دہشتگردی کیخلاف عسکری و سیاسی قیادت کا ایک سمت چلنے پر اتفاق

دہشتگردی کیخلاف عسکری و سیاسی قیادت کا ایک سمت چلنے پر اتفاق
پشاور کور ہیڈکوارٹر میں گزشتہ روز ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور یکجہتی موجود ہے۔ یہ اجلاس نہ صرف امن و امان کے فروغ کی علامت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ملک میں قیادت مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کور کمانڈر پشاور شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے اور مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ اس طرح کے اقدامات پاکستان میں داخلی سلامتی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس کے دوران اپنی کابینہ کے ساتھ تین گھنٹے تک کور ہیڈکوارٹر میں قیام کیا، جہاں انہوں نے نہ صرف اجلاس میں حصہ لیا بلکہ شرکاء کے ساتھ لنچ بھی مشترکہ طور پر کیا۔ اس دوران وزیراعلیٰ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان قریب بیٹھ کر گفتگو ہوئی اور انہوں نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی دوستانہ انداز میں مصافحہ کیا۔ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات میں شفافیت اور اعتماد موجود ہے، جو ملک میں مستقل امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ قدم صوبے میں استحکام اور بہترین انتظامی اقدامات کی نشان دہی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مقامی سطح پر بھی امن قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور قبائلی اضلاع میں بہتری کے لیے اجتماعی حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی اور وفاقی قیادت نے مقامی مسائل کی شناخت اور ان کے حل کے لیے مربوط منصوبہ بندی پر زور دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف داخلی سلامتی کو بہتر بنائے گا بلکہ عوام کو یہ پیغام بھی دے گا کہ حکومت اور عسکری قیادت ان کے تحفظ کے لیے یکجا ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے متعدد شدید حملوں کا سامنا کیا ہے اور ان حالات میں قومی یکجہتی اور مربوط حکمت عملی ہی ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔ پشاور کور ہیڈکوارٹر میں ہونے والا یہ اجلاس اسی ایک ہم آہنگی کی مثال ہے، جو ملک کے اندرونی استحکام اور شہریوں کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ اجلاس میں نہ صرف صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا گیا بلکہ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ علاقائی ترقی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت صرف عسکری اقدامات تک محدود نہیں بلکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود اور معاشرتی ترقی کے لیے بھی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے ایسے اجلاس نہایت اہم ہیں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اس کے لیے سیاسی قیادت، مقامی انتظامیہ اور عسکری حکمت عملی کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ پشاور کور ہیڈکوارٹر میں ہونے والا یہ اجلاس اسی کوشش کا حصہ ہے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے مشترکہ وژن اور مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کے دوران عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد اور تعاون کی فضا نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں داخلی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ مضبوط ہوگی بلکہ عوام میں حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات کے حوالے سے اعتماد بھی بڑھے گا۔ آخر میں کہا جاسکتا ہے کہ پشاور کور ہیڈکوارٹر میں ہونے والا یہ اجلاس نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی کی مضبوطی کی علامت ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت عوام کے تحفظ اور ملک کی ترقی کے لیے ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسے اجلاس عوام کے لیے امید کی کرن ہیں اور یہ ملک کو دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے اور پشاور میں ہونے والا اجلاس اس سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں بھی سیاسی اور عسکری قیادت اسی ہم آہنگی کے ساتھ ملک کے عوام کی حفاظت اور استحکام کے لیے اقدامات کرتی رہیں گی۔
سی گارڈ۔26مشق اختتام پذیر
کراچی میں منعقدہ سی گارڈ۔26میری ٹائم سیکیورٹی مشق کا اختتام ایک جامع ڈی بریف سیشن کے ساتھ ہوا، جس میں بحری اور مربوط اداروں کے نمائندگان نے حصہ لیا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر چیف آف اسٹاف، وائس ایڈمرل راجہ رب نواز نے تقریب میں شرکت کی اور مشق کے پیشہ ورانہ انعقاد کو سراہا۔ ڈی بریف سیشن کے دوران، شریک اداروں کے نمائندگان کو مشق کے مختلف منظرناموں کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا گیا اور بحری شعبے میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے مابین معلومات کے تبادلے اور ردعمل کے نظام کی جانچ کی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز ( نیوی) کے مطابق مہمانِ خصوصی نے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC) کے کردار کو سراہا، جو اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط رابطوں اور تعاون کو یقینی بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل تعاون اور معلومات کے تبادلے کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے اور پاک بحریہ اس عزم کے ساتھ کام کررہی ہے کہ بحری حدود کی سلامتی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔سی گارڈ سیریز کی یہ تیسری مشق تھی، جس میں پاکستان کے بحری شعبے سے وابستہ مختلف اداروں نے حصہ لیا۔ مشق میں شامل اداروں میں سرکاری ریگولیٹری اتھارٹیز، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سمندر سے وابستہ نجی تنظیمیں اور تعلیمی حلقے شامل تھے۔ اس مشق کا مقصد سمندر میں درپیش کثیرالجہتی چیلنجز کا مشترکہ حل تلاش کرنا تھا، تاکہ بندرگاہوں کی سیکیورٹی، بحری جہازوں اور انفرا اسٹرکچر کا تحفظ، انسداد منشیات کارروائیوں اور سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جاسکے۔ اس مشق سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان میں میری ٹائم سیکیورٹی کے نظام کو مربوط بنانے اور اسٹیک ہولڈرز کے مابین تعاون کو فروغ دینے کی جانب عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ یہ مشق نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگی، بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے ہنگامی حالات میں تیزی اور مثر ردعمل کی صلاحیت بھی پیدا کرے گی۔ سی گارڈ۔26مشق نے یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان کی بحری حدود کی حفاظت کے لیے حکمت عملی، منصوبہ بندی اور مربوط عمل لازمی ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تبادلہ معلومات اور ہم آہنگی کی بدولت نہ صرف سمندری تحفظ میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے بحری مفادات اور عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت بھی مضبوط ہوگی۔ آخر میں، یہ مشق پاکستان میں میری ٹائم سیکیورٹی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک مثبت مثال ہے، جو ملک کی دفاعی اور اقتصادی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔





