Column

کتاب کا تحفہ: شعور کی منتقلی کا عالمی دن

کتاب کا تحفہ: شعور کی منتقلی کا عالمی دن

شہر خواب ۔۔۔

صفدر علی حیدری

انسانی تاریخ کی عظیم ترین دریافتوں میں اگر کسی ایک شے کو مرکزِ نگاہ بنایا جائے تو وہ بلاشبہ ’’ کتاب‘‘ ہے۔ جہاں آگ نے انسانی وجود کو حرارت بخشی اور پہیے نے اسے تگ و دو کی حرکت عطا کی، وہیں کتاب نے اسے ’’ شعور‘‘ کے جوہرِ نایاب سے سرفراز کیا۔ شعور وہ روشنی ہے جس کے بغیر انسان محض ایک حیاتیاتی ڈھانچہ رہ جاتا ہے، مگر کتاب کی کیمیا گری اسے ایک فکری، نظریاتی اور تہذیبی وجود میں ڈھال دیتی ہے۔

علم، شعور اور تہذیب کی امین

انسانی تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کتاب محض کاغذ اور سیاہی کا مادی مجموعہ نہیں رہی، بلکہ یہ انسانی تجربات، مشاہدات اور تہذیبی ارتقاء کی سب سے معتبر امین ثابت ہوئی ہے۔ یہ وہ خاموش رفیق ہے جو انسان کو اس کی اپنی ذات کے نہاں خانوں سے آگاہ کرتی ہے، اس کے باطن کو منور کرتی ہے، اور اسے زمان و مکان کی مادی قید سے آزاد کر کے کائناتی وسعتوں میں لے جاتی ہے۔ یہ ہمیں ماضی کی حکمتوں سے جوڑتی ہے، حال کو سمجھنے کی بصیرت عطا کرتی ہے اور مستقبل کے دھندلکوں میں منزل کی سمت متعین کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کو کتاب پیش کرنا محض ایک مادی تحفہ نہیں، بلکہ ایک ایسا فکری اور روحانی سرمایہ منتقل کرنا ہے جو اس کی شخصیت کی تعمیر اور شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

عالمی یومِ کتاب تحفہ: ایک فکری تحریکاسی مقدس تصور کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 14فروری کو ’’ عالمی یومِ کتاب تحفہ‘‘ (International Book Giving Day)منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی فلسفہ کتاب دینے کی روایت کو زندہ کرنا، مطالعے کے ذوق کو عام کرنا، اور بالخصوص نوخیز نسل کو علم و فکر کے سرچشموں سے روشناس کرانا ہے۔ یہ دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کتاب کا تحفہ دراصل ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔

اس تحریک کا آغاز2012ء میں ایک امریکی خاتون ایمی براڈمور نے کیا۔ بچوں کے ادب سے وابستہ ہونے کے ناطے انہوں نے شدت سے محسوس کیا کہ جدید مادی دور میں بچوں کو کھلونے اور دیگر اشیاء تو تحفے میں دی جاتی ہیں، مگر "کتاب” دینے کی خوبصورت روایت دم توڑ رہی ہے۔ یہ احساس دراصل ایک گہرے تہذیبی بحران کا پیش خیمہ تھا، کیونکہ جب معاشرے کتاب سے اپنا ناطہ توڑ لیتے ہیں تو وہ اپنی فکری اساس سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ ایمی براڈمور کی یہ ننھی سی شمع آج ایک عالمی مشعل بن چکی ہے، جسے دنیا بھر میں علم کے فروغ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

کتاب: مصنف اور قاری کے مابین ایک روحانی پل

کتاب بطور تحفہ محض ایک مادی شے کی منتقلی نہیں بلکہ یہ دو ذہنوں کے درمیان مکالمے کا آغاز ہے۔ جب ایک قاری کسی دوسرے کو کتاب دیتا ہے، تو وہ دراصل اس مصنف کی برسوں کی ریاضت، مشاہدات اور خونِ جگر سے کشید کردہ خیالات کو بانٹ رہا ہوتا ہے۔ یہ عمل علم کی تقسیم (Distribution of Knowledge)کا ایک ایسا خودکار نظام ہے جو معاشرے میں فکری یکجہتی پیدا کرتا ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کے اندر سوئے ہوئے سوالات کو جگاتی ہے اور اسے کائنات کے سربستہ رازوں پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ یہ خاموش گفتگو ہی دراصل وہ عمل ہے جو انسانی معاشرت کو حیوانی جبلتوں سے بلند کر کے اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر فائز کرتی ہے۔

تحفہ دینا انسانی تعلقات میں حلاوت پیدا کرتا ہے، مگر کتاب بطور تحفہ دینا ایک منفرد اور بلند پایہ عمل ہے۔ یہ محض ایک چیز کا تبادلہ نہیں بلکہ شعور، فکر اور ایک پوری کائنات کا تبادلہ ہے۔ جب آپ کسی کو کتاب تحفے میں دیتے ہیں تو دراصل آپ اسے سوچنے کی نئی جہت، نئے خیالات اور ایک وسیع ذہنی افق عطا کرتے ہیں۔ کتاب ایک ایسا اثاثہ ہے جو وقت کی گرد سے دھندلا نہیں ہوتا، بلکہ مطالعے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت مزید گہری اور قیمتی ہوتی چلی جاتی ہے۔ انسان کی اصل قوت اس کا شعور ہے، اور اس شعور کی آبیاری کتاب کے بغیر ناممکن ہے۔ کتاب انسان کو اندھی تقلید کی زنجیروں سے نجات دلا کر سوال کرنے کا حوصلہ اور حقیقت کو پرکھنے کی قوت دیتی ہے۔

موجودہ دور میں جہاں کتاب خریدنا ہر طبقے کے لیے ممکن نہیں رہا، وہاں کتاب تحفے میں دینے کا عمل ایک سماجی خدمت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ ہمیں انفرادی تحائف کے ساتھ ساتھ اپنی محلہ جاتی اور تعلیمی لائبریریوں کو بھی اپنی محبتوں کا مرکز بنانا چاہیے۔ کسی لائبریری کو کتاب عطیہ کرنا دراصل سیکڑوں ذہنوں کی آبیاری کا سامان کرنا ہے۔ جب ہم ایک مستحق طالب علم یا ایک پیاسے قاری کے ہاتھ میں کتاب تھماتے ہیں، تو ہم ایک ایسی شمع روشن کر رہے ہوتے ہیں جس سے نکلنے والی روشنی کئی نسلوں کا راستہ منور کر سکتی ہے۔ یہی وہ ’’ صدقہ جاریہ‘‘ ہے جو انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے علمی و فکری نشانات کو مٹنے نہیں دیتا۔

بچپن وہ بیج ہے جس سے مستقبل کا تناور درخت جنم لیتا ہے۔ اس مرحلے پر کتاب بچوں کے تخیل کو پروان چڑھاتی ہے، ان کے ذخیرہ الفاظ کو وسعت دیتی ہے اور ان میں سیکھنے کی پیاس پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح، کتاب "تہذیبی حافظہ” بھی ہے۔ اگر کتاب نہ ہوتی تو انسانی تجربات ضائع ہو جاتے اور ہر نسل کو علم کا سفر دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑتا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے معلومات کی بھرمار کر دی ہے، وہاں ’’ گہرے مطالعے‘‘ کی روایت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ فوری معلومات (Instant Info)کے اس عہد میں کتاب ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو سطحی پن سے نکال کر فکر کی گہرائیوں تک لے جا سکتی ہے۔

اسلامی تناظر اور ہماری ذمہ داری

محتاجِ بیان نہیں۔ قرآنِ حکیم کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ’’ اقر‘‘ ( پڑھ) ہے، جو اس بات کا اعلان ہے کہ اس دین کی بنیاد ہی علم و مطالعہ پر ہے۔ مسلم تہذیب کا عروج کتب خانوں اور اہلِمصنفین کی مرہونِ منت رہا ہے۔ ہماری یہ روشن روایت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ کتاب ہی انسانی رفعت کی ضامن ہے۔

عالمی یومِ کتاب تحفہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم علم کی روشنی کو پھیلائیں گے۔ اسے بچوں کو کتابیں دے کر، دوستوں میں علمی ذوق پیدا کر کے، لائبریریوں کو آباد کر کے اور ضرورت مندوں تک رسائی فراہم کر کے منایا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم ایک باشعور اور مہذب معاشرے کے خواب کو تعبیر دینا چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑنا ہوگا۔

کیونکہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں،

یہ شعور ہے۔

یہ روشنی ہے۔

یہ انسان کی اصل پہچان ہے۔

جواب دیں

Back to top button