پاکستان کا عام شہری کیا سوچتا ہے؟

ذرا سوچئے
پاکستان کا عام شہری کیا سوچتا ہے؟
امتیاز احمد شاد
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں آبادی کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے، مگر بدقسمتی سے انہی عام شہریوں کی سوچ، احساسات اور مسائل سب سے کم سنے جاتے ہیں۔ پاکستان کا عام شہری کوئی ایک مخصوص طبقہ نہیں بلکہ وہ محنت کش مزدور، دکاندار، کلرک، استاد، کسان، طالب علم، گھریلو خاتون اور چھوٹا کاروباری فرد ہے جو روزمرہ زندگی کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ اس کی سوچ محض نظریاتی یا سیاسی نعروں پر مبنی نہیں بلکہ عملی زندگی کے تجربات سے جنم لیتی ہے۔ اگر اس سے پوچھا جائے کہ وہ کیا سوچتا ہے تو اس کا جواب اخبارات کی سرخیوں سے زیادہ اپنے چولہے، بچوں کی تعلیم، علاج اور مستقبل سے جڑا ہوتا ہے۔
پاکستان کے عام شہری کی سوچ کا مرکز سب سے پہلے معاشی حالات ہیں۔ مہنگائی اس کے لیے محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ روز کا کرب ہے۔ آٹا، چینی، دال، سبزی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں اس کی زندگی کے فیصلے طے کرتی ہیں۔ وہ ہر ماہ تنخواہ یا آمدن ملنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ یہ رقم پوری نہیں پڑے گی۔ عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا وہ بچوں کو اچھے سکول میں پڑھا سکے گا، کیا بیمار ہونے کی صورت میں علاج ممکن ہوگا، اور کیا بڑھاپے میں کوئی سہارا ہوگا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت عدم تحفظ کا احساس موجود رہتا ہے۔
سیاست کے بارے میں عام شہری کی سوچ تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ سیاستدانوں سے سخت نالاں ہے اور دوسری طرف سیاست پر گہری نظر بھی رکھتا ہے۔ چائے کے کھوکھے، بس سٹاپ، دفتر اور گھروں میں سیاست پر بحث عام ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وعدے بار بار ٹوٹتے ہیں، منشور کاغذوں تک محدود رہتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد عوام پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہر نئے دور میں یہ امید باندھ لیتا ہے کہ شاید اب کی بار کچھ بہتر ہو جائے۔ یہی امید اسے بار بار مایوسی کے باوجود سیاسی عمل سے جوڑے رکھتی ہے۔
پاکستان کا عام شہری انصاف کو ایک خواب کی طرح دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک انصاف وہ چیز ہے جو طاقتور کے لیے آسان اور کمزور کے لیے مشکل ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عدالت، تھانہ اور سرکاری دفتر میں عزت اور حق حاصل کرنا آسان نہیں۔ عام شہری یہ سوچتا ہے کہ اگر اس کے پاس سفارش یا پیسہ نہ ہو تو اس کی بات سنی نہیں جائے گی۔ یہ احساس اس کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور ریاستی اداروں سے فاصلے پیدا کرتا ہے۔ وہ کسی انقلابی نظام کی بات نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک انسان کی طرح سلوک ہو۔
تعلیم کے حوالے سے عام شہری کی سوچ خواہش اور مجبوری کے درمیان جھولتی رہتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینا چاہتا ہے، مگر ناقص تعلیمی نظام اور مہنگی نجی تعلیم اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ سرکاری سکولوں کا معیار اور سہولیات اس کے اعتماد کو متزلزل کرتی ہیں۔ عام شہری یہ سوچتا ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، مگر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی جانتا ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نوکری ملنا یقینی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کے عام شہری کی سوچ میں مذہب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مذہب اس کے لیے صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اخلاقیات، اقدار اور شناخت کا ذریعہ ہے۔ تاہم عام شہری کی اکثریت انتہاپسندی کے بجائے اعتدال پسند رویہ رکھتی ہے۔ وہ امن، برداشت اور ہم آہنگی چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک مذہب ذاتی اصلاح اور معاشرتی بھلائی کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ نفرت یا تقسیم کا ہتھیار۔ لیکن جب مذہب کو سیاست یا طاقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو عام شہری الجھن اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
خاندانی نظام عام شہری کی سوچ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ خاندان اس کے لیے طاقت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ وہ اپنی ذات سے زیادہ خاندان کے بارے میں سوچتا ہے۔ والدین کی خدمت، بچوں کی پرورش اور معاشرتی عزت اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عام شہری اکثر اپنی خواہشات قربان کر کے خاندان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خطرات مول لینے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے خاندان کو متاثر کر سکتا ہے۔
نوجوانوں کے حوالے سے عام شہری کی سوچ میں فخر بھی ہے اور تشویش بھی۔ وہ نوجوانوں کو ملک کا مستقبل سمجھتا ہے، مگر موجودہ حالات میں ان کے لیے مواقع کی کمی پر افسوس کرتا ہے۔ بے روزگاری، سفارشی کلچر اور غیر یقینی مستقبل نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ عام شہری یہ سوچتا ہے کہ اگر اس کا بیٹا یا بیٹی ملک چھوڑ کر بہتر زندگی حاصل کر سکتے ہیں تو شاید یہی درست راستہ ہے۔ یہ سوچ ایک اجتماعی ناکامی کا احساس بھی لیے ہوئے ہے۔
میڈیا کے بارے میں عام شہری کی رائے بھی بدلتی رہتی ہے۔ وہ میڈیا سے باخبر رہتا ہے مگر مکمل طور پر اس پر اعتماد نہیں کرتا۔ اسے احساس ہے کہ بعض اوقات خبریں سنسنی خیز بنائی جاتی ہیں اور اصل مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ عام شہری یہ چاہتا ہے کہ میڈیا اس کے مسائل کی حقیقی ترجمانی کرے، نہ کہ صرف طاقتور طبقات کی آواز بنے۔
تمام تر مشکلات، مایوسیوں اور شکوئوں کے باوجود پاکستان کا عام شہری مکمل طور پر ناامید نہیں۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی برداشت اور زندہ رہنے کی صلاحیت ہے۔ وہ مشکل حالات میں بھی مسکرانا جانتا ہے، دوسروں کی مدد کرتا ہے اور معمولی خوشیوں میں سکون تلاش کر لیتا ہے۔ یہی عام شہری کسی بھی ملک کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔ اگر اس کی آواز سنی جائے، اس کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اسے باعزت زندگی کے مواقع دئیے جائیں تو پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم معاشرہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کا عام شہری بہت زیادہ نہیں مانگتا۔ وہ صرف ایک منصفانہ نظام، باعزت روزگار، معیاری تعلیم، سستا علاج اور محفوظ مستقبل چاہتا ہے۔ اس کی سوچ سادہ مگر گہری ہے، اور اگر پالیسی ساز واقعی اس سوچ کو سمجھ لیں تو ملک کی سمت بدل سکتی ہے۔





