
امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے۔
دو امریکی عہدیداروں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہو گی۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، امریکا ایران کا جوہری انفرا اسٹرکچر ہی نہیں اسٹیٹ اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر رہا ہے جبکہ ہزاروں فوجی، جنگی جہاز، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی مشرقِ وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں
امریکی عہدیدار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
ادھر اس حوالے سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب فورس کا مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیہ میں فوجی اڈے موجود ہیں







