افغان دی فیکٹو اتھارٹیز

’’ افغان دی فیکٹو اتھارٹیز‘‘
قادر خان یوسف زئی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سچائی کو جتنی بھی گرد میں چھپانے کی کوشش کی جائے، وہ ایک نہ ایک دن اپنا راستہ بنا کر منظر عام پر آ ہی جاتی ہے، اور جب سچائی اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیم کی مہر تصدیق کے ساتھ سامنے آئے تو انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پاکستان کی ریاست گزشتہ کئی برسوں سے جس کرب، جس لہو اور جس آگ کا سامنا کر رہی ہے، اور جس طرح بار بار عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی گئی کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا مرکز بن چکی ہے، اب سلامتی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ نے پاکستان کے اس موقف پر سچائی کی وہ مہر ثبت کر دی ہے جسے مٹانا کابل کے موجودہ حکمرانوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ فروری 2026ء میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37ویں رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس خطے میں جاری اس گریٹ گیم اور خونی منظرنامے کی ایک ایسی چارج شیٹ ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کردار مرکزی ولن کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ولن کو ’’ افغان دی فیکٹو اتھارٹیز‘‘ یعنی افغان طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی، آزادی اور وسائل میسر ہیں۔ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سفارتی تکلفات کے پردے چاک ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ فتنہ الخوارج اب محض ایک بکھرا ہوا گروہ نہیں رہا بلکہ افغانستان کے اندر اسے وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو کسی بھی باقاعدہ فوج کو حاصل ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مندرجات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات دل دہلا دینے والی ہے کہ افغان طالبان رجیم نے کالعدم ٹی ٹی پی کو دیگر گروہوں، بشمول داعش خراسان، کے مقابلے میں کہیں زیادہ آزادی اور آپریشنل سپورٹ فراہم کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوئوں کی تعداد 6000سے 6500کے درمیان ہے، جو کہ ایک خطیر تعداد ہے اور یہ جنگجو کسی غار میں چھپ کر نہیں بیٹھے بلکہ افغانستان کے صوبوں کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں ان کے تربیتی مراکز پوری آب و تاب کے ساتھ چل رہے ہیں۔ یہ وہی علاقے ہیں جو تاریخی طور پر پاکستان کے خلاف دراندازی کے لانچنگ پیڈ رہے ہیں ، اور اب اقوام متحدہ نے تصدیق کر دی ہے کہ جولائی سے دسمبر 2024ء کے دوران پاکستان پر ہونے والے 600سے زائد حملوں میں سے اکثریت کی ڈوریں انہی افغان صوبوں سے ہلائی گئیں۔
اس رپورٹ کا سب سے تشویشناک اور آنکھیں کھول دینے والا پہلو وہ مالی اور لاجسٹک معاونت ہے جو اس دہشت گرد تنظیم کو فراہم کی جا رہی ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک تباہ حال معیشت والے ملک میں، جہاں عوام روٹی کو ترس رہے ہیں، وہاں کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے خاندان کو ماہانہ 43000ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی جا رہی ہے؟ یہ انکشاف کسی عام ذرائع سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی دستاویز سے ہوا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک چندے پر نہیں بلکہ ریاستی سطح کی سرپرستی میں چلنے والے ایک منظم معاشی ماڈل پر کھڑا ہے۔ یہ فنڈنگ اس امر کا ثبوت ہے کہ کابل میں بیٹھے ہوئے ’ برادران‘ نہ صرف کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنا اسٹریٹیجک اثاثہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے پاکستان کے خلاف ایک پریشر گروپ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ مزید براں، رپورٹ میں اس خوفناک حقیقت کا پردہ بھی چاک کیا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اب روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی۔ انہیں افغان طالبان کے پرمٹس اور اجازت ناموں کے ذریعے نائٹ ویژن ڈیوائسز ( Night-vision devices) اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو رات کے اندھیرے میں ہمارے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور جس نے جنگ کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اکتوبر 2025ء میں پاکستان نے اگرچہ ایک کامیاب آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے نائب امیر مفتی مزاحم کو جہنم واصل کیا، لیکن رپورٹ بتاتی ہے کہ اس طرح کے نقصانات کے باوجود تنظیم کی آپریشنل صلاحیت میں کمی نہیں آئی کیونکہ اس کی پشت پر القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا کا سب سے بڑا فورم یہ کہہ رہا ہے کہ افغان طالبان رجیم ،کالعدم ٹی ٹی پی کو پناہ، پیسہ اور ہتھیار دے رہے ہیں، تو پھر سفارتی خاموشی کا کیا جواز؟، رپورٹ نے پاکستان کے اس دیرینہ موقف کو درست ثابت کیا ہے کہ کابل میں موجود عبوری حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ دوحہ معاہدے میں یہ ضمانت دی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن یہاں تو معاملہ الٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بدخشاں کے کیمپوں میں غیر ملکی جنگجوئوں کی تربیت جاری ہے اور وسطی ایشیا سے جنگجوئوں کی آمد کا سلسلہ بھی تھما نہیں ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کی دیگر ریاستوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اقوام متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک اب افغان طالبان رجیم کے اس دعوے کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی سرزمین پر دہشت گرد گروہ موجود نہیں ہیں۔ یہ عالمی عدم اعتماد اس امر کا غماز ہے کہ افغان طالبان کی پالیسیاں انہیں سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں، لیکن اس کا خمیازہ پاکستان کو اپنے جوانوں اور شہریوں کے لہو کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف ایک ہائبرڈ وار مسلط کی گئی ہے جس میں نسلی اور مذہبی دہشت گردی کو ایک ہی چھتری تلے جمع کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، تحریک جہاد پاکستان ( TJP) کے نام سے ابھرنے والا نیا گروپ اور اس کا القاعدہ برصغیر ( AQIS) کے ساتھ ممکنہ اتحاد اس خطرے کو ’’ نان ریجنل‘‘ یا بین الاقوامی سطح کا خطرہ بنا رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کا خطرہ اب ارتقائی مراحل طے کر چکا ہے۔ یہ وہ پرانی ٹی ٹی پی نہیں جو صرف کلاشنکوف لہراتی تھی۔ یہ ایک جدید، ٹیکنالوجی سے لیس اور مالی طور پر مستحکم تنظیم ہے جسے ملک دشمن ریاستوں کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔ اسلام آباد کے قلب میں ہونے والا حملہ اس امت کی وارننگ ہے کہ اگر ان پناہ گاہوں کو ختم نہ کیا گیا تو یہ آگ ہمارے گھروں تک مزید شدت سے پہنچے گی۔ یعنی’’ ردالفساد‘‘ یا ’’ عزمِ استحکام‘‘ جیسے آپریشنز کو حتمی کامیابی تک پہنچانے میں مشکلات حائل رہیں گی۔





