Column

پی ٹی آئی کی شٹر ڈائون کال کیوں بے اثر رہی؟

پی ٹی آئی کی شٹر ڈائون کال کیوں بے اثر رہی؟
تحریر: رفیع صحرائی
سیاسی جماعتوں کی طاقت کا اصل امتحان جلسوں کی رونق نہیں بلکہ ان کی کال پر دیا گیا عوامی ردِعمل ہوتا ہے۔ اگر عوام کی ایک بڑی تعداد ان کی کال پر لبیک کہتی ہے تو وہ جماعتیں نہ صرف سرخرو ٹھہرتی ہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ان کی بات کو بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ عوامی ردِعمل کی ٹھکرائی ہوئی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر اپنی بات یا مطالبات منوانے میں دشواری ہوتی ہے۔ 8فروری کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے دی گئی شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال اس معیار پر پوری نہ اتر سکی۔ بڑے شہروں کی سڑکیں معمول کے مطابق کھلی رہیں، بازاروں میں کاروبار جاری رہا اور ٹرانسپورٹ بھی چلتی رہی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو مطالبہ نما حکم دیا تھا کہ ان کا صوبہ مکمل بند ہونا چاہیے لیکن وہاں بھی کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں بعض جگہ پر زبردستی دکانیں بند کرائی گئیں تو تاجر حضرات نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا اور پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے ایک بڑی جماعت کی اس کال کو بے اثر کر دیا؟
کال کے بے اثر ہونے کی پہلی وجہ تو یہ بنی کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد ترکئی کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر حکومت پنجاب سے لاہور میں ہونے والی بسنت کی منسوخی کا مطالبہ کر دیا اور بسنت منانے کی شدید مخالفت کی لیکن اپنے احتجاج کی کال کو واپس نہ لیا۔ یہ دو عملی عوام کو پسند نہ آئی۔ پی ٹی آئی کا احتجاج کی کال برقرار رکھنا عوامی نفسیات سے مطابقت نہ رکھ سکا۔ ایسے مواقع پر قوم سوگ اور یکجہتی کی کیفیت میں ہوتی ہے، تصادم کی نہیں۔ اس فیصلے نے ہمدردی کے بجائے بے حسی کا تاثر دیا۔
احتجاج کی کامیابی کے لیے ایک سادہ، قابلِ فہم اور قابلِ حصول مطالبہ ضروری ہوتا ہے۔ اس کال میں مقصد اور مطالبات عام آدمی تک واضح انداز میں منتقل نہ ہو سکے، نتیجتاً لوگ یہ طے نہ کر سکے کہ وہ کس مقصد کے لیے کاروبار بند کریں۔ احتجاج کی تاریخ سے چند روز پہلے ہی وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد سہیل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ اس بات نے عوام میں مایوسی پیدا کی کہ انہیں صرف بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
شٹر ڈائون اور پہیہ جام کی کامیابی تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے تعاون سے مشروط ہوتی ہے۔ کاروباری طبقہ پہلے ہی معاشی دبائو کا شکار ہے۔
ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری کو یہ یقین دلایا ہی نہیں جا سکا کہ ہڑتال سے ان کے مفادات کیسے محفوظ ہوں گے۔ صرف زور زبردستی سے پہیہ جام اور شٹرڈائون کرانے پر اکتفا کیا گیا جو کامیاب نہ ہو سکا۔
کال کی ناکامی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ طویل عرصے سے جاری احتجاجی سیاست نے کارکنوں میں تھکن اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔ ہر چند دن بعد نئی کال دینے سے ان کا جذبہ کمزور پڑ گیا ہے اور حاضری رسمی رہ گئی ہے۔ ویسے بھی کارکن اسی صورت میں احتجاج جاری رکھ سکتے ہیں جب مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح کی لیڈرشپ خود میدان میں ہو۔ جبکہ یہاں تو پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کی کشمکش نے تنظیمی یکسوئی کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ جب قیادت ایک صف میں نظر نہ آئے تو کارکن بھی تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔
کاروباری اور عام شہری ممکنہ قانونی کارروائی یا نقصانات کے خوف سے بھی کھل کر ساتھ دینے سے گریزاں رہے۔ سیاسی حمایت اپنی جگہ، مگر روزگار کا تحفظ زیادہ بڑا سوال بن گیا۔ مہنگائی، بجلی کے بل اور کرایوں کے دبا نے لوگوں کے لیے ایک دن کی بندش بھی مشکل بنا دی۔ عوام کی ترجیح روزی ہے۔ اب سیاست بہت پیچھے چلی گئی ہے۔ مسلسل ایک ہی نوعیت کے نعروں اور بیانات نے اثر کم کر دیا ہے۔ عوام کو نیا راستہ اور نئی حکمتِ عملی دکھائی نہیں دے رہی۔ ضلع اور تحصیل سطح پر تنظیمی نیٹ ورک اس شدت سے فعال نہیں رہا کہ بازار بند کرا سکتا یا ٹرانسپورٹ کو روک سکتا۔ سوشل میڈیا پر بھرپور سرگرمی کے باوجود زمینی سطح پر وہ شدت پیدا نہ ہو سکی۔ جس کا شور مچایا جاتا رہا۔ آن لائن حمایت آف لائن عمل میں تبدیل نہ ہو پائی۔
پی ٹی آءی کی کال کی ناکامی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ عام شہری سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ امن، روزگار اور استحکام کو ترجیح دینے لگا ہے۔ ہڑتالیں اب اسے مسائل کا حل نہیں لگتیں۔ ویسے بھی جب احتجاج کا وقت اور طریقہ عوامی احساسات سے ہم آہنگ نہ ہو تو اخلاقی جواز کمزور پڑ جاتا ہے اور لوگ غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔8فروری کی کال نے یہ واضح کر دیا کہ سیاسی قوت کا انحصار صرف نعروں اور جذبات پر نہیں بلکہ وقت کی نزاکت، عوامی نفسیات، واضح حکمتِ عملی اور تنظیمی یکسوئی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی جماعت عوام کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے تو اسے احتجاج کی سیاست سے آگے بڑھ کر امید، حل اور استحکام کا راستہ دکھانا ہوگا۔ ورنہ کالیں دی جاتی رہیں گی اور سڑکیں کھلی رہیں گی۔
’’ عوام ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو انہیں بندش نہیں، راستہ دکھائے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button