیں۔ ایسے میں 38ارب روپے کا ریلیف پیکیج مختص کرنا حکومت کی ترجیحات کا واضح اظہار ہے۔ جب ریاست اپنے بجٹ میں سے ایک بڑی رقم سماجی بہبود کے لیے مختص کرتی ہے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ رمضان جیسے مقدس مہینے میں یہ اقدام نہ صرف معاشی ریلیف فراہم کرتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ حکومت کی یہ کوشش اس لیے بھی قابلِ تحسین ہے کہ اس نے امداد کو باعزت اور منظم نظام کے تحت فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ مستحق افراد کو بینکوں کے ذریعے براہ راست ادائیگی سے ان کی خودداری محفوظ رہتی ہے۔ یہ سوچ ایک جدید فلاحی ریاست کی طرف پیش قدمی کی علامت ہے، جہاں شہری کو حق کے طور پر سہولت ملتی ہے، نہ کہ احسان کے طور پر۔ تاہم، ایک معیاری پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کے موثر نفاذ پر ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ مستحقین کی فہرستیں شفاف اور درست ہوں، شکایات کے ازالے کا نظام فعال ہو اور کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت سے بچا جائے۔ اگر حکومت اس پیکیج کو مکمل شفافیت کے ساتھ نافذ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ مستقبل میں دیگر سماجی پروگراموں کے لیے ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ حکومت اس ریلیف کو وقتی اقدام تک محدود نہ رکھے، بلکہ طویل المدتی معاشی اصلاحات پر بھی توجہ دے۔ رمضان پیکیج فوری ریلیف ضرور فراہم کرے گا، لیکن پائیدار خوش حالی کے لیے روزگار کے مواقع، مہنگائی پر قابو اور معاشی استحکام ناگزیر ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ شہباز حکومت نے کم از کم فوری سطح پر عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے عملی قدم اٹھایا ہے۔ عوامی سطح پر ایسے اقدامات کا اثر صرف مالی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ جب لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ حکومت ان کی مشکلات سے باخبر ہے اور عملی مدد فراہم کررہی ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ اعتماد کسی بھی حکومت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ 38ارب روپے کا رمضان ریلیف پیکیج ایک مثبت، بروقت اور عوام دوست اقدام ہے۔ شہباز شریف اور ان کی حکومت نے کمزور طبقات کے لیے جو قدم اٹھایا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس پیکیج کو دیانت داری، شفافیت اور موثر نگرانی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے سے لاکھوں خاندانوں کو آسانی ملے گی، یہ ایک ذمے دار اور فلاحی طرزِ حکمرانی کی مثال بھی قائم کرے گا۔ رمضان کا اصل پیغام ہی یہی ہے کہ معاشرے کے کمزور افراد کو سہارا دیا جائے اور اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ اقدام ایک اچھا اور معیاری قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
پنجاب: کچے کے علاقے ڈاکوئوں سے پاک
پنجاب کے کچے کے علاقے طویل عرصے سے جرائم، اغوا برائے تاوان اور مسلح جتھوں کی آماجگاہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے پھیلے یہ دشوار گزار خطے ریاستی رِٹ کے لیے ایک مستقل چیلنج بنے رہے۔ حالیہ ہفتوں میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ راجن پور اور رحیم یار خان کے جزیرہ نما علاقے مکمل طور پر کلیئر کر دئیے گئے ہیں اور سیکڑوں مسلح افراد نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ یہ امر نہ صرف سیکیورٹی کے میدان میں اہم کامیابی بلکہ ریاستی عملداری کی بحالی کی علامت بھی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق 6 ہفتوں پر محیط اس آپریشن میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور نائٹ ویژن کیمروں سے مدد لی گئی جبکہ مختلف اداروں نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں کیں۔ ہائی پروفائل گینگ لیڈروں سمیت بڑی تعداد میں ملزمان کا سرنڈر اور بھاری اسلحے کی برآمدگی اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست نے سنجیدگی سے طاقت کا استعمال کیا۔ تاہم اصل امتحان محض علاقے کو کلیئر کرنا نہیں بلکہ وہاں امن کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ہے۔ کچے کے علاقوں میں حکومت کی جانب سے اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، ٹیکنیکل ایجوکیشن سینٹرز اور گرین بس سروس کے اعلان کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اگر واقعی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو یہ اقدامات نوجوانوں کو جرائم کے راستے سے ہٹا کر مثبت سرگرمیوں کی طرف لا سکتے ہیں۔ کسان کارڈ اور زرعی اراضی کی فراہمی جیسے منصوبے مقامی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعلانات کاغذی وعدوں سے آگے بڑھ سکیں گے؟ کچے کے علاقوں کی جغرافیائی پیچیدگیاں، سیاسی اثر و رسوخ اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی جڑیں گہری ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے شفاف نگرانی، مقامی آبادی کی شمولیت اور مسلسل سیکیورٹی موجودگی ناگزیر ہوگی۔ تین رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا قیام ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کی کارکردگی نتائج سے جانی جائے گی۔ ریاستی رِٹ کی بحالی کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ عام شہری خود کو محفوظ محسوس کرے اور قانون سب پر یکساں لاگو ہو۔ اگر حکومت سیکیورٹی آپریشن کو سماجی انصاف اور معاشی ترقی کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کچے کا خطہ واقعی ماضی کی بدنامی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button