3 سرکاری ملازمین کی بے حسی ۔۔۔۔۔ لمحہ فکریہ

3 سرکاری ملازمین کی بے حسی ۔۔۔۔۔ لمحہ فکریہ
تحریر: رفیع صحرائی
پنجاب کے دل لاہور میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صوبائی سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں، جن کی قیادت اگیگا کے مرکزی راہنما رحمان باجوہ کر رہے ہیں۔ تمام اضلاع سے اساتذہ صاحبان اور کلرکس تنظیمیں اس احتجاج میں شریک ہیں جبکہ حیرت انگیز طور پر مقامی سرکاری ملازمین یعنی لاہوریوں کی تعداد مایوس کن ہے۔ حالانکہ صرف لاہور کے سرکاری ملازم ہی اس احتجاج میں شریک ہو جائیں تو یہ تعداد لاکھوں میں بنتی ہے۔
پنجاب کے درجنوں صوبائی محکموں میں لاکھوں سرکاری ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر افسوس کہ جب اپنے ہی حقوق کے تحفظ کی بات آئی تو میدان میں صرف محکمہ تعلیم کے چند ہزار اساتذہ اور چند کلرک تنظیمیں ہی نظر آ رہی ہیں۔ تین دن سے یہ لوگ سرد موسم، شدید تھکن اور انتظامی دبائو کے باوجود لاہور میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں جبکہ دیگر محکموں کی خاموشی نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ ایک تشویشناک رجحان کی عکاس بھی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سرکاری ملازمین ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی کے دم سے دفاتر چلتے ہیں، عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور حکومتی مشینری حرکت میں رہتی ہے۔ مگر جب یہی طبقہ اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز بلند کرتا ہے تو اس کی صفوں میں اتحاد ناپید دکھائی دیتا ہے۔ لاکھوں ملازمین میں سے چند ہزار افراد کا میدان میں ہونا اجتماعی بے حسی اور مصلحت پسندی کی واضح علامت ہے۔خصوصاً لاہور جیسے باشعور اور سیاسی طور پر متحرک شہر کی کمزور شرکت نے شدید مایوسی کو جنم دیا ہے۔ جس شہر نے تحریکِ پاکستان سے لے کر جمہوریت کی بحالی تک ہر دور میں قیادت کا کردار ادا کیا، آج وہ اپنے ہی ملازمین کے بنیادی حقوق کے معاملے میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف افسوسناک بلکہ قومی اقدار سے متصادم بھی ہے۔
اس موقع پر رحمان باجوہ جیسے رہنمائوں کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے جو تین دن سے ذاتی آسائشوں، گھریلو ذمہ داریوں اور آرام کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں موجود ہیں اور تمام سرکاری ملازمین کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ جدوجہد صرف چند افراد کے کندھوں پر ڈال دینا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ کیا لاکھوں ملازمین کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس تحریک میں بھرپور شرکت کریں اور اجتماعی قوت کا مظاہرہ کریں؟۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حقوق کبھی پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کیے جاتے۔ انہیں حاصل کرنے کے لیے قربانی، استقامت اور اتحاد درکار ہوتا ہے۔ جو قومیں خاموشی کو دانائی اور مصلحت کو حکمت سمجھ بیٹھتی ہیں، ان کا مقدر پھر مسلسل محرومی اور استحصال بن جاتا ہے۔ آج اگر سرکاری ملازمین نے اجتماعی سطح پر بیداری کا مظاہرہ نہ کیا تو کل جب ناانصافی ان کے اپنے دروازے پر دستک دے گی تو شاید کوئی آواز احتجاج باقی نہ رہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی ملازمین ذاتی مفادات، وقتی اندیشوں اور بے جا خوف سے نکل کر ایک صف میں کھڑے ہوں۔ پرامن، منظم اور باوقار جدوجہد کے ذریعے اپنے جائز مطالبات منوائیں اور یہ پیغام دیں کہ سرکاری ملازمین محض حکم کے تابع نہیں بلکہ اپنے حقوق سے باخبر اور ان کے لیے جدوجہد کرنے والے باوقار شہری ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہر فرد خود دیدہ ور بنے، خود شعور کی شمع روشن کرے اور اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنے۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر چند افراد نہیں بلکہ اجتماعی بیداری بدلتی ہے۔ اگر آج سرکاری ملازمین متحد ہو گئے تو موجودہ اور آنے والی کوئی حکومت ان کے جائز حقوق سلب نہیں کر سکے گی۔




