اختر مینگل اور پوائنٹ آف نو رٹیرن

اختر مینگل اور پوائنٹ آف نو رٹیرن
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سر دار اختر مینگل نے خبر دار کیا ہے بلوچستان پوائنٹ آف نو رٹیرن پر پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ یہ مسلمہ حقیقت ہے ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں دہشت گردی نے نامساعد حالات کو جنم دیا ہے لیکن سوال ہے بلوچستان میں کئی عشروں تک حکمرانی کرنے والے سرداروں نے وہاں کے غریب عوام کے لئے کیا خدمات سرانجام دی ہیں۔ اختر مینگل کے والد مرحوم سردار عطاء اللہ مینگل بھی صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ان کے اپنے حلقے کے عوام سے پوچھا جا سکتا ہے جہاں نہ سڑکیں نہ پینے کو پانی میسر ہے، البتہ غریب عوام سے وہ ووٹ لے کر منتخب ہو جاتے ہیں۔ آج بلوچستان کے عوام کو پسماندگی کا سامنا ہے تو اس میں وہاں کے سیاسی رہنمائوں اور بڑے بڑے سرداروں اور نوابوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔ ایک رکن اسمبلی مجھے بتا رہے تھے کہ سردار اختر مینگل کے پاس دبئی میں ایسی ایسی قیمتی گاڑیاں ہیں جو وہاں کے شیخوں کے پاس بھی نہیں ہیں۔ سوال ہے سردار اختر مینگل کی کون سی انڈسٹری ہے جہاں سے انہیں مال و دولت فراوانی سے آتا ہے۔ بلوچستان جیسے دور افتادہ اور پہاڑوں میں گھیرے صوبے میں کون سے فصلیں ہوتی ہیں جن کی آمدن سے انہوں نے بیرون ملک بڑی بڑی گاڑیاں خرید رکھی ہیں۔ بلوچستان میں جو سردار طاقتور حلقوں کے قریب ہوتا ہے اقتدار اسی کو سونپ دیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے سرداروں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں، اگر آج سردار اختر منگل طاقتور حلقوں سے دور ہیں تو انہیں عوام کے حقوق یاد آ رہے ہیں۔ آج کل بلوچستان میں اقتدار نواب اکبر خان بگٹی کے مخالف فریق کے پاس ہے، لہذا اختر مینگل نے کہہ دیا کہ بلوچستان نو پوائنٹ آف رٹیرن پر پہنچ گیا ہے۔ گو ہم آمریت کے خلاف ہیں لیکن بلوچستان میں آج تک جو ترقی ہوئی ہے وہ دور آمریت کی مرہون منت ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبے میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے، کوسٹل ہائی وے اور گوادر کی بندرگاہ انہی کے دور کے منصوبے تھے۔ سردار اختر مینگل اتنا بتا دیں انہوں نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں کتنے کالج اور یونیورسٹیاں بنائیں، جن سے صوبے کے طلبہ اور طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔
یہاں میں ایک سابق بیوروکریٹ اور بلوچستان میں بیس سال تک خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کا ذکر نہ کروں تو بڑی زیادتی ہوگی۔ 1989ء جب وہ ڈپٹی کمشنر کولہو تھے نواب اکبر خان بگٹی کے بھرپور تعاون سے انہوں نے طالبات کے لئے پہلا سکول کھولا اور تعلیم فائونڈیشن کی بنیاد رکھی۔ گو اس دوران انہیں بعض مخالف سرداروں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن ایک وقت آیا جو سردار سکول کھولنے کے مخالفت تھے انہوں نے اپنے بچوں کو اسی سکول میں داخل کرایا۔ تعلیم فائونڈیشن کے اس وقت آٹھ سکول قلعہ سیف اللہ ، لورالائی، ذوب، سوئی، کولہو، مسلم باغ اور دیگر علاقوں میں غریب طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ پنجاب سی تعلق رکھنے والی کم از کم دو سو خواتین اساتذہ طالبات کو تعلیم دے رہی ہیں، جن کے قیام کے انتظامات تعلیم فائونڈیشن نے کئے ہیں۔ مجھے ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کے ساتھ ژوب جانے کا اتفاق ہوا، تعلیم فائونڈیشن کے سکول کی عمارت دیکھ کر میں سوچوں میں گم ہوگیا۔ ایک پسماندہ اور دور افتادہ علاقے میں اتنا معیاری تعلیمی ادارہ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کی تعلیم خدمات کے پیش نظر پنجاب کی وزیراعلیٰ نے راولپنڈی ضلع کی تحصیل کوٹلی ستیاں، گوجرخان اور راولپنڈی کے طالبات کے پچاس سکول تعلیم فائونڈیشن کے حوالے کر دیئے ہیں۔ اب سوال ہے جو کام ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کر رہے ہیں کیا بلوچستان کے بڑے بڑے سردار اور نواب وہاں کے بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے نہیں کر سکتے تھے؟۔ آج اگر بلوچستان کی نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہے تو اس میں وہاں کے نوابوں اور سرداروں کا بھی عمل دخل ہے۔ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو انہیں غریب عوام کے حقوق یاد نہیں آتے، جب اقتدار سے علیحدہ کر دیئے جائیں تو انہیں صوبے کی پسماندگی یاد آتی ہے۔ یہ بات درست ہے بلوچستان کے غریب عوام کی محرومیوں سے کسی کو انکار نہیں، لیکن قیام پاکستان سے اب تک سیاسی جماعتوں نے حکمرانی کی، کیا انہیں اپنے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کا خیا ل نہیں آیا؟۔ انتخابات میں منتخب ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت آنے کے بعد انہیں صوبے کے عوام بھول جاتے ہیں۔ مجھے کوئی ایک سردار یا جاگیردار بتا دیں جس نے بلوچستان کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی منصوبے بنائے ہوں۔ غریب عوام کے لئے جو کام حکمرانوں کے کرنے کے ہیں وہ ایک سابق بیوروکریٹ کر رہے ہیں۔ آپ یقین کریں تعلیم فائونڈیشن سے فارغ التحصیل طلبہ اور طالبات کی بڑی تعداد ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریسی اور افواج پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ ہمیں سردار اختر مینگل کی باتوں سے اتفاق ہے لیکن وہ بھی تو طاقتور حلقوں کا دم چھلا رہ چکے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے جب اقتدار سے دور ہوتے ہیں انہیں صوبے کی پسماندگی اور لوگوں کے حقوق یاد آتے ہیں۔ گو خان آف قلات اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مابین ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے، تاہم سوال ہے برسوں وزارت اعلیٰ میں رہنے والے مینگل خاندان نے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لئے جدوجہد کیوں نہیں کی؟۔ بلوچستان کے تمام سردار اور جاگیردار طاقتور حلقوں کے پہلو میں بیٹھنے کی بجائے معاہدے پر عمل درآمد کی بات کرتے تو یہ بات یقینی تھی اس پر کچھ تو عمل ہو سکتا تھا۔ سیاست دان آئین کی بات تو کرتے ہیں آئین پر عمل درآمد کے لئے یکسو نہیں ہو سکتے، جو اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ آج بھی بلوچستان کے سردار عوام کے حقوق کے لئے یکجا ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں صوبے کے عوام کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے۔





