Columnمحمد مبشر انوار

ڈیل یا جیت

ڈیل یا جیت
محمد مبشر انوار
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ،عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی ،اس طرح ختم ہو گی،یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ اتنا ڈرامائی انداز اور وہ بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ،یحییٰ خان آفریدی کے حکم سے، یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں حکومت پاکستان،عمران خان کو ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی ضمانتوں کو کینسل کروانے پہنچی ہوئی تھی جہاں ضمانتیں کینسل ہونے کی سماعت تو ابھی ہو گی لیکن چیف جسٹس کی جانب سے،عمران خان کو جس جگہ قید رکھاگیا ہے،اس کی حالت زار پر مکمل جائزہ لینے کے لئے ،عمران خان اور ان کی اہلیہ کے متعدد مقدمات میں وکیل ،سلمان صفدر کو یک رکنی کمشن مقرر کرتے ہوئے، مذکورہ رپورٹ طلب کر لی۔ اپنے حکم میں چیف جسٹس نے کہا کہ سلمان صفدر،کورٹ کے دوست،کورٹ کے معاون کی حیثیت سے اڈیالہ جیل میں عمران خان کو دی گئی سہولیات پر جامع رپورٹ عدالت کو فراہم کریں،اس حکم پر پراسیکیوشن کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ استغاثہ پہلے ہی،عدالت کو یہ رپورٹ جمع کروا چکا ہے۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک اور ذریعہ سے بھی حالات جاننے کا موقع مل جائیگا،کوئی حرج نہیں ،جس کے بعد معاملہ نپٹ گیا لیکن یہ انداز بذات خود کیا کہانی کہہ رہا ہے،اس کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ انداز غیر معروف سا لگتا ہے۔ بہرحال وقت اس کو بھی بے نقاب کر دے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حکم نامے کے بعد ایک طرف سلمان صفدر نے تین گھنٹے سے زیادہ وقت اڈیالہ جیل میں گزارا ہے اور میڈیا کے استفسار کے باوجود،انہیں کچھ بتانے سے گریز کیا البتہ عمران خان کی صحت کے بارے میں انہوں نے مثبت جواب دیا بلکہ کارکنان اور میڈیا کو اچھی صحت کی نوید سنائی ہے۔ اس تحریر کے شائع ہونے تک،ممکنہ طور پر،سلمان صفدر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا چکے ہوں گے اور اس کا کچھ حصہ ممکنہ طور پر میڈیا کی زینت بھی بن چکا ہوگا جس سے معاملات کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو گی اور اندازہ ہو سکے گا کہ معاملات کس طرف اور کس رخ پر آگے بڑھیں گے۔ اس حکم سے کم از کم تحریک انصاف اور عمران خان کے وکلاء کو یہ موقع ضرور ملے گا کہ ان کی ملاقات عمران خان سے ہو جائے گی اور وکلاء عمران خان سے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کر سکیں گے ،حکومت کی جانب سے مقدمات کی اس بھرمار میںوکیل کے لئے یہ انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ اپنے موکل سے گفتگو کئے بغیرمقدمہ کی پیروی کر پائے کہ حقائق جانے بغیر یہ ممکن نہیں۔ جبکہ یہ کسی بھی ملزم کا بنیادی حق ہے کہ اپنے مقدمہ کی پیروی کے لئے،اسے وکیل تک رسائی میسر ہو تا کہ مقدمہ کے مختلف پہلوئوں کے علاوہ وکیل کو حقائق سے آگاہ کرسکے تاکہ پیروی مناسب اورٹھیک طریقہ سے ہو سکے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے مقدمات کی سماعت میں ،ان بنیادی حقوق کو بری طرح سلب کیا گیا ہے حتی کہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران،وکلائے صفائی کو عین اس وقت جیل میں لگی عدالت میں جانے سے روکا گیا،جب ملزم کی جانب سے گواہان پر جرح مقصود تھی اور طرفہ تماشہ یہ کہ جج کی جانب سے رسمی کارروائی پوری کرنے کے لئے استغاثہ کے وکلاء کو ہی گواہان پر ،ملزم کی جانب سے جرح کرنے کا اختیار دے کر ،انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے گریز کیا گیا۔ ایسے فیصلوں پر اعلی عدالتوں کی جانب سے ،دی گئی سزا کو ختم ہی کیا جاتا بالخصوص جب ججز آزاد منش ،آئین و قانون کو مقدم رکھنے والے ہوتے،جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے کیاگو کہ انہوں نے اس کی قیمت ادا کی لیکن فیصلے آئین و قانون کے مطابق دئیے۔ عمران خان پر قائم کئے گئے مقدمات کو بالعموم سیاسی انتقامی کارروائی قراردیا جاتا ہے اور اس حقیقت میں کوئی کلام بھی نہیں کہ ن لیگ کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو الجھانے کے لئے ایسے بے سروپا مقدمات ہی قائم نہیں کرتی بلکہ عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کا اس کاریکارڈ بھی موجود ہے۔قانونی موشگافیوں میں الجھانے کا ہنر ن لیگ سے بہتر کسی اور سیاسی جماعت کے پاس پاکستان میں نہیں ہے اور اس کا مظاہرہ ن لیگ نے اپنے ہر دور حکومت میں کیا ہے جبکہ ن لیگ کو اپنے اس کردار کو نبھانے کے لئے ہمیشہ مقتدرہ کی حمایت ایسے ہی حاصل رہی ہے لہذا ،ن لیگ کے مخالفین بالعموم ایسے قانونی شکنجے میں پھنسے ہی نظر آتے ہیں ،جس کا شکار اس وقت عمران خان اور ان کی جماعت ہے۔ بہرحال،سلمان صفدر کی تقرری سے عمران خان مخالفین کو یہ خدشات بھی لاحق دکھائی دئیے کہ سلمان صفدر ،عمران خان سے ملاقات کے بعد،ان کے سیاسی بیانئے کو باہر منتقل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور حکومت اس بیانئے کا توڑ کرنے میں ناکام رہے گی تاہم سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل سے نکلتے ہوئے،ایسے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ میڈیا اور کارکنان کو صرف عمران خان کی صحت کے متعلق بتا کر باقی باتوں پر گفتگو کرنے سے منع کر دیا کہ وہ اپنی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں گے۔ آنے والے چند دن میں پتہ چلے گا کہ سلمان صفدر کوئی سیاسی گفتگو کرتے ہیں یا صرف اپنی گزارشات کے حوالے سے ،عمران خان کی جیل میں صورتحال پر بات کرتے ہیں۔
مران خان کے دور حکومت میں کئی ایک ایسے معاملات رہے ہیں کہ جہاں عمران خان ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی کا شکار دکھائی دئیے اور سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر نہ رکھا،جس سے کئی ایک دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں سردمہری ہی نہیں آئی بلکہ ان کے عمران خان سے ذاتی تعلقات پر بھی اثر پڑا۔ ان دوست ممالک کے حکمران،ذاتی طور پر عمران خان کو پاکستان کے لئے ایک بہتر حکمران سمجھتے تھے ،ایک اچھا انسان سمجھتے تھے،ہر طرح سے عمران خان کی مدد کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان ناتجربہ کاری کہیں یا ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی کاشکار ،کہ انہوں نے ان دوست ممالک کے حکمرانوں کے متعلق الفاظ کا انتہائی نامناسب چنائو کیا،جس کا خمیازہ عمران خان کو بھگتنا پڑاکہ ایک طرف یہ حکمران،عمران خان کے ساتھ انتہائی پرخلوص رویہ اختیار کئے ہوئے تھے لیکن عمران خان کی ذرا سی بے احتیاطی نے ایک طرف عمران خان کی شخصیت کا بت توڑ دیا تو دوسری طرف پاکستان کے لئے بھی حالات مشکل کر دئیے۔ پاکستان کو شریف خاندان اور زرداری خاندان سے چھڑانے کا ایک بہترین موقع عمران خان کی غیر محتاط گفتگو نے گنوا دیا اور عمران خان اپنی ذاتی حمایت کے علاوہ اس عزت سے بھی محروم ہوگئے،جو مشرق وسطیٰ کے یہ دوست ممالک خال ہی کسی کو دیتے ہیں۔ چومکھی لڑنے والے قائدین اپنے طرز عمل میںانتہائی محتاط ہوتے ہیں اور بات کرتے وقت ،بات کا وزن ،الفاظ کے چناؤ میں اپنی شخصیت کا عکس دکھاتے ہیں،جو بدقسمتی سے عمران خان ،انتہائی اہم و فیصلہ کن مواقع پر نہیں کرپائے،ممکنہ طور پریہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں سے کسی کی جانب سے بھی ،عمران خان کے متعلق کوئی رائے سامنے نہیں آئی۔10فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ،کسی بھی طریقہ سے،عمران خان کے وکیل کو ملاقات کا موقع فراہم کیا جانا جبکہ دو وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل اس امر کا اظہار کرنا کہ تحریک انصاف جو مرضی کر لے،8فروری سے قبل عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں ہو سکے گی،اپنے دعوے کو سچ ثابت کر چکے ہیں کہ آٹھ فروری سے پہلے، کسی کی بھی عمران خان سے ملاقات ممکن نہیں ہو پائی۔ حکومت کی شرط یہی تھی کہ تحریک انصاف آٹھ فروری کے حوالے سے دی گئی احتجاج کی کال واپس لے اور ملک میں افراتفری و انتشار پھیلانے سے گریز کرے وگرنہ ان کے لئے حالات مشکل تر ین ہو جائیں گے۔ دوسری طرف عمران خان کی طرف سے یہ اعلان کیا جا چکا تھا کہ تحریک انصاف سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرے اور آٹھ فروری کو پورے ملک میں پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کرکے، حکومت کو گھٹنوں پر لائے لیکن افسوس کہ آٹھ فروری کو خواہش و توقعات کے مطابق نہ پہیہ جام ہوا اور نہ ہی مکمل شٹر ڈائون ہڑتال ہو سکی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہڑتال کی کال دینے والوں نے کہیں بھی ،عوام پر زبردستی نہیں کی او ر نہ ہی کسی کھلے شٹر کو بند کرانے کی کوشش کی اور نہ کسی موٹر چلانے والے کو، روکا گیا۔ یوں آٹھ فروری 2026ء بھی عام دنوں کی طرح گزر گیا لیکن تحریک انصاف کے رہنما جو ایک تسلسل سے اس احتجاج کی کال دیتے رہے تھے، سڑکوں پر کہیں دکھائی نہ دئیے، بہرحال حکومت نے اپنا دعویٰ سچ کر دکھایا اور اگر اب عمران خان کو اس کے بنیادی حقوق دئیے جاتے ہیں تو حکومت اس کو بھی اپنے حق میں استعمال کرے گی۔ ان حالات میں اگر عمران خان کی رہائی ہو جاتی ہے، جس کے امکانات تاحال انتہائی کم ہیں، تو تحریک انصاف اسے قانون کی جیت کہے گی لیکن حکومت اسے ڈیل ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button