کینسر کا مرض، فرشتے اور ایک مسیحا انسان

کینسر کا مرض، فرشتے اور ایک مسیحا انسان
روشن لعل
دل کے امراض کی طرح کینسر بھی دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا باعث بننے والی بیماری ہے۔ گزشتہ برس اگر دل کے امراض، دنیا میں دس ملین کے قریب لوگوں کی موت کا باعث بنے تو کینسر سے بھی تقریباً اتنے ہی لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ یہ بات کوئی راز نہیں کہ جن ملکوں میں عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں وہاں موت کا فرشتہ کینسر اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے کم ہی قریب آپاتا ہے۔ افسوس کہ وطن عزیز، پاکستان کو صحت کی بہترسہولتوں کے حامل ملکوں میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ یورپی یونین میں شامل ملکوں میں اگر عوام کو صحت کی سہو لتیں فراہم کرنے پر سالانہ اوسطاً 4549امریکی ڈالر فی فرد خرچ کیے جاتے ہیں تو پاکستان کے اندر اس مد میں صرف 38تا 40ڈالر فی فرد خرچ ہوتے ہیں۔ یورپی یونین کے ملکوں اور پاکستان میں صحت کے شعبہ کے لیے مختص رقم کے فرق سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں موت کا فرشتہ دل اور کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے زیادہ قریب کیوں ہوتا ہے۔ موت کے فرشتے کوجہاں سازگار ماحول میسر آتا ہے وہ وہاں اپنا کام دکھاتا رہتا ہے لیکن نفسا نفسی کے ماحول میں بھی کچھ ایسے انسان نما فرشتے سامنے آجاتے ہیں جو اپنے مالی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے، لاچار مریضوں اور موت کے فرشتے کے درمیان دیوار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر ایسے انسانی فرشتے اس وقت اپنے مالی وسائل ، عطیات کی شکل میں پیش کرتے ہیں جب کوئی مسیحا نما انسان اپنی زندگی موذی امراض میں مبتلا مریضوں کی جان بچانے کے لیے وقف کرتے ہوئے محرک کا کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں چھوٹے پیمانے پر تو کئی ایسے ہسپتال نظر آجاتے ہیں جن کی تعمیر کے بعد مفت علاج کی سہولتیں بھی مخیر لوگوں کی طرف سے ملنے والے عطیات کی بدولت فراہم جاتی ہیں مگر اس طرح کے بہت بڑے ہسپتالوں کی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسی کمیاب مثالوں میں سے ایک مثال لاہور میں کینسر کیئر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی شکل میں موجود ہے۔
کینسر کیئر ہسپتال اینڈ ریسرج سینٹر کو قائم کرنے والے مسیحا کا نام ڈاکٹر شہر یار ہے۔ ڈاکٹر شہر یار کا بنایا ہوا ہسپتال لاہور میں مشہور پاجیاں چوک سے ڈیڑھ کلومیٹر دور اجتماع گاہ بائی پاس، روہی نالہ ، رائے ونڈ روڈ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ کینسر کیئر ہسپتال اینڈ ریسرج سینٹر 27ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور یہاںکینسر میں مبتلا مریضوں کو بلامعاوضہ علاج کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ کینسر کیئر ہسپتال کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی بنیاد اس جذبے کے تحت رکھی گئی تھی کہ یہاں نہ صرف کینسر کے تمام مریضوں کو مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی بلکہ کسی ایسے مریض کو بھی انکار نہیں کیا جائے گا جسے کسی دوسرے ادارے نے لاعلاج قرار دی کر اس کے حال پر چھوڑ دیا ہو ۔ اس ہسپتال کو تعمیر کرنے والوں کے احساس کی خوبصورتی ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے لاعلاج تصور کیے گئے مریضوں کے لیے ایسی سہولتوں سے آراستہ حصہ تعمیر کیا ہے جو سہولتیں انہیں ان کے پیارے اپنے گھروں میں بھی مہیا نہیں کر سکتے ۔ کینسر کیئر ہسپتال بنانے والوں کے دل میں دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ کس حد تک موجود ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب یہ ہسپتال ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اس وقت بھی جس حد تک ممکن تھا اسے کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیاتھا۔ ایک زیر تعمیر ہسپتال سے کینسر کے علاج کے سلسلے میں کیا کام لیا جائے اس کے لیے انتظامیہ کو سب سے پہلے بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتیں کا خیال آیا۔ بریسٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص اور علاج کی بنیاد ایک خاص ٹیسٹ میمو گرافی ہے۔ میمو گرافی ٹیسٹ کی مفت سہولت فراہم کرنی کے لیے اٹلی سے جدید ترین مشینیںخریدی گئیںجن کی درآمد پر لاکھوں ڈالر خرچہ آیا۔ ان مشینوں میں سے ایک ہسپتال کے اندر اور دو خاص طور پر بنائے گئے موبائل کنٹینروں میں نصب کی گئیں۔ ہسپتال میں موجود مشین سے تو ظاہر ہے کوئی کینسر کیئر ہسپتال میں آکر ہی مستفید ہو سکتا ہے مگر موبائل کنٹینروں میں نصب مشینوں کو مفاد عامہ میں ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔ سال 2020کے بعد سے کینسر کیئر ہسپتال کی طرف سے چھاتی کے سرطان سے آگاہی اور علاج کے لیے چلائی جانے والی مہم کے دوران میمو گرافی مشینوں سے لیس موبائل کنٹینروں پر موجود عملہ جنڈ، کرک، لکی مروت، بہاولپور، احمدپور شرقیہ، صادق آباد، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو، مظفر گڑھ، جنگ اور سکھر جیسے علاقوں میں جا کر وہاں کی عام عورتوں کو ٹیسٹ اور علاج کی سہولتیں اور معلومات فراہم کرتا رہا۔ کینسر کیئر ہسپتال کی طرف سے ہزاروں خواتین کی مفت میمو گرافی اور الٹرا سائونڈ ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں کے ذریعے جن خواتین میں مختلف سٹیج کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہر طرح سے بلامعاوضہ علاج کی سہولت فراہم کی گئی ۔ ایسی خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص اور مفت علاج کے لیے ہسپتال مخیر لوگوں کی طرف سے عطیات کی شکل میں ملنے والی خطیر رقم خرچ کر چکا ہے۔ کینسر کیئر ہسپتال میں ایک طرف تعمیر شدہ حصہ میں مریضوں کا مفت علاج جاری ہے تو دوسری طرف توسیعی پروگرام کے تحت نئے بلاکس کی تعمیر بھی ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں زیر تعمیر اونکالوجی بلاک کو مکمل کرنے کا تخمینہ 376کروڑ روپے لگایا گیا ہے، تخمینہ کی رقم میں سے اب تک 66کروڑ روپے کے عطیات وصول ہو چکے ہیں جبکہ 310کروڑ روپے اکٹھے کیے جانا ابھی باقی ہے۔ ڈاکٹر شہر یار کو یقین ہے کہ جس طرح فرشتہ نما انسانوں نے ان کی ذات اور ٹیم پر اعتماد کرتے ہوئے ہسپتال کی تعمیر اور وہاں کینسر کا مفت علاج ممکن بنانے کے لیے دل کھول کر عطیات دیئے اسی طرح وہ آئندہ بھی ان پر اعتماد کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
پاکستان میں اکثر مخیر حضرات رمضان کے مہینہ میں ہسپتالوں اور دیگر فلاحی اداروں کو زکوٰۃ اور عطیات دینے کو ترجیح دیتے ہیں اس رجحان کو دیکھتے ہوئے اکثر فلاحی ادارے ، زیادہ سے زیادہ عطیات وصول کرنے کی کی غرض سے میڈیا پر مہنگی اشتہاری مہموں کے ذریعے مخیر حضرات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شہر یار کے متعلق مشہور ہے کہ مہنگی تشہیری مہم کے ذریعے عطیات اکٹھے کرنے کے لیے کسی بڑے سلیبرٹی کو برانڈ ایمبیسڈر بنانے پر رقم خرچ کرنے کی بجائے وہ سادہ انداز میں مخیر حضرات تک اپنا پیغام پہنچانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ عطیات کے ذریعے حاصل ہونے والے فنڈ کو ہر ممکن حد تک ہسپتال کی تعمیر اور مریضوں کے مفت علاج پر خرچ کیا جائے ۔ اسی سوچ کی تحت کینسر کیئر ہسپتال کی تعمیر کے لیے عطیات کی درخواست انتہائی سادہ اور بہت کم خرچ سے تیار کیے گئے اشتہاری مواد کے ذریعے کی جاتی ہے۔ عطیات کی فراہمی کے لیے سادہ طریقے سے کی جانے والی درخواست بھی ان درد مند دلوں پر اثر کر سکتی ہی جو ایسے فرشتہ نما انسانوں کے دلوں میں دھڑکتے ہیں جن کا مطمع نظر نام و نمود اور شہرت کا حصول نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت ہوتا ہے۔





