دہشت گردی کیخلاف پُرعزم پاکستان

دہشت گردی کیخلاف پُرعزم پاکستان
پاکستان حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے شدید اور دلخراش واقعات سے دوچار رہا ہے۔ اس حوالے سے صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد عالمی برادری کی طرف سے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پر شکریہ ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم پر زور دیا ہے۔ یہ موقع نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ دہشت گردی آج صرف ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ دشمن ہے۔ صدر زرداری نے افغانستان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دئیے ہیں۔ طالبان رجیم نے ایسے حالات قائم کیے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ نائن الیون کی وقت بھی دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھیں اور اس کا نتیجہ 11ستمبر کے المناک سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔ موجودہ حالات میں، پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان کی معاونت کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ پیدا کررہا ہے۔ صدر زرداری نے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کاوشیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا موقف واضح ہے کہ کوئی بھی ملک اکیلا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کی عالمی نوعیت کی وجہ سے اس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو سمجھا اور اسی اصول کے تحت دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور موثر اقدامات کیے ہیں۔ آپریشن ردُالفساد اور دیگر سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو ختم کیا بلکہ عوام میں تحفظ اور اعتماد بھی پیدا کیا۔ پاکستان نے ہر موقع پر یہ واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے اور اس کے لیے تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آکر مل کر کام کرنا ہوگا۔ صدر زرداری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اپنے بیان میں عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات پر ممنونیت کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ پیغامات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پُرتشدد نظریات کے خلاف جدوجہد مشترکہ ہے۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے موقف کو سمجھ رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اہمیت کو تسلیم کررہی ہے۔ پاکستان کے موقف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنے عوام کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے بھی اپنی ذمے داری کو تسلیم کرتا ہے۔ دہشت گردی کی عالمی نوعیت کے پیش نظر، کسی بھی ملک کا اکیلا کوشش کرنا ناکافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عالمی برادری کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف کوششیں زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہیں۔ پاکستان کے عوام نے بھی دہشت گردی کے خلاف اپنا عزم و حوصلہ دکھایا ہے۔ لاکھوں پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو اور دہشت گرد اپنی وارداتیں انجام نہ دے سکیں۔ یہ قربانیاں پاکستان کی کاوشوں اور عزم کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔ عالمی برادری کو اس امر کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی لڑ رہا ہے۔ صدر زرداری کے بیان میں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ طالبان رجیم کی موجودہ کارکردگی خطے کے لیے خطرناک ہے۔ افغانستان میں حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ یہ پاکستان اور خطے کے امن کے لیے براہ راست خطرہ بن گئے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کے سرگرم ہونے یا پڑوسی ملک کی معاونت کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کے موقف کو سمجھے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کو یقینی بنائے۔ پاکستان ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ یہ کوئی مقامی یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں سرحدیں نہیں دیکھتی اور ان کے اقدامات عالمی سطح پر خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے صدر زرداری نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد مشترکہ ہونی چاہیے۔ صدر زرداری کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی سیکیورٹی کے لیے پرعزم ہے اور وہ امن قائم رکھنے کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے دوران نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر تعاون کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ یہ رویہ عالمی برادری کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مستقل مزاج ہے۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے تحفظ کے لیے بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے بھی لڑ رہا ہے۔ صدر زرداری کا بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں میں تنہا نہیں بلکہ عالمی برادری کے تعاون کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا اور پاکستان کی قربانیاں اور عزم اس کوشش کو مزید موثر بناسکتے ہیں۔ پاکستان کی پوزیشن واضح ہے۔ امن، استحکام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے۔ صدر زرداری کا بیان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے اور وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری بھی پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور مشترکہ اقدام کرے تاکہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن قائم ہوسکے۔
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ ایک ماہ کے دوران 59.65کروڑ ڈالر کا اضافہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو ملکی معیشت کے لیے امید افزا اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 30جنوری کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 4.54کروڑ ڈالر کے اضافے سے 21.33 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر 5.61کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 16.15ارب ڈالر ہوگئے ہیں، جو حکومتی سطح پر بیرونی ادائیگیوں کے دبا کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 1.07کروڑ ڈالر کی معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر ذخائر کا بڑھنا ملکی مالی استحکام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جنوری 2026ء کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں ہونے والا نمایاں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے۔ یہ اضافہ ممکنہ طور پر ترسیلاتِ زر میں بہتری، درآمدات میں نظم، برآمدات کے فروغ اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کا نتیجہ ہے۔ زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر نہ صرف روپے کی قدر کو سہارا دیتے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم، یہ بات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ایک مستقل حکمتِ عملی کا متقاضی ہے۔ عارضی بہتری اس وقت تک پائیدار نہیں ہوسکتی جب تک ملکی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کو دُور نہ کیا جائے۔ برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ایسے عوامل ہیں جن کے بغیر طویل المدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔ مزید برآں، حکومت کو مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری درآمدات پر قابو پانے کے ساتھ مقامی پیداوار کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اگر درست معاشی سمت کے ساتھ جڑا رہے تو یہ پاکستان کو بیرونی مالی دبا سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ اضافہ ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے، لیکن اصل چیلنج اس بہتری کو برقرار رکھنا ہے۔ مستقل اور جامع معاشی اصلاحات کے ذریعے ہی پاکستان مضبوط، خودکفیل اور مستحکم معیشت کی جانب بڑھ سکتا ہے۔





