دم توڑتی مزاحمت

دم توڑتی مزاحمت
محمد مبشر انوار
پاکستانی سیاسی تاریخ اس کے معرض وجود سے ہی ایک کشمکش اور رسہ کشی کا شکار دکھائی دیتی ہے اور تاحال اس میں غیر سیاسی قوتوں کا پلڑا بہت بھاری دکھائی دیتا ہے گو کہ سیاستدانوں کی مزاحمت مسلسل جاری ہے لیکن ان سیاسی بزرجمہروں کی سیاست کا مرکز و محور صرف اقتدار تک رسائی ہی دکھائی دیتا ہے ماسوائے چند ایک حقیقی سیاسی قائدین کے۔ ابتداء سے ہی طاقت واختیار کے اس کھیل میں ،سیاسی کارکنان بوجوہ کہ ان کے پاس قوت کا شدید ترین فقدان رہا،وہ طاقت کے مرکز و محور کو نہ صرف یہ کہ قانون کے تابع کرنے میں ناکام رہے بلکہ طاقت کے اس کھیل میں ہمیشہ یہی دیکھا گیا کہ ہوس اقتدار میں مبتلا خودساختہ سیاسی قائدین،جمہوریت اور جمہوری اقدار کے برعکس، غیر سیاسی قوتوں کے آلہ کار دکھائی دئیے اور اس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کی کوئی تخصیص نہیں،ماسوائے یہ کہ طاقتوروں کو وقت کی مناسبت سے کس طبقہ فکر کی حمایت درکارتھی،وہ طبقہ فکر بسرو چشم،طاقتوروں کے سامنے سرنگوں نظر آیا۔ اس پس منظر میں یہ کیسے اور کیونکر ممکن تھا کہ ملک میں جمہوریت یا جمہوری اقدار مضبوط ہو پاتی؟ایوب خان کی آمریت میں ،تحریک پاکستان کے چیدہ چیدہ سیاسی کارکنان کو بیک جنبش قلم ،سیاست سے بیدخل کئے جانے پر،کیسے کیسے ابن الوقت سیاسی منظرپر ابھرے،ان کی اولادیں آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں، جنرل ضیاء کے دور میں اسلامی تشخص کا نام اس بری طرح سے استعمال ہوا کہ اچھی خاصی مذہبی روایات رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعتیں بھی جنرل ضیاء کی آلہ کار بن گئی،جنرل مشرف کے روشن خیال اسلام کے نام پر سیاسی جماعتوں پر نقب تو لگی لیکن مذہبی سیاسی جماعتیں بھی ،اس دور میں پوری طرح مستفید ہوئی۔اس دور میں مستفید ہونے والی مذہبی سیاسی جماعتیں ،اب کبھی اس گنگا سے ہاتھ دھونے کو دھوکے کا نام نہیں دے سکتی اور اس کی قیمت ان مذہبی سیاسی جماعتوں نے بخوبی ادا کی ہے کہ کسی بھی انتخابی مہم میں ،عوام نہ ان پر اعتبار کرتی ہے اور نہ ہی انہیں ووٹ دیتی ہے البتہ طاقتوروں سے سازباز کر کے بلکہ خیرات میں ملنے والی چند ایک نشستوں کے بدلے،یہ جماعتیں،پارلیمان میں،سوائے حق نمک ادا کرنے کے اور کچھ نہیں کرتی۔ اہم بات یہ ہے کہ حق نمک ادا کرتے ہوئے،یہ مگر مچھ کے آنسوبہاتے تو دکھائی دیتے ہیں،اپنی نمک حلالی کے عوض،جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے حقائق سے بھی آگاہ ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ وہی کرتے ہیں ،جس کی تنخواہ انہیں ملتی ہے،مراد وقت قیام یہ سجدے میں گرے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کی طرف نظر دوڑائیں تو ماضی کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی حالت بھی ،اس کے برعکس قطعا نہیں کہ ’’ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ کہنے والی سیاسی جماعت،آج سکڑ کر اندرون سندھ کی جماعت بن چکی ہے اور حالت یہ ہے کہ اگر کبھی غیر جانبدارانہ و شفاف،جس کا امکان حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے بالکل معدوم ہوتا جا رہا ہے،پیپلز پارٹی اندرون سندھ بھی عبرتناک شکست سے دوچار ہو سکتی ہے۔ یہ تو آصف زرداری کا دم غنیمت ہے کہ اس نے،پیپلز پارٹی کی ساکھ کو مصنوعی طریقے سے بچا رکھا ہے کہ انتظامیہ کی مدد سے دھونس،دھاندلی و جبر کی ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے وگرنہ حالات ایسے ہیں کہ جس طرح پیپلز پارٹی کا پنجاب میں صفایا ہوا ہے،اندرون سندھ بھی اس کی وہی حالت ہوجائے۔ اس کے علاوہ آصف زرداری کو بخوبی علم ہے کہ پیپلز پارٹی کے لئے پاکستان کے کسی بھی دوسرے صوبے میں اب ٹکٹ ہولڈر تک میسر نہیں رہے اور پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست اب صرف ڈرائنگ رومز یا طاقت کے مرکز کے ساتھ جوڑتوڑ کے بغیر کسی صورت زندہ نہیں رہ سکتی کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے جلسے جلوسوں میں عوام کا جم غفیر اور ٹھاٹھیں مارتی عوامی موجیں،اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ جب جماعت کا منشور ’’ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ سے تبدیل ہو کر ،ریاستی مشینری کے بل بوتے پر اقتدار کی غلام گردشوں تک پہنچنا بن جائے،طاقتوروں کے حضور پیش ہو کر،اپنے اقتدار کو یقینی بنانا ٹھہر جائے تو عوام بھی ایسی سیاسی جماعت سے منہ موڑ لیتی ہے اور یہی کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہوا ہے۔
دوسری بڑی سیاسی جماعت،جس نے ایک عرصہ سے پنجاب کو اپنے شکنجے میں کررکھا ہے،اس کے نزدیک ایک عرصہ تک یہی منترہ رہا ہے کہ پنجاب پر حکومت کا مطلب ہی یہ ہے کہ مرکز میں بھی آپ ہی کی حکومت ہے اور بالعموم ہوتا بھی یہی ہے کہ پنجاب میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت ہی وفاق میں براجمان دکھائی دیتی ہے۔ علاوہ ازیں!1997ء کے انتخابات کے بعد ،طاقت کے مرکز نے جہاں یہ سبق انتہائی سنجیدگی سے حفظ کر لیا ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں دی جاسکتی وہیں انگریز کے اصول ’’ تقسیم کرواور حکومت کرو‘‘ پر پوری جانفشانی سے عملدرآمد کروا رہا ہے۔ 1997ء کے بعد ہر انتخابی مہم جوئی،جس کے نتائج انتخابی عمل سے قبل ہی بصیرت رکھنے والوں کو دکھائی دے جاتے ہیں، میں کسی ایک جماعت کے پاس واضح مینڈیٹ نہیں او رہر سیاسی ومذہبی سیاسی جماعت انتخابی عمل کے بعد دھاندلی کا رونا تو روتی ہے مگر اقتدار میں حصہ بقدر جثہ لے کر ،مقرر کردہ تنخواہ پر کام کرتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی،سندھ حکومت پر ہی قانع دکھائی دیتی ہے کہ جب بھی اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتی ہے،اس کی اوقات اس کے سامنے رکھ دی جاتی ہے البتہ کبھی کبھار جب آقائوں کو پیپلز پارٹی کی ضرورت کھیل میں مہرے کے طور پر پڑتی ہے،تو اسے بالعموم بلوچستان میں اضافی حصہ دے دیا جاتا ہے۔ کے پی پر تحریک انصاف مکمل طور پر قابض ہوچکی ہے اور کے پی کے عوام نے اپنے ماضی کی روایات تک کو بدل ڈالا ہے کہ وہ کے پی جہاں کسی بھی سیاسی جماعت نے دوسری بار حکومت نہیں بنائی،تحریک انصاف آج تیسری بار اقتدار میں ہے اور اس کی ہر ٹرم گزشتہ ٹرم سے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں بیٹھی ہے۔ 2017ء میں نواز شریف کو اقتدار سے الگ کرنے پر جب نواز شریف احتجاج کرتے،’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان کرتے اسلام آباد سے لاہور پہنچے،تو ان کے قافلے میں چند سو لوگ دکھائی دئیے،اسی دوران نواز شریف نے انتہائی جارحانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے،سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے خلاف سخت تنقید بھی کی لیکن طاقت کے مرکز کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تاہم کچھ عرصہ کے بعد نواز شریف کی خاموشی سے ظاہر ہوا کہ انہیں مستقبل کے خواب دکھا کر خاموش کروایا گیا۔ بہرحال نوازشریف اس حوالے سے واقعتا خوش قسمت ہیں کہ انتہائی سخت زبان استعمال کرنے کے باوجود، طاقت کے مرکز کی جانب سے ان کے خلاف انتہائی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور انہیں ہمیشہ مستقبل میں ایک مہرے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بچا کر رکھا گیااور سچ یہ ہے کہ نواز شریف نے بھی انہیں کبھی مایوس نہیں کیا،ہرآڑے وقت میں ان کے لئے ڈھال ہی بنے۔ ایک طرف نواز شریف چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ لیکن دیگر سیاسی قائدین کی طرح جب بھی کھڑے ہونے کا وقت آیا،نواز شریف بھی سجدے میں ہی دکھائی دئیے ،اس کی یقینی طور پر وجہ نواز شریف کا وہ تکلیف دہ تجربہ ہو گا کہ جب انہوں نے ایک جلسے میں قدم بڑھا نوازشریف قوم تمہارے ساتھ ہے،کا جواب دیا تھا ۔بہرحال وہ ماضی تو گزر گیا لیکن اپنے ساتھ ہی نواز شریف کا وہ انقلابی جو ہمیشہ اقتدار میں جاگ اٹھتا تھا،اسے بھی اپنے ساتھ لے گیا جس میں وہ طاقتوروں کو سویلین کے ماتحت دیکھنا چاہتے تھے۔ یوں انقلابی سیاست کا یہ باب اب ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے کہ آج مسلم لیگ ن کی سیاسی حالت بھی پیپلز پارٹی سے قطعی مختلف نہیں اور پنجاب عملا ان کے ہاتھ سے جا چکا ہے کہ اس وقت بھی ان کی حکومت فارم 47ہی کی مرہون منت ہے۔
’’ حقیقی آزادی‘‘ پاکستانیوں کا نصیب ہے یا نہیں،اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کا علم بہرحال اس وقت عمران خان نے اٹھا رکھا ہے لیکن کب تک؟؟؟ جو سلوک عمران خان کے ساتھ ،مقتدرہ و اشرافیہ نے روا رکھا ہے،وہ تو خیر اس کے مخالف ہے،اس کی آواز کو دبانے کی ہرممکن سعی کر رہے ہیں، واضح مخالف ہیں،ان سے کیا گلہ لیکن جو سلوک عمران خان کی اپنی پارٹی اس کے ساتھ کر رہی ہے، اس کے بعد عمران خان کو کیا کرنا چاہئے؟ عمران خان کے نام پر ووٹ لینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کی یہ موجیں اسی وقت تک ہیں جب تک عمران خان جیل میں ہے، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام کے دلوں میں بسنے والا قائد، یوں بے یارو مددگار ہو؟ آج یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ عمران مقبولیت کی معراج میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے اور بعینہ جیسے بھٹو کے نام پر ووٹ لینے والے، مشکل میں اس کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے تھے، وہی صورتحال آج عمران کو بھی درپیش ہے۔ بھٹو بھی ’’ حقیقی آزادی‘‘ عوام کے لئے ،پاکستان کے لئے چاہتا تھااور عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے لیکن بھٹو کے وقت بھی اس کے سیاسی مخالفین ،منافقانہ کردار ادا کرتے ہوئے،ایک آمر کے ساتھ جا ملے تھے اور آج عمران خان کے ساتھی بھی ،آستین کے سانپوں کا کردار ادا کرر ہے ہیں،یہ ہماری اشرافیہ کی تلخ ترین سچائی ہے۔ اس پس منظر میں جو خبریں آرہی ہیں اور جو حالت عمران خان کی جیل میں ہے،ابھی تک تو اس کی آنکھ کی بینائی گئی ہے حالانکہ اس کٹھن سفر میں بھٹو اپنی جان گنوا چکے، اگر عمران خان کسی سمجھوتے کے تحت رہا ہوتے ہیں، جس کے امکانات عمران خان کی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی مشکل ہیںبالخصوص سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق کہ عمران خان نے کسی قسم کا شکوہ یا شکایت نہیں کی، کہا تو بس یہ کہ کم از کم زندہ رہنے کی ضروریات تو فراہم کر دو، تو اسے دم توڑتی مزاحمت ہی کہا جا سکتا ہے کہ عمران کے ہم عصروں میں اتنی جرآت و بہادری کسی او ر میں دکھائی نہیں دیتی جو اس مزاحمت کا پرچم اٹھا سکے۔





