تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

دنیا میں سب سے زیادہ سونا کس ملک کے پاس ہے؟ فہرست میں پاکستان کس نمبر پر؟

سونا بدستور عالمی سطح پر معاشی تحفظ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک اسے کرنسی میں اتار چڑھاؤ کے خلاف تحفظ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر کے ایک اہم جزو کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ٹریڈنگ اکنامکس کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا سونے کے ذخائر میں بدستور سرِفہرست ہے، جس کے پاس تقریباً 8 ہزار 133 ٹن سونا موجود ہے۔

یورپ اور ایشیاء کی بڑی معیشتیں اس فہرست میں اس کے بعد آتی ہیں، جرمنی کے پاس تقریباً 3 ہزار 362 ٹن، اٹلی کے پاس 3 ہزار 350 ٹن اور فرانس کے پاس 2 ہزار 452 ٹن سونا ہے۔

روس اور چین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں، یہ بھی نمایاں ذخائر رکھتے ہیں، روس کے پاس 2 ہزار 327 ٹن اور چین کے پاس 2 ہزار 306 ٹن سونا موجود ہے۔

ان کے علاوہ دیگر بڑے سونا رکھنے والے ممالک میں سوئٹزر لینڈ 1 ہزار 40 ٹن، بھارت 880 ٹن اور جاپان 846 ٹن کے ساتھ شامل ہیں۔

ابھرتی ہوئی معیشتیں جیسے ترکیہ اور نیدر لینڈز اس فہرست میں دسویں اور گیارہوں نمبر پر آتی ہیں، جن کے پاس بالترتیب تقریباً 614 اور 612 ٹن سونا موجود ہے۔

دوسری جانب کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جن کے پاس سونے کے ذخائر نہایت محدود ہیں، افریقا، ایشیاء اور یورپ کے کئی ممالک میں سونے کے ذخائر ایک ٹن سے بھی کم ہیں۔

323 ٹن سونے کے ساتھ اس فہرست میں سعودی عرب کا 18 واں نمبر ہے جبکہ متحدہ عرب امارات 74.26 ٹن سونے کے ذخائر کے ساتھ 44 ویں نمبر پر ہے۔

آرمینیا کے پاس سرکاری طور پر صفر ٹن سونا درج ہے، کینیا کے پاس 0.02 ٹن، فجی کے پاس 0.03 ٹن اور یوراگوئے کے پاس 0.1 ٹن سونا موجود ہے، جو مالی تحفظ کے طور پر سونے پر انحصار کی محدود صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا مقام نسبتاً درمیانہ ہے، تاہم اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تقریباً 64.77 ٹن سونے کے ذخائر کے ساتھ پاکستان عالمی سطح پر 48 ویں نمبر پر آتا ہے، اس کا شمار مڈل ٹیئر میں ہوتا ہے۔

اگرچہ پاکستان کے یہ ذخائر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں خاصے کم ہیں، تاہم کئی چھوٹے یا ابھرتے ہوئے ممالک سے زیادہ ہیں، جو معاشی استحکام کے لیے ایک معتدل سہارا فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتِ حال کے دوران سونے کے ذخائر کسی بھی ملک کی مالی طاقت کا ایک اہم اشاریہ ہوتے ہیں

جواب دیں

Back to top button