ColumnTajamul Hussain Hashmi

کیا قوم سنبھل پائے گی؟

کیا قوم سنبھل پائے گی؟
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کا قیام ہماری نسلوں کے لیے ایک عظیم نعمت تھا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ ایک عظیم رہنما تھے، ان کے رفقا بھی قابلِ احترام اور قربانیوں کی روشن مثال تھے ۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد ریاست کے لیے اپنی جان، مال اور عزت تک قربان کر دی۔ یہ دنیا کی تاریخ کی ایک بڑی ہجرت اور کٹھن جدوجہد تھی ، جس میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد قوم کی محنت، لگن اور قربانیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن تھا ۔ اس وقت دنیا بھر کے سفیر نجی محفلوں میں پاکستان کے روشن مستقبل کی باتیں کیا کرتے تھے۔ پاکستان کا موازنہ ترقی یافتہ ملکوں سے کیا جانے لگا تھا، مگر 1960ء کی دہائی کے بعد ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ہماری نسلوں کیلئے تلخ باب بن چکا ہے۔ ماضی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ قائد اعظمؒ کی بیماری کے دوران غفلت اور بعد ازاں جنرل ایوب خان کا اقتدار پر قبضہ ملکی سمت کو موڑنے کا سبب بنے۔
آج سیاست دانوں کی ذاتی خواہشات اور اقتدار کی ہوس نے قوم کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اب تک نہ قوم اور نہ ہی مقتدر حلقے اصل ذمہ داروں کا تعین کر سکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ قوم اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھا رہی ہے، عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور انصاف کی فراہمی ایک خواب بن چکی ہے ۔ جس نے بھی ملک سے وفاداری، اس کے مفاد کی بات کی، اسے قتل کر دیا گیا یا تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔
تقسیمِ ہند کے وقت مسلمانوں کو غیر مسلموں سے خطرہ تھا، آج عام شہری کو اپنے ہی لوگوں سے خوف لاحق ہے۔ ہم نے ہر ناکامی، ظلم کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی عادت بنا لی ہے، اسی لیے اصل مجرم سامنے نہیں آتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ 24کروڑ عوام بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے۔
جب بھی ملک میں ترقی اور خوشحالی کی امید پیدا ہوئی، دہشتگردی، سیاسی انتشار اور مفاد پرستی آڑے آ گئی۔ اس چپقلش نے معاشرے میں تقسیم، ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالی کو فروغ دیا۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات میں سو کے قریب شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسلام آباد میں خود کش حملے نے ترقیاتی منصوبوں کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف ادارے برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں، مگر ہر بار کچھ بہتری کے بعد یہ عفریت دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ ہمارے جوان سرحدوں پر شہید ہو رہے ہیں، ملک کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمان کی سکیورٹی اداروں پر بے جا تنقید مناسب نہیں۔ کمزوریاں ہو سکتی ہیں، سوال ہو سکتا ہے ، اسمبلی فلور موجود ہے، وہاں سوال کریں، لیکن اس طرح تنقید مناسب نہیں۔
چند روز پہلے ایک دوست کہہ رہا تھا کہ بلوچستان امن کی طرف بڑھ رہا ہے، مگر چند ہی دن بعد وہاں پھر دہشتگردی نے سر اٹھا لیا۔ یہ صورتحال سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور اس بحران سے کیسے نکلیں گے؟۔ حکومت اور مقتدر حلقوں کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ ملکی اداروں کو علاقائی اور عالمی حالات کے مطابق حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی۔ آج قوم دو بڑے بحرانوں میں گھری ہوئی ہے: ایک غیر جمہوری اور غیر سیاسی سوچ، جو ہمیں تقسیم کی طرف لے جا رہی ہے۔ دوسرا دہشتگردی، جو بیرونی سرمایہ کاری کو روکنے کی سازش ہے۔
سیاسی جماعتوں کی ناقص کارکردگی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ معاشرے کی تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے ۔ نوابزادہ نصراللہ خان کے تاریخی الفاظ آج بھی ہمارے لیے سبق ہیں، جب انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے سیاست دان سیاست دان نہیں بلکہ تاجر ثابت ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں بھی عوام کو حقیقی تبدیلی، سہولتیں نہ مل سکیں، سوائے مفاداتی اتحادوں کے۔
یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ سیاسی ذہن سے زیادہ کاروباری ذہن رکھنے کے باوجود ہمارے لیڈر فلاحی کردار ادا نہ کر سکے، جبکہ دنیا میں کئی سرمایہ داروں نے اپنی دولت انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کی، جو کہ اربوں ڈالر بنتی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں آصف علی زرداری نے نئی بساط بچھا دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بلاول بھٹو کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں، ن لیگ کے حامی مریم نواز کو۔ شہباز شریف کیا سوچ رہے ہیں، یہ وقت ہی بتائے گا۔ جبکہ تبدیلی کے بانی کی رہائی کو بھی ایک بڑی امید سمجھا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہم بطور قوم نواز شریف، آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمان ، عمران خان ، اسفند یار ولی خان جیسے لیڈروں کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ برسوں سے ہمارے ساتھ سیاسی کھیل کھیلا جاتا رہا اور ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔ طاقتور مزید طاقتور ہوتا گیا اور کمزور مزید کمزور۔
آج سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے گا؟، کیا موجودہ پالیسیاں واقعی تبدیلی لا سکیں گی؟، کیا ہم دہشتگردی اور سیاسی انتشار سے نجات پا سکیں گے؟۔
یہ سوال ہمارے معاشرتی رویوں میں شدت پسندی، بے یقینی اور قانون شکنی کو جنم دے رہے ہیں۔ نئی نسل اس ماحول میں کیسے پروان چڑھے گی؟، کیا وہ مثبت سوچ اور برداشت کا دامن تھام سکے گی؟۔ یہ ذمہ داری حکومتِ وقت اور مقتدر شخصیات اور اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ بدقسمتی سے اب تک کی پالیسیوں سے کوئی زیادہ حوصلہ افزا تصویر سامنے نہیں آ رہی۔ مستقبل کتنا روشن ہوگا، یہ وقت ہی بتائے گا۔ مگر اگر ہم نے آج خود احتسابی، اتحاد، دیانت داری اور اصولوں کی سیاست کو نہ اپنایا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

جواب دیں

Back to top button