تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

بنگلادیش میں عام انتخابات کیلئے پولنگ شروع، سخت ترین سیکورٹی انتظامات

بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے ایک اہم امتحان تصور کیے جا رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں پولنگ اسٹیشنز پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور ووٹنگ جمعرات بھر جاری رہے گی۔ ابتدائی نتائج جمعہ کو متوقع ہیں۔

یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں طویل احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے۔ انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتری کے وعدے کیے ہیں۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے۔ یہ جماعت شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کا شکار رہی، لیکن حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ بعض حلقوں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں گے۔ یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

بنگلادیش کی پارلیمنٹ میں 350 نشستیں ہیں، جن میں سے 300 پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس بار تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹرز پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے۔

انتخابات کے ساتھ ہی سیاسی اصلاحات پر ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد اور اختیارات کے توازن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات بنگلادیش کی داخلی سیاست اور ملک کے استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button