Column

علم زیادہ، آگاہی کم: فرٹیلیٹی سے ناآشنا Gen Z عورتیں

نہال ممتاز:
​آج کی جدید دنیا میں جب ہم Gen Z، یعنی 18 سے 27 سال کی نوجوان خواتین کی بات کرتے ہیں، تو ایک عجیب و غریب تضاد سامنے آتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو ہر کام ڈیجیٹل اور فوری کرنے کی عادی ہے، لیکن اپنی سب سے اہم قدرتی صلاحیت”زچگی اور تولیدی صحت”کے بارے میں ان کی معلومات حیرت انگیز طور پر ادھوری ہیں۔
اس نسل کی المیہ یہ ہے کہ ان کا زیادہ تر علم کتابوں یا مستند طبی ذرائع کے بجائے TikTok، Instagram اور نیم سائنسی بلاگز سے کشید کیا گیا ہے، جہاں سائنسی حقائق کے بجائے "ٹرینڈز” کی حکمرانی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان خواتین اپنے جسم، اووریز کی عمر اور فرٹیلٹی کی حقیقی صورتحال سے ناواقف ہیں۔
​یہ تضاد دراصل ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ آج کی خواتین کیریئر اور تعلیم کی وجہ سے زچگی کو مؤخر کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں، مگر وہ عمر کے ساتھ فرٹیلٹی میں آنے والی قدرتی کمی کی سائنسی حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھتیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ محض بڑھتی عمر کا مسئلہ ہے، حالانکہ انڈوں کی صحت، ہارمونز کا ماحول اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی اس حیاتیاتی کھڑکی (Biological Window) پر اثر انداز ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ تنگ ہوتی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلی یہ غلط فہمیاں کہ "30 سال کے بعد بھی سب کچھ آسان ہے” یا "IVF ہر مسئلے کا فوری حل ہے”، انہیں ایک ایسے جھوٹے اعتماد کی طرف لے جا رہی ہیں جس کا انجام مستقبل کی پیچیدگیوں کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
​اس حوالے سے ایک تازہ ترین تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی پر فوکس کرنا خوش آئند ہے، مگر اس کے ساتھ مکمل طبی آگاہی کا ہونا ناگزیر ہے۔ Gen Z کی خواتین ڈیجیٹل دنیا کے سحر میں پھنس کر اپنے "بیالوجیکل کلاک” کو نظر انداز کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بانجھ پن اور تولیدی مسائل کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف انفرادی نہیں رہا بلکہ ایک نسل در نسل چیلنج بن چکا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ محض انٹرنیٹ کے شارٹ کٹس پر بھروسہ کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ اور مستند معلومات تک رسائی حاصل کی جائے۔
​اگر ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں یہ نسل اپنے تولیدی فیصلوں میں واقعی بااختیار اور خود مختار ہو، تو ہمیں تعلیمی اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سائنسی بنیادوں پر استوار آگاہی فراہم کرنی ہوگی۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نوجوان خواتین کو صحت کی تعلیم اور حفاظتی اقدامات (Preventive Measures) کی اہمیت سمجھائی جائے تاکہ وہ اپنے جسم کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان کی یہ فطری صلاحیت کسی غلط فہمی یا غیر ضروری تاخیر کی نذر نہ ہو۔ باخبر فیصلے ہی وہ واحد راستہ ہیں جو اس نسل کو صحت مند اور محفوظ مستقبل کی ضمانت دے سکتے ہیں .

جواب دیں

Back to top button