
*پانچویں غزالہ انصاری لیڈیز اوپن گالف چیمپئن شپ: خواتین گالف کے فروغ کے پانچ شاندار سال مکمل*
لاہور: پانچویں غزالہ انصاری لیڈیز اوپن گالف چیمپئن شپ آج پاکستان میں گالف کے منظر نامے پر ایک قابل فخر سنگ میل کے طور پر ابھری ہے، جو خواتین کے گالف کے فروغ میں پانچ سالہ عزم، تسلسل اور معیار کا جشن منا رہی ہے۔
ایک خراج تحسین سے شروع ہونے والا یہ سفر اب ایک قد آور چیمپئن شپ کی شکل اختیار کر چکا ہے, ایک ایسا پلیٹ فارم جو خواتین کے کھیل کو جلا بخشنے، ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور مسابقتی فضیلت کے جذبے کو زندہ رکھنے کا باعث ہے۔
چیمپئن شپ کے باقاعدہ اعلان کے لیے جمخانہ گالف کلب میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں سابقہ چیئرمین جمخانہ کلب میاں مصباح الرحمن، کنوینر جمخانہ گالف کلب مسٹر واجد عزیز، کمیٹی ممبر و سابق کنوینر گالف مسٹر سرمد ندیم، آرگنائزنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر اسماء افضل شامی، ٹورنامنٹ کوآرڈینیٹر میمونہ اعظم اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر و چیف ریفری منزہ شاہین نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسماء افضل شامی نے لیجنڈری غزالہ انصاری کو دلی خراج عقیدت پیش کیا، جن کا نام پاکستان کی گالف تاریخ میں مہارت اور غلبے کی علامت کے طور پر نقش ہے۔ ڈاکٹر شامی نے اس بات پر زور دیا کہ: "تاریخ وہ کھڑکی ہے جس کے ذریعے ہم مستقبل کی آبیاری کرتے ہیں۔ غزالہ انصاری محض ایک چیمپئن نہیں تھیں بلکہ وہ جونیئر گالفرز کے لیے ایک تحریک ہیں۔”
چھ مرتبہ کی نیشنل چیمپئن غزالہ انصاری لیڈیز گالف میں ایک ناقابل تسخیر ریکارڈ کی حامل ہیں، جو ان کی ذہنی مضبوطی اور میدان میں گرفت کی عکاس ہے۔ میمونہ اعظم نے جمخانہ گالف کلب کے عملے کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ یہ چیمپئن شپ مکمل طور پر خواتین کے زیرِ انتظام ہے, خیال سے لے کر انعقاد، اسپانسر شپ اور ریفری کے فرائض تک، سب خواتین ہی انجام دے رہی ہیں۔
مسٹر واجد عزیز نے خواتین گالف کے لیے جمخانہ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا، جبکہ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر منزہ شاہین نے بتایا کہ چیمپئن شپ میں سات مسابقتی کیٹیگریز شامل ہیں جن میں پروفیشنلز، جونیئرز اور سینئر لیڈیز گالفرز حصہ لے رہی ہیں۔ اس سال مجموعی طور پر 45 کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی ہے جن میں 7 پروفیشنلز بھی شامل ہیں۔
چیئرمین جمخانہ میاں مصباح الرحمن نے آرگنائزنگ ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے غزالہ انصاری کو کلب کا فخر قرار دیا۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا: "میں اگلے سال غزالہ انصاری چیمپئن شپ کو بین الاقوامی سطح پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہم اس کے لیے نہ صرف مادی بلکہ مالی تعاون بھی فراہم کریں گے۔ ایسا ایونٹ نہ صرف کلب بلکہ پاکستان کے لیے بھی اعزاز کا باعث بنے گا۔”







