ColumnQadir Khan

’’ احترام رمضان‘‘ کی امید دشمن سے نہیں ( حصہ اول )

’’ احترام رمضان‘‘ کی امید دشمن سے نہیں ( حصہ اول )
تحریر: قادر خان یوسف زئی

اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر چھائی خاموشی اور دامنِ کوہ کی ٹھنڈی ہوائوں میں اب بارود کی بو رچ بس گئی ہے، ایک ایسا خوف جو کبھی پشاور، کوئٹہ اور وزیرستان کے گلی کوچوں کا مقدر تھا، اب وفاقی دارالحکومت کے انتہائی حساس علاقوں کی دہلیز تک آن پہنچا ہے۔ فروری 2026ء کا سورج اسلام آباد کے باسیوں کے لیے ایک ایسی قیامت لے کر طلوع ہوا جس نے ریاست کے حفاظتی دعووں اور نیشنل ایکشن پلان کی فعالیت پر سوالیہ نشانات کا ایک پہاڑ کھڑا کر دیا ۔ 6فروری کو اسلام آباد کے مضافات میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والا خودکش دھماکہ محض ایک سانحہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کے لیے ایک ’’ وارننگ شاٹ‘‘ ہے کہ دہشت گردی کا وہ جن جسے ہم نے سالوں کی جدوجہد اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر بوتل میں بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہ نہ صرف باہر آ چکا ہے بلکہ اب اس کی جڑیں دارالحکومت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے درپے ہیں۔ جب 31نمازیوں کے جنازے اٹھیں اور 169زخمی ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں تو پھر سرکاری پریس ریلیزیں اور مذمتی بیانات عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ یہ حملہ دولت اسلامیہ خراسان کے روایتی ہتھکنڈوں کی عکاسی کرتا ہے جس میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا مقصود ہوتا ہے، مگر اسے محض ایک گروہ کی کارروائی سمجھنا سٹریٹیجک غلطی ہوگی۔ یہ حملہ اس وسیع تر اور خوفناک لہر کا حصہ ہے جس نے 2024ء اور 2025ء کے دوران پاکستان کے طول و عرض، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے جذبات سے عاری اعداد و شمار کی طرف دیکھنا ہوگا جو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی حالیہ رپورٹ کے مندرجات کسی بھی ذی شعور شہری اور پالیسی ساز کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہیں۔ سال 2024میں دہشت گردی کے واقعات میں 70فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا، جس میں 521حملے ریکارڈ کیے گئے، ان حملوں میں 852افراد لقمہ اجل بنے اور 1092زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 95فیصد حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مرکوز رہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے یہ دو صوبے ایک بار پھر جنگ کا میدان بن چکے ہیں۔
سکیورٹی اور عسکری ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ موجودہ لہر ماضی کی دہشت گردی سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اس بار ریاست کو ’’ کثیر الجہتی خطرات‘‘ کا سامنا ہے۔ ایک طرف فتنہ الخوارج اور اس کے حافظ گل بہادر گروپ جیسے ذیلی دھڑے ہیں جو نظریاتی طور پر ریاست کے ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، تو دوسری طرف بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند گروپ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان سب کے بیچ میں داعش خراسان جیسا سفاک گروہ ہے جو فرقہ وارانہ خلیج کو وسیع کرنے کے لیے عوامی مقامات اور مساجد کو مقتل میں تبدیل کر رہا ہے۔
اسلام آباد دھماکے کی نوعیت اور ہدف کا تعین اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گرد اب صرف سیکیورٹی فورسز کو نہیں بلکہ ریاست کے اعصاب کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ دارالحکومت میں، جہاں سیکیورٹی کے انتظامات ملک کے دیگر حصوں کی نسبت کئی گنا زیادہ سخت ہوتے ہیں، وہاں جمعہ کے اجتماع کے دوران خودکش حملہ آور کا داخل ہونا اور پھر سیکیورٹی اہلکاروں کی مزاحمت کے باوجود مجمع کے درمیان خود کو اڑا لینا اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مساجد اور عوامی مقامات کا انتخاب دو مقاصد کے تحت کیا جاتا ہے۔اول، زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کر کے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرنا اور دوم، معاشرے میں خوف و ہراس اور فرقہ وارانہ فسادات کی فضا پیدا کرنا۔
سی ایس آئی ایس کا تجزیہ اس حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اگرچہ دیگر عسکریت پسند گروہ حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ تشدد سے دوری اختیار کرنے کا تاثر دیتے رہے ہیں، لیکن داعش خراسان نے اسے اپنی بنیادی حکمت عملی کے طور پر اپنایا ہے۔ تاہم، یہاں ایک اور پہلو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ اسلام آباد کے مرکز میں سخت سیکیورٹی کے باعث شاید حملہ آور نے مضافاتی علاقے کا انتخاب کیا ہو، جو اس امرکی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد موقع کی مناسبت سے اپنے اہداف تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ خونی لہر ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سر پر ہے۔ عوامی نفسیات اور روایتی سوچ یہ رہی ہے کہ رمضان کے دوران شاید تشدد میں کمی آئے گی، لیکن زمینی حقائق اور گزشتہ دو سالوں کا ریکارڈ اس خوش فہمی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ 2024ء کے رمضان میں 26حملے ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ 2025ء کے رمضان میں یہ تعداد بڑھ کر 84ہو گئی، جو کہ گزشتہ ایک دہائی میں رمضان کے دوران ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ عسکریت پسند گروہوں کے لیے ’’ تقدس‘‘ کا کوئی مفہوم نہیں ہے، بلکہ وہ اس مہینے کو اپنے پراپیگنڈے اور نام نہاد ’’ غزوہ‘‘ کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
آپریشنل تناظر میں دیکھا جائے تو رمضان کے دوران حملوں میں تیزی کی ایک وجہ مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان ’’مسابقت‘‘ بھی ہو سکتی ہے۔ جب ٹی ٹی پی، داعش اور بلوچ انسرجنٹس ایک ہی وقت میں متحرک ہوں، تو ہر گروہ اپنی دہشت کا سکہ بٹھانے اور زیادہ سے زیادہ بھرتیوں کے لیے بڑے اور نمایاں حملوں کی کوشش کرتا ہے۔ پی آئی پی ایس نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے کہ مختلف دھڑوں کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے اور کبھی کبھار مسابقتی رویہ تشدد کے گراف کو اوپر لے جانے کا سبب بن رہا ہے۔ لہذا، آنے والے رمضان کے لیے ریاست کو روایتی ’’ الرٹ‘‘ سے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button