
جگائے گا کون؟
میچ سے قبل ہی بھارت ہار گیا
تحریر: سی ایم رضوان
وقت کے ساتھ ساتھ کرکٹ ایک بین الاقوامی کھیل کے ساتھ ساتھ اندرون ملک بڑی کمائی، شہرت اور کاروبار کا ذریعہ بھی بن گیا ہے جبکہ بیرون ملک مختلف ٹورنامنٹس میں کرکٹ کا یہی کھیل کروڑوں ڈالرز پر مشتمل بڑی آمدن کے ساتھ ساتھ کرکٹ ڈپلومیسی کے ضمن میں سفارت کاری کا بھی بڑا وسیلہ اور بہانہ بن گیا ہے۔ اندرون ملک کمائی کی کشش کا ہی ثبوت ہے کہ پی ایس ایل کی ایک ٹیم ملتان سلطانز کو ولی ٹیکنالوجی نامی ایک مقامی کمپنی نے گزشتہ روز ایک خطیر رقم میں خرید کر اس کا نام راولپنڈی رکھ دیا ہے۔ ٹیم کی نیلامی کی تقریب لاہور میں ہوئی جس میں پانچ بڈرز شریک تھے۔ نیلامی کی بنیادی قیمت 182کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ تاہم ولی ٹیک کی جانب سے 2 ارب 45کروڑ روپے میں 10سال کے لئے خریدے جانے پر، یہ ثیم پی ایس ایل کی سب سے مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔ نیلامی کا عمل مکمل ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ولی ٹیک کو مبارکباد دی اور نجم سیٹھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملتان سلطانز بنائی تھی، یہ وہ محنت تھی جو چند ماہ سے چل رہی تھی، ہماری کوشش تھی کہ ٹیم کو زیادہ سے زیادہ پرائس تک لے کر جائیں، اس کمائی میں حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم کا فون آ رہا تھا، وہ خوش تھے کہ کیسے ہم کامیابی کی طرف جا رہے ہیں، کچھ لوگ کہتے تھے کہ ٹیم کی قیمت ایک ارب بھی نہیں جائے گی، وہ دیکھ سکتے ہیں، جب محنت ہوتی ہے تو اس کا رزلٹ اچھا نکلتا ہے۔ جو خواب نجم سیٹھی نے دیکھا تھا اس کی قیمت بڑھی ہے، انٹرنیشنل پلیئرز بھی آ رہے ہیں، پی ایس ایل کو پاکستان کا نہیں، دنیا کا بڑا ایونٹ بنانا ہے، میں ملتان سے بڑی محبت کرتا ہوں، جب نام تبدیل کرنے کا اعلان ہوا تو میرا دل اداس ہوا، ملتان سلطانز ہمارا بڑا پرانا برانڈ ہے اس کے متعلق سوچیں گے۔ سلمان نصیر نے اس پر بڑی محنت کی ہے۔ تاہم محسن نقوی کے جذبات اپنی جگہ اور ولی ٹیک کے مفادات اپنی جگہ جنہوں نے اتنی رقم لگائی ہے ان کی اپنی ترجیحات بھی ہو سکتی ہیں وہ اس ٹیم کے بل پر اب براڈ کاسٹنگ، ٹکٹنگ، اسپانسر شپ اور ایڈورٹائزنگ کی مد میں کروڑوں کمائیں گے۔ جبکہ اوپر کی کمائی الگ سے ہو گی۔ دوسری جانب کرکٹ کے حوالے سے ایک بڑا اور بین الاقوامی سطح کا فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مذاکرات اور صلاح مشورے کے بعد آئی سی سی نے مذاکرات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026میں عدم شرکت پر بنگلا دیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہو گا۔ بنگلا دیش کو ایک عدد آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ 2028سے 2031کے درمیان کسی ایک ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے درمیان پاکستان کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے حوالے سے مذاکرات ہوئے تھے۔ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان ان مذاکرات میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔ فریقین کے مابین مذاکرات 5گھنٹے سے زائد جاری رہے جن میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا فوکس بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر رہا۔ ملاقات میں آئی سی سی اور بی سی بی کے مابین تجاویز کا تبادلہ ہوا، پاکستان کرکٹ بورڈ نے باہمی رابطہ کار کے فرائض انجام دیئے۔ بہرحال آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مطالبات پر مثبت ردعمل دیا اور بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے کے لئے فارمولہ تیار کیا۔ اس سے پہلے پاکستان نے سری لنکن صدر کی درخواست پر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے تحت وہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں 15فروری کو بھارت سے میچ شیڈول کے مطابق کھیلے گا۔ دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ ( بی سی بی) نے بھی پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پی سی بی چیئرمین کا خاص شکریہ کہ انہوں نے اس دوران ہمارا ساتھ دیا، پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلے۔
اس فیصلے اور پیش رفت کی بنیاد تب ہی پڑ گئی تھی جب پچھلے دنوں پاکستان نے بنگلا دیش سے اظہار یکجہتی کے طور پر ورلڈ کپ میں بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا، کیونکہ اس سے پہلے بنگلا دیش نے بھارت میں سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی اور یہ درخواست آئی سی سی نے مسترد کر دی تھی اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا تھا۔ جوابی اقدام کے طور پر پاکستان نے بھارت سے 15فروری کو شیڈولڈ میچ سکیورٹی خدشات کے تحت کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس انکار کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا میچ نہ ہونے سے آئی سی سی کو بھاری مالی نقصانات کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ دوستوں کے اصرار اور آئی سی سی کے پاکستانی شرائط تسلیم کئے جانے کے بعد اب پی سی بی کی جانب سے ایک اعلامیہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے باضابطہ طور پر پی سی بی، آئی سی سی اور بی سی بی کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا۔ حکومت پاکستان نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو ارسال کی گئی باضابطہ درخواستوں اور اس ضمن میں سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات کا بھی جائزہ لیا۔ ان مراسلات میں پاکستان سے حالیہ درپیش چیلنجز کے حل کے لئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت نے بی سی بی کے صدر امین الاسلام کے بیان کو بھی نوٹ کیا۔ پاکستان برادر ملک بنگلا دیش کی جانب سے اظہار تشکر کو بھی نہایت گرم جوشی اور خلوص کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ بنگلا دیش کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق گزشتہ شام شام وزیر اعظم کی سری لنکن صدر سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، خوشگوار، دوستانہ بات چیت کے دوران دونوں رہنماں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ خصوصاً مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ سری لنکن صدر نے وزیر اعظم سے موجودہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے سنجیدہ غور و فکر کی درخواست کی۔ دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ہدایت جاری کی کہ پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم 15فروری 2026کو آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے اپنے مقررہ میچ میں شرکت کرے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور کھیل کے فروغ کے لئے کیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے وزیر اعظم اور قوم کی جانب سے گرین شرٹس کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار بھی کیا ہے۔ اب یہ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک واضح اور بولڈ موقف رکھ کے بھارت کو پاکستان کے فرسٹ کلاس کرکٹ کے وجود کو بھی تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ اس سے پہلے پی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے خط بھی ارسال کر دیا تھا۔ پاکستان کا یہ فیصلہ اور پی سی بی کا یہ موقف بنگلا دیش کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا گیا، اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اس کے سکیورٹی رسک ہونے کا بھی ثبوت تھا۔ بعد ازاں بھارت آئی سی سی اور دنیا کے دیگر ممالک کے اصرار بھرے پیغامات پر میچ کھیلنے کا فیصلہ پی سی بی کی جانب سے ایک بولڈ موقف کے بعد ایک دانشمندانہ اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے میچ سے قبل ہی بھارت کو اخلاقی معیار میں پسپا کر دیا ہے۔
دنیا بھر میں پاکستان بھارت کرکٹ میچ ہمیشہ سے ہی سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اب پاکستان کے اس فیصلے سے آئی سی سی کو براڈ کاسٹنگ رائٹس سے بہت زیادہ آمدنی ہو گی۔ اسی طرح سپانسر شپ اور ایڈورٹائزنگ کے مواقع بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس سے آئی سی سی کو اضافی آمدنی ہوتی ہے اور اگر میچ لائیو سٹیڈیم میں ہوا تو ٹکٹوں کی فروخت سے بھی خاصی آمدن ہو گی جبکہ پی سی بی کو میچ فیس کی مد میں ایک معقول رقم ملے گی۔ پی سی بی کو بھی اسپانسر شپ اور ایڈورٹائزنگ کے مواقع ملیں گے اور شہرت اور پروموشن کے مواقع بھی مہیا ہوں گے۔ جہان تک ٹکٹوں کی آمدن کی بات ہے تو شیڈولڈ پاک بھارت میچ کی ٹکٹوں کی قیمتیں مختلف ہیں، جیسا کہ عام سٹینڈ کے ٹکٹ کی قیمت 2750ڈالر ( قریباً 7.8لاکھ پاکستانی روپے) تک پہنچ گئی ہے۔ ڈائمنڈ کلب کے ٹکٹ کی قیمت 10000ڈالر ( قریباً 28لاکھ پاکستانی روپے) ہے، لیکن بلیک میں 20000ڈالر( قریباً 56لاکھ پاکستانی روپے) تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آئی سی سی کو اس میچ سے 10سے 20ملین ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ پی سی بی کو 2سے 5ملین ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کو ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی سے تقریباً 10سے 20ملین ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے، جس میں براڈ کاسٹنگ رائٹس، سپانسر شپ، ایڈورٹائزنگ اور ٹکٹوں کی فروخت سے آمدنی شامل ہے۔ کروڑوں ڈالر کی آمدن دینے والے ان کرکٹ میچوں اور ٹورنامنٹس میں حکومتوں کی دلچسپی یوں ہی نہیں۔





