کرکٹ، وقار اور قومی مفاد کی فتح

اداریہ۔۔۔۔۔
کرکٹ، وقار اور قومی مفاد کی فتح
حکومت پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو 15فروری 2026ء کو ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کھیل کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم ہے بلکہ قومی فخر اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ کرکٹ نہ صرف پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے بلکہ یہ ہماری قومی شناخت کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ پاکستانی عوام ہر بڑے میچ کے دوران اپنی ٹیم کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی مرحلے پر ہو۔ بھارت کے خلاف میچ کا فیصلہ اس اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ ہمیشہ سے ایک جذباتی محاذ رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ، جو بامعنی مشاورت اور عالمی سطح پر رابطوں کے بعد کیا گیا، نہ صرف کرکٹ کے فروغ بلکہ سفارتی تعلقات میں بھی مثبت پیغام ہے۔ اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا، جن میں آئی سی سی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے نمائندے بھی شامل تھے۔ یہ بات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی ذمے داریوں اور تعلقات کو بخوبی سمجھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر رکن ممالک جیسے سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کی تجاویز اور پیغامات کو بھی مدنظر رکھا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی تعلقات میں توازن اور مہارت کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔ خصوصی طور پر اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ حکومت نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کے جذبات اور بیان کو نوٹ کیا۔ بنگلادیش کی جانب سے پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اعتراف اور اس پر اظہار تشکر، پاکستان کے وقار اور عالمی شراکت داری کی علامت ہے۔ یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے کرکٹ کیریئر کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی سری لنکن صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی انتہائی اہم رہی۔ دونوں رہنماں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ یہ صرف کرکٹ یا کھیل کی بات نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفارتی اور انسانی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ سری لنکن صدر کی موجودہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی درخواست، پاکستان کی مہارت اور تعاون کی ضرورت کی تصدیق کرتی ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلہ کا مقصد صرف کھیل نہیں بلکہ کرکٹ کی روح کا تحفظ بھی ہے۔ کھیل کو ہمیشہ ایمان داری، جذبے اور خلوص کے ساتھ کھیلنا چاہیے اور پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے عالمی ایونٹس میں شراکت داری کرنے کے لیے تیار ہے۔ گرین شرٹس کے لیے وزیراعظم اور قوم کی جانب سے نیک تمنائوں کا اظہار، پاکستانی عوام کے جذبے اور اتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026میں عدم شرکت کی صورت میں بنگلادیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا اور بنگلادیش کو آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے کھیل کے اصولوں اور دوستانہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے اور اس کا مقصد صرف اپنے قومی مفاد کے ساتھ عالمی کرکٹ کے فروغ میں کردار ادا کرنا بھی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کا مقابلہ ہمیشہ ہی جذباتی رہا ہے، لیکن حکومت کا یہ فیصلہ ایک مثال ہے کہ قومی مفاد اور کھیل کے فروغ کے لیے سیاسی اور سفارتی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ فیصلہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے، جو عالمی سطح پر اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے جذبے سے کھیلتے ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت کے درمیان موثر رابطے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی و دیگر نے عالمی سطح پر مذاکرات کر کے یہ یقینی بنایا کہ پاکستان کا موقف مضبوط اور بامعنی رہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ انتظامی اور سفارتی سطح پر بھی ایک ذمے دار اور مضبوط ملک کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ فیصلہ ایک خوش آئند خبر ہے۔ گرین شرٹس کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ پورا ملک اپنی قومی ٹیم کے ساتھ کھڑا ہے۔ کھیل صرف جیتنے یا ہارنے کا نام نہیں بلکہ اتحاد، جذبہ اور قومی فخر کا مظہر بھی ہے۔ بھارت کے خلاف میچ میں شرکت، پاکستانی کرکٹ کے لیے نئی امیدیں اور حوصلے پیدا کرے گی اور ان شاء اللہ روایتی حریف کے خلاف ضرور سرخرو ہوگا۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ قومی مفاد، کھیل کی روح اور بین الاقوامی تعلقات کے توازن کا عکاس ہے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اپنے اصولوں، عزت اور شراکت داری کو مقدم رکھتا ہے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2026میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنا، نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے خوشی کا باعث ہے بلکہ یہ پاکستانی عوام کے جذبے، اتحاد اور قومی فخر کی بھی علامت ہے۔ پاکستان کی قومی ٹیم گرین شرٹس نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ جذبے، ایمان داری اور کھیل کی روح کے ساتھ میدان میں قدم رکھے گی۔ یہ موقع ہے کہ ہم سب مل کر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کریں اور اس بات کا ثبوت دیں کہ پاکستان کرکٹ کے میدان میں ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔
شذرہ۔۔۔
روشن مستقبل کی بنیاد
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 2030ء تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کو پاکستان کے روشن اور باوقار مستقبل کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ انڈس اے آئی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا یہ واضح پیغام کہ پاکستان ٹیکنالوجی اور جدت کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہے گا، ایک نئے عہد کے آغاز کی علامت ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت اب محض ایک سہولت نہیں بلکہ ترقی، مسابقت اور خودانحصاری کی بنیاد بن چکی ہے۔ ایسے میں حکومت پاکستان کا یہ وژن کہ 2030ء تک اے آئی کے شعبے میں ایک ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست مستقبل کے تقاضوں کو بروقت سمجھ رہی ہے۔ آئی ٹی کو اولین ترجیح قرار دینا اور نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرنا ایک دانش مندانہ پالیسی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا ماضی بھی اس وژن کی تصدیق کرتا ہے۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام، زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور نوجوانوں کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔ آج وہی سوچ قومی سطح پر ایک جامع ڈیجیٹل پالیسی کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ کہ مصنوعی ذہانت کا نصاب نہ صرف وفاقی سکولوں بلکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں بھی متعارف کرایا جائے گا، قومی یکجہتی اور مساوی ترقی کی بہترین مثال ہے۔ یہ اقدام اس امر کو یقینی بنائے گا کہ جدید علم اور مہارتیں صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ ملک کے ہر کونے تک پہنچیں۔ اسی طرح 2030ء تک ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس کا اعلان ایک مضبوط تحقیقی نظام کی بنیاد رکھے گا۔ اس سے نہ صرف عالمی معیار کے ماہرین تیار ہوں گے بلکہ پاکستان علم اور تحقیق کے میدان میں خود کو ایک سنجیدہ ملک کے طور پر منوا سکے گا۔ مزید برآں، آئی ٹی سے وابستہ نہ ہونے والے 10لاکھ افراد کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دینا روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور عام شہری کے معیارِ زندگی میں بہتری لائے گا۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت محض دعووں پر نہیں بلکہ عملی منصوبہ بندی پر یقین رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہے۔ اگر یہ وعن تسلسل کے ساتھ نافذ کیا گیا تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل معیشت میں ایک موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ بلاشبہ، وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اعلان پاکستان کے لیے امید، ترقی اور خوداعتمادی کا پیغام ہے۔





