
پرتگالی فٹبال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو اور سعودی کلب النصر کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی، جس کے سبب فٹبالر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کشیدگی کے باعث رونالڈو کی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ گئے۔
حال ہی میں سعودی پرو لیگ کے میچ میں النصر کلب کی ٹیم نے الجریح کے خلاف میچ میں حصہ لیا مگر ٹیم کے اسٹار کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے۔
فٹ بالر الریاض اور الاتحاد کے خلاف اہم میچز میں بھی شریک نہیں ہوئے، جس کے بعد ان کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں اور شکوک و شبہات جنم لینے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رونالڈو کی جانب سے جاری یہ انفرادی احتجاج اس وقت سامنے آیا جب انہیں محسوس ہوا کہ ان کے کلب کو سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی جانب سے ان کے ٹائٹل حریف الہلال کی طرح مالی طور پر حمایت حاصل نہیں ہو رہی
واضح رہے کہ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ناصرف سعودی عرب کے کامیاب ترین کلبوں النصر اور الہلال کا مالک ہے بلکہ انگلش کلب نیو کیسل یونائیٹڈ کی مالی معاونت بھی اسی ادارے کے تحت آتی ہے۔
سعودی عرب کے معروف فٹبال کمینٹیٹر ولید الفرج نے رونالڈو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر رونالڈو سعودی وفد کا حصہ نہ ہوتے تو وہ کبھی وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکتے تھے، نہ ہی اس کے قریب بھی پہنچ پاتے۔
انہوں نے کہا کہ کرسٹیانو رونالڈو کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے، اس ملک کا نام سعودی عرب ہے، رونالڈو کا عرب نہیں، وہ سفیر ہونے اور منیجر ہونے کے فرق کو بھول رہے ہیں۔
40 سالہ رونالڈو نے 2022ء میں مانچسٹر یونائیٹڈ چھوڑنے کے بعد النصر میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ پہلے ہی کلب کے ساتھ اپنے کنٹریکٹ میں توسیع کر چکے ہیں، جس کے تحت وہ 2027ء تک سعودی کلب النصر کے ساتھ کھیلتے رہیں گے







