شعور کی الگ ڈائمینشن

شعور کی الگ ڈائمینشن
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا، جس کے پاس سب کچھ تھا۔ اقتدار، محلات، دولت، خزانے، لشکر مگر اسے تاریخ میں زندہ رہنے کا وہم تھا۔ ایک دن محل کی چھت پر کھڑا ہو کر اس نے شہر کو دیکھا اور اپنے وزیر سے پوچھا، یہ شہر میرے لئے ہے یا میں اس کے لیے ہوں؟ وزیر خاموش رہا۔ اور اسی خاموشی میں بادشاہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ اقتدار ملکیت تو دیتا ہے، مگر معنی نہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا، جب بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا بھی تھا اور دِل کی دُنیا میں تنہا بھی تھا۔
یہی تنہائی وہ دروازہ ہے، جہاں سے ہر بڑی فکر، ہر گہرا سوال اور ہر حقیقی شعور جنم لیتا ہے۔ کہتے ہیں، اکیلے چلنے والا یا تو دیوانہ ہوتا ہے یا رہنما۔
نفسیات میں کارل یونگ کہتا ہے کہ جو شخص اپنے سائے کو پہچان لیتا ہے، وہ ہجوم سے الگ ہو جاتا ہے۔
اپنے اندر کے اندھیرے کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو اپنے تضادات سے بھاگتا ہے، وہ زندگی سے بھی بھاگتا ہے۔ اور جو ان کا سامنا کرتا ہے، وہ خود کو تشکیل دیتا ہے۔
وکٹر فرینکل نے نازی کیمپ میں بیٹھ کر لکھا۔ جب سب کچھ چھن جائے، تب بھی ایک چیز باقی رہتی ہے۔ اپنے رویے کا انتخاب۔
یہی انتخاب انسان کو حالات کا غلام بننے سے بچاتا ہے، اور معنی کا خالق بناتا ہے۔ کائنات کسی کے احساسات کے مطابق نہیں جھکتی۔ قدرت کا آفاقی قانون یہی ہے، جو ہم آہنگ ہو جاتا ہے، وہ بچ جاتا ہے۔ جو انکار کرتا ہے، وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی لیے فطرت جھکنا سکھاتی ہے۔ درخت ہوا کے ساتھ جھکتے ہیں، اسی لیے ٹوٹتے نہیں۔ دریا راستہ بدل لیتے ہیں، اسی لیے رکتے نہیں۔ اور پہاڑ خاموشی سے صدیوں کھڑے رہتے ہیں، کیونکہ وہ خود سے متصادم نہیں ہوتے۔
رومی نے کہا، کل میں ہوشیار تھا، دنیا بدلنا چاہتا تھا۔ آج میں دانا ہوں، خود کو بدل رہا ہوں۔
یہی اصل انقلاب ہے۔ باہر نہیں، اندر۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایسا انسان روایتی دنیا کے لوگوں جیسا نہیں ہوتا۔ ان کا زندگی کے بارے اپنا الگ زاویہ نظر ہوتا ہے۔ وہ جو ہجوم کی سوچ سے ہٹ کر سوچتے ہیں۔ وہ ایک الگ ڈائمینشن میں رہتے ہیں، اور ان کے پاس ایسے لوگوں کے لیے وقت نہیں ہوتا ہے، جن میں بے حس روحیں پائی جاتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس فرق کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں ؟ کیونکہ الگ ڈائمینشن میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بہتر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اپنے خیالات کے، اپنے عمل کے، اور اپنے اثر کے۔ کچھ لوگ زندگی کو عام زاویے سے نہیں دیکھتے۔ ان کا شعور کچھ گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہجوم کی فریکوئنسی پر نہیں سوچتے، اسی لیے وہ اکثر تنہا محو سفر ہوتے ہیں۔ یہ ڈائمینشن کوئی جگہ نہیں، یہ شعور کی سطح ہوتی ہے۔ جہاں یہ الگ اور مختلف فریکوئنسی پر سوچتے ہیں۔ اور ہر فریکوئنسی ہر جگہ قابلِ سماعت نہیں ہوتی۔
لیکن ایک بات دلچسپ ہے۔ جو لوگ واقعی گہرے ہوتے ہیں، وہ الگ رہنے کے ساتھ ساتھ سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اور وہ یہ بات بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ یہ اکثر بڑی طوفان کے آنے کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ولیم بلیک نے کہا۔
If the doors of perception were cleansed, everything would appear as it is infinite
ادراک کے دروازے صاف کر دئیے جائیں، تو ہر شے ویسی ہی نظر آئے گی، جیسی وہ حقیقت میں ہے، لامحدود۔
شعور کی یہ الگ وادی، تنہائی کی وہ دُنیا ہوتی ہے۔ جہاں انسان صرف اپنے سوچوں کے ساتھ ایک بادشاہ کی طرح رہتا ہے۔







