کنورژن تھراپی: جنسی بے یقینی کا جبری علاج؟

نہال ممتاز:
انسانی وجود کی ساخت پر غور کریں تو یہ ایک حیرت انگیز توازن کا نمونہ ہے، لیکن کبھی کبھار اس مشینری میں کوئی ایسا باریک بائیولوجیکل نقص رہ جاتا ہے جسے سمجھنے میں انسانی عقل ٹھوکر کھا جاتی ہے۔ یہ نقص دراصل ایک ایسی جسمانی کنڈیشن ہے جس میں انسان کے کروموسومز اور ظاہری جسم تو ایک صنف کی علامت ہوتے ہیں، لیکن پیدائش سے قبل ہارمونز کی غیر معمولی سطح کے باعث دماغ کے وہ حصے جو ’خود کی پہچان‘ طے کرتے ہیں، وہ دوسری صنف کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اکثر ایسے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے جسم اور روح کی صنف ایک نہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا (نعوذ باللہ) فطرت نے روحوں کے انتخاب میں کوئی غلطی کر دی؟ اس کا جواب قطعی طور پر ’نہیں‘ ہے۔ فطرت کا نظامِ تخلیق نقص سے پاک ہے؛ یہ کوئی روحوں کا غلط تبادلہ نہیں بلکہ دیگر جسمانی معذوریوں یا پیدائشی نقائص (جیسے بینائی کی کمی یا دل کی ساخت میں خرابی) کی طرح محض ایک بائیولوجیکل نقص ہے، جو دماغی وائرنگ کی حد تک محدود ہے نہ کہ نفسیاتی مسئلہ۔
2019 میں ICD-11 کی نئی درجہ بندی میں WHO نے “Gender Identity Disorder” کو ذہنی بیماریوں کے باب سے نکال کر “Gender Incongruence” کے نام سے جنسی صحت (Sexual Health) کے زمرے میں منتقل کیا۔ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد ذہنی بیماری کا لیبل ہٹانا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک کو کم کرنا تھا۔ طبی تحقیق سے یہ واضح ہوا کہ شدید ذہنی دباؤ کی بڑی وجہ معاشرتی ردِعمل اور جبر ہے، نہ کہ شناخت بذاتِ خود۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہےکہ میڈیکل سائنس کے پاس اسے ’ٹھیک‘ کرنے کا کوئی حتمی علاج موجود نہیں ۔ جب تک اسے ’بیماری‘ مانا جاتا رہا، دنیا بھر میں ڈاکٹروں نے اسے ادویات اور سرجری سے بدلنے کے بے سود تجربات کیے جس سے مریض کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ گئی۔ چنانچہ سائنس نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اسے ’بیماری‘ کے بجائے ’انسانی تنوع‘ قرار دے دیا ۔تاہم اسے مکمل طور پر طبی دائرے سے خارج نہیں کیا گیا بلکہ صحت کے نظام کے اندر رکھا گیا تاکہ متاثرہ افراد کو طبی اور نفسیاتی معاونت میسر رہ سکے۔
لیکن اس نکتے کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر میں ’کنورژن تھراپی‘ کے نام پر ایک مکروہ کاروبار نے جنم لیا، جو سائنس کے نام پر بدترین ظلم ہے۔ اس ظالمانہ علاج میں متاثرہ افراد کو بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں اور انہیں شدید نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقے ہیں جو کسی نقص کو دور کرنے کے بجائے انسان کے اعصابی نظام کو تباہ کر دیتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اہم ترین پہلو مذہبی نکتہ نظر ہے۔ دنیا کے تمام بڑے مذاہب اخلاقی اقدار اور فطرت کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔ مذہبی نکتہ نظر سے انسان کا اپنی جنس کو بدلنا یا فطرت کے طے کردہ دائروں سے باہر نکلنا ایک بڑا بگاڑ تصور کیا جاتا ہے۔ مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانی جسم اللہ کی امانت ہے اور اس میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ لیکن یہاں ایک باریک نکتہ ہے؛ اگر کوئی فرد پیدائشی طور پر کسی حیاتیاتی نقص (Biological Defect) کا شکار ہے، تو مذہب اسے ملزم ٹھہرانے کے بجائے اسے ایک ’آزمائش‘ قرار دیتا ہے۔ جیسے ایک جسمانی معذور شخص کے لیے احکامات مختلف ہوتے ہیں، ویسے ہی اس طبی نقص کے شکار فرد کے ساتھ بدسلوکی مذہب کی روح کے خلاف ہے۔ اسلام سمیت دیگر مذاہب ہمدردی اور عدل کا درس دیتے ہیں، اور کسی بے بس انسان کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی بھی آسمانی قانون میں جائز نہیں ہے۔
اسی پس منظر میں حالیہ خبر سامنے آئی ہے کہ دنیا کے مہذب معاشرے کہلانے والے ممالک یعنی یورپی یونین کے تقریباً ایک چوتھائی شہری اس قسم کی غیر انسانی تھراپیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کونسل آف یورپ نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام رکن ممالک میں کنورژن تھراپی پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ مسیحائی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پامالی ہے۔
اس مسئلے کا حل تشدد میں نہیں بلکہ ایک متوازن حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ پہلا حل یہ ہے کہ اسے ایک ’پیدائشی معذوری‘ یا ’طبی نقص‘ کے طور پر تسلیم کیا جائے، جس طرح ہم کسی معذور فرد کو گناہ گار نہیں سمجھتے بلکہ اس سے ہمدردی کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان افراد کی ایسی کونسلنگ کی جائے جو انہیں اپنی اس آزمائش کے ساتھ ایک باعزت اور باکردار زندگی گزارنے کے قابل بنائے، تاکہ وہ اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔ اور تیسرا یہ کہ طبی تحقیق کو اس سمت میں موڑ دیا جائے جہاں مستقبل میں جنیاتی یا ہارمونل سطح پر اس کا کوئی حقیقی طبی حل تلاش کیا جا سکے جو انسانی وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر اس نقص کو دور کرے۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اذیت کے بجائے ہمدردی اور جہالت کے بجائے علم کا راستہ اختیار کریں۔







