عنوان: ضروری معلومات برائے عوام و الناس

عنوان: ضروری معلومات برائے عوام و الناس
کالم نگار: شہزاد تنویر صوفی
عام فہم
email: shahzadtanveer82@gmail.com
انسان فطرتاً آسانی کا متلاشی ہے۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات میں ہمیشہ سہولت اور آرام کی تلاش میں رہتا ہے۔ صبح سے شام تک کئے جانے والے کاموں میں وہ ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جن سے وقت بھی بچے، محنت بھی کم ہو اور نتیجہ بھی بہتر حاصل ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نت نئی ایجادات کرتا ہے اور جدید ذرائع کو اپناتا ہے تاکہ اس کی زندگی زیادہ آسان اور منظم ہو سکے۔ اس لیے روزمرہ کے کاموں میں آسانی کی خواہش نے انسان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا ہے۔ مشینوں کا استعمال، ٹیکنالوجی کی ترقی اور سہولیات کی فراہمی اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ اس کے معمولی کام کم سے کم وقت میں مکمل ہوں تاکہ وہ اپنی توانائی اہم اور تخلیقی سرگرمیوں پر صرف کر سکے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آسانی کی تلاش بعض اوقات انسان کو سستی کی طرف مائل کر دیتی ہے۔ اگر سہولت کے ساتھ ذمہ داری اور محنت کا توازن برقرار نہ رکھا جائے تو یہ عادت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان سہولت کو بہتر کارکردگی کا ذریعہ بنائے، نہ کہ محنت سے فرار کا راستہ۔
جدید دور میں زندگی کو آسان اور موثر بنانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آگاہی بے حد ضروری ہوتی جا رہی ہے۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سسٹمز نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تعلیم، تجارت، صحت اور دفتری امور کیا اب تو جنگوں کا انحصار بھی ٹیکنالوجی کی بغیر ممکن نہ رہا، ابھی حال ہی میں پاکستان اور بھارت معرکہ جسے پاکستان نے معرکہ حق کا نام دیا تمام تر معرکہ ٹیکنالوجی پر محیط تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح سے نوازا۔ اس لیے اگر کوئی شخص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی اصولوں سے واقف ہو تو وہ نہ صرف اپنا قیمتی وقت بچا سکتا ہے بلکہ اپنی کارکردگی کو بھی بہتر بنا سکتا ہے۔
اسی طرح موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل معلوماتی اور عملی آلہ بن چکا ہے۔ موبائل فون کے مختلف فنکشنز اور ایپلیکیشنز کے درست استعمال سے روزمرہ کے بہت سے کام آسان ہو گئے ہیں، جیسے آن لائن بینکنگ، تعلیمی سرگرمیاں، سرکاری امور اور باہمی رابطہ۔ موجودہ دور میں موبائل فون اور ٹیکنالوجی کے مثر استعمال سے ناواقف ہونا عملی زندگی میں پیچھے رہ جانے کے مترادف ہے، اس لیے ہر فرد کے لیے ان سے آگاہی نہایت ضروری ہو چکی ہے۔ موبائل Appsسے واقفیت اور استعمال بھی بہت ضروری ہوتا جارہا ہے ۔ جیسے آپ اپنے تمام یوٹیلیٹی بلز وغیرہ بذریعہ بنکنگ ایپ جمع کروا سکتے ہیں جس سے لمبی لمبی قطاریں ختم ہوگئی ہیں۔ اسی طرح کی بہت سے سہولیات سے آپ اور فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کی تفصیل آگے جا کر مضمون میں شامل کی گئی تاکہ مزید لوگ استفادہ حاصل کر سکیں اور گھر بیٹھے معلومات اور اپنے اہم ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ درست معلومات آپ کے پاس ہوں تاکہ آپ بروقت استفادہ حاصل کر سکیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سے عوام و الناس کی سہولت کے لیے اور عوام الناس کے لیے آسانیاں پیدا کرنے غرض سے بہت سی online appsاور نمبر متعارف کرائے گئے ہیں جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں ۔ جو کہ ایک اچھی کاوش ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دَور میں حکومتِ پاکستان نے شہریوں کی سہولت کے لیے متعدد ایس ایم ایس سروسز متعارف کرا رکھی ہیں، جن کے ذریعے شناختی کارڈ، ووٹر لسٹ، پاسپورٹ، گاڑیوں کی رجسٹریشن، موبائل سمز اور فلاحی اسکیموں سے متعلق معلومات فوری طور پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔ نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ کی تصدیق کے لیے 7000 پر اپنا تیرہ ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر بھیجنے سے نام اور والد کا نام معلوم کیا جا سکتا ہے، جبکہ خاندانی تفصیلات کے لیے 8008استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ووٹر معلومات کے لیے 8300 اور شناختی کارڈ کی درخواست کی پیش رفت جاننے کے لیے 8400کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں کی تصدیق کے لیے بھی صوبہ وار سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پنجاب میں گاڑی کی رجسٹریشن جانچنے کے لیے 8785، سندھ میں 8147، خیبر پختونخوا میں 9818جبکہ اسلام آباد میں گاڑی یا چوری شدہ گاڑی کی معلومات کے لیے 8521پر ایس ایم ایس کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے پاسپورٹ کی درخواست کا اسٹیٹس معلوم کرنے کے لیے 9988کا نظام متعارف کرا رکھا ہے، جس سے عوام کو دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات ملتی ہے۔
حکومتی فلاحی منصوبوں اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں بھی اہم سہولیات دستیاب ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی امدادی اسکیموں میں اہلیت جانچنے کے لیے 8171جبکہ صحت سہولت کارڈ کے لیے 8500 استعمال کیا جاتا ہے۔ موبائل سم کی تصدیق کے لیے 667پر خالی پیغام بھیج کر سم مالک کا نام معلوم کیا جا سکتا ہے، اور 668پر شناختی نمبر بھیج کر یہ جانا جا سکتا ہے کہ کسی شناختی کارڈ پر کتنی سمز رجسٹرڈ ہیں۔ ہنگامی صورتحال میں 15( پولیس) اور 1122( ریسکیو و ایمبولینس) جیسے نمبر عوام کی فوری مدد کے لیے ہر وقت فعال ہیں۔ یہ تمام سہولیات شہریوں کے وقت، پیسے اور مشکلات میں نمایاں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی فطری خواہش ہمیشہ آسانی، سہولت اور وقت کی بچت رہی ہے، اور جدید ٹیکنالوجی نے اس خواہش کو عملی شکل دے دی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے موثر استعمال نے زندگی کے پیچیدہ کاموں کو نہایت سادہ بنا دیا ہے۔ آج کا انسان اگر جدید ذرائع سے صحیح طور پر واقف ہو تو وہ نہ صرف اپنی روزمرہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا سکتا ہے بلکہ سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی سے لاتعلقی ترقی کی رفتار سے دوری کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سہولت کو عادت نہیں بلکہ شعور بنائیں اور جدید ذرائع کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ یہی طرزِ فکر فرد کو باوقار بناتی ہے اور معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ آخر میں کہنا چاہوں گا کہ سلامت رہیں ہمیشہ مثبت سوچیں اور اپنا حصہ ملک و قوم کو بہتر بنانے کے لیے ڈالتے رہیں۔







