ColumnImtiaz Aasi

عمران خان کی آنکھوں کا معاملہ

عمران خان کی آنکھوں کا معاملہ

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

یہ مسلمہ حقیقت ہے قیدوبند میں رہتے ہوئے انسان کسی نہ کسی عارضے کا ضرور شکار ہو جاتا ہے۔پھر اس بات سے کسی کو انکار نہیں جیلوں میں رہتے ہوئے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو اگرچہ اشیاء خوردونوش اور دیگر سہولتوں کی فراوانی ہے مگر جس جگہ انہیں رکھا گیا ہے ماسوائے آسمان اور لوہے کے جنگلوں کے کوئی شے دکھائی نہیں دیتی ہے۔ گو بانی پی ٹی آئی کو جس جگہ رکھا گیا ہے وہاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی وہیں رکھا گیا لیکن ان کے وہاں قیام کا دورانیہ مختصر تھا۔قید خانے کی صعوبتیں اور ان کا انسانی صحت پر اثرات سے ہی اللہ کے نبی حضرت یوسفٌ نے ویسے تو نہیں کہا تھا قید خانہ جہنم کا ٹکڑا ہے۔انسان اقتدار میں ہوتا ہے اسے کوئی شے دکھائی نہیں دیتی بسا اوقات وہ کوئی ایسا بول بھی بول جاتا ہے جو حق تعالٰ کو پسند نہیں ہوتا لہذا انسان زندگی کے کسی گوشے میں ہو اسے اللہ سبحانہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ملکی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کسی سیاست دان کے خلاف اتنی بڑی تعداد میں مقدمات درج ہوئے ہوں ۔چیف جسٹس پاکستان کی طرف سے برسٹر سلمان صفدر کو فرینڈز آف کورٹ مقرر کرنا ویسے نہیں تھا خان کی سزائوں کے خلاف اپیلیں اس وقت سپریم کورٹ میں ہیں ۔اگر خان کے کونسل کو قیدی تک رسائی نہ دی جاتی تو ہم دنیا کو کیا منہ دکھاتے ہمارا عدالتی نظام اس قدر خراب ہے جیل میں قید سابق وزیراعظم کے وکیل کو قیدی تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے، لہذا چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ اقدام انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے وقت کی ضرورت تھی۔ اب ہم آتے ہیں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے علاج معالجے کی طرف جس میں سابق سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم نے ایک اردو معاصر کو بتایا ہے انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا 25 مرتبہ معائنہ کرایا ہے اور آخری مرتبہ جس روز انہوں نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑا اس روز بھی پمز کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کو معائنہ کیا تھا۔اب یہ بات ریکارڈ پر ہے جیل سپرنٹنڈنٹ نے بانی پی ٹی آئی کے آنکھوں کے علاج معالجہ کے سلسلے میں غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اس سلسلے میںجیل میں پورا ریکارڈ موجود ہے۔عام طور پر لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے جیل سپرنٹنڈنٹس قیدیوں کو جیل سے باہر ہسپتال بھیجنے کے مجاز ہوتے ہیں بالکل غلط ہے ۔مروجہ طریقہ کار کے مطابق اگر قیدی کسی عارضے میںمبتلا ہو تو سرکاری ہسپتالوں کے اسپشلسٹ ڈاکٹر جب تک قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال بھیجنے کی سفارش نہ کریں قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال نہیں بھیجا جا سکتا ہے۔گو بانی پی ٹی آئی کے معاملے میںجیل سپرنٹنڈنٹ نے کئی بار ماہر چشم ڈاکٹروں سے ان کی آنکھوں کا معائنہ کرایا لیکن جب تک ماہر ڈاکٹر فائل پر قیدی کو جیل سے باہر بھیجنے کی سفارش نہ کریں قیدی کو کسی صورت میں جیل سے باہر ہسپتال نہیں بھیجا جا سکتا ہے۔پھر یہ کوئی نئی بات نہیں جیل کے سیلوں میں رکھے جانے والے قیدیوں اور حوالایتوں کا کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا ہونا قدرتی امر ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے پی ٹی آئی رہنمائوں پر جو مطالبہ انہیں کرنا چاہیے وہ کرتے نہیں حالانکہ انہیں حکومت سے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بی کلاس قیدیوں کے لئے مختص جگہ پر منتقل کرنے کی بات کرنی چاہیے ۔بی کلاس قیدیوں کے لئے مختص جگہ سیلوں سے بالکل مختلف ہے جہاں کمروں میں بیڈ اور اٹیچ باتھ میں الیکٹرک گیز کی سہولت میسر ہے ۔جیل کے سیلوں میں نہ تو اٹیچ باتھ اور نہ ہی گیز ہوتے ہیں۔ جیلوں میں رہنے والوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے خواہ انہیں کتنی سہولتیں میسر ہوں انسانی صحت پر جیلوں کے منفی اثرات سے کوئی خوش قسمت محفوظ رہ سکتا ہے۔بلا شبہ بانی پی ٹی آئی ایک مضبوط اعصاب رکھنے والا قیدی ہے ورنہ کوئی اور سیاست دان ہوتا کب کا حکومت اور طاقتور حلقوںسے ڈیل کرکے ملک سے باہر چلا جاتا ۔اب سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے سولہ فروری تک بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ کرایا جائے ایسی صورت میں ماہرین چشم اس بات کی سفارشات دیتے ہیں بانی کا علاج معالجہ جیل ہسپتال میں ممکن نہیں لہذا انہیں جیل سے باہر سرکاری ہسپتال منتقل کیا جائے تو اس بات کی حتمی منظوری آئی جی جیل خانہ دیں گے جس کے بعد انہیں جیل سے باہر سرکاری ہسپتال میں بھیجا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے حلقوں کی طرف سے یہ کہنا سابق جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف مقدمہ در ج کرائیں گے تو یہ بات اس لئے ممکن نہیں سابق سپرنٹنڈنٹ نے اس سلسلے میں فائل ورک مکمل کر رکھا تھا لہذا اس سلسلے میں سابق سپرنٹنڈنٹ جیل کے خلاف نہ تو مقدمہ درج ہو سکتا ہے نہ ہی کوئی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ جناب چیف جسٹس کے حکم کے بعد خان کی آنکھوں کا معائنہ کرنے والی ماہرین چشم کی ٹیم جو سفارشات مرتب کرے گی اس کی روشنی میں ان کا علاج معالجہ عمل میں لایا جا ئے گا لہذا پی ٹی آئی والوں کو اب سول فروری کا انتظار کرنا چاہیے۔ جیسا کہ میں پہلے اپنے وی لاگ میں کہہ چکا ہوں بانی کے وکیل کو رسائی دنیا قانونی ضرورت تھی لہذا بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنمائوں کی ملاقاتیں تاحال بند ہیں اور مستقبل قریب میں یہ ملاقاتیں کھلنے کا کوئی امکان نہ ہے۔ پی ٹی آئی رہنمائوں کو معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے نہ کہ ملک میں افراتفری کرکے معاملات حل ہو سکتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جو مقدمات ہیں ان کی سماعت کے لئے وکلاء کو جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی عمل میں لائی جا سکے۔ اس وقت پی ٹی آئی کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سرفہرست بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے جس کے لئے پارٹی رہنمائوں کو صدق دل سے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button