Column

اے آئی، جین زی اور تخلیق کا مستقبل

اے آئی، جین زی اور تخلیق کا مستقبل
تحریر: آصف علی درانی
یہ سوال محض ٹیکنالوجی کی ترقی کا نہیں ہے بلکہ انسانی شعور تخلیقی وجود اور فکری بقا کا سوال ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی ( اے آئی) آخر انسان سے کیا چھین رہی ہے اور کیا واپس دے رہی ہے؟ اس سوال کے گرد جتنی بحث ہو رہی ہے اس سے کہیں زیادہ خاموشی اس کے اثرات کے بارے میں ہے۔ اور اس خاموشی کے عین مرکز میں کھڑی ہے جین زی ’’ جنریشن زی ‘‘ وہ نسل جو ایک ایسے دور میں جوان ہو رہی ہے جہاں سوچنے سے پہلے جواب اور محسوس کرنے سے پہلے اظہار دستیاب ہے۔ اگر ہم تاریخ کی گرد ہٹا کر پیچھے دیکھیں تو پرانے وقتوں کے ادیب کی شبیہ سامنے آتی ہے۔ وہ ادیب جو لفظ لکھنے سے پہلے زندگی کو برداشت کرتا تھا۔ اس کے لیے تحریر سہولت نہیں بلکہ امتحان تھی۔ وہ لکھتے وقت جلدی میں نہیں ہوتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ لفظ اگر آسانی سے آ جائے تو دیرپا نہیں رہتا۔ ان کا سارا انحصار اپنے علم کتابوں اور اساتذہ پر ہوتا اس کے جملے میں ایک خاص ٹھہرائو ہوتا تھا ایسا ٹھہرائو جو وقت تجربے اور مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کسی مشین کی رفتار سے۔۔ پرانے ادیب کا کمرہ شاید چھوٹا ہوتا تھا مگر اس کی سوچ وسیع ہوتی تھی۔ وہ راتوں کو جاگ کر لفظوں سے کشتی کرتا تھا۔ کئی بار قلم رک جاتا تھا کئی بار خیال بکھر جاتا تھا مگر وہ بھاگتا نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ تخلیق کا راستہ ہموار نہیں ہوتا۔ اس کی تحریر میں اس کے زخم بولتے تھے اس کی شکستیں سانس لیتی تھیں اور اس کی امیدیں دھیرے دھیرے جملوں میں ڈھلتی تھیں۔ اس دور میں تحریر ایک اخلاقی عمل بھی تھی۔ ادیب خود کو جواب دہ سمجھتا تھا معاشرے کے سامنے وقت کے سامنے اور اپنی ذات کے سامنے۔ وہ جانتا تھا کہ لکھا ہوا لفظ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اسی لیے وہ لفظ کو تول کر لکھتا تھا اور خاموشی کو بھی زبان دیتا تھا۔
آج کا دور اس کے بالکل برعکس ہے۔ آج رفتار سب سے بڑی قدر بن چکی ہے۔ یہاں سوچنے کا وقت کم اور پیش کرنے کا دبا بہت زیادہ ہے۔ اس فضا میں اے آئی ایک غیر معمولی قوت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ لکھ دیتی ہے سنوار دیتی ہے بہتر بنا دیتی ہے۔ مگر وہ جھیلتی نہیں ہے۔ وہ انتظار نہیں کرتی۔ وہ اندر سے نہیں گزرتی۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسان اور مشین کے درمیان لکیر واضح ہو جاتی ہے۔ تخلیق محض درست الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ غلطیوں توقف اور الجھنوں سے گزرنے کا نام ہے۔ اے آئی غلطی نہیں کرتی اس لیے وہ سیکھتی بھی نہیں۔ انسان غلطی کرتا ہے اسی لیے آگے بڑھتا ہے۔ جب تحریر سے کوشش نکل جائے تو وہ محض معلومات رہ جاتی ہے اظہار نہیں بنتی۔
جین زی اس پورے منظرنامے میں ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔ یہ نسل بیدار ہے سوال کرتی ہے مگر ساتھ ہی سہولت کی عادی بھی ہے۔ اس کے لیے اے آئی کوئی انقلابی شے نہیں بلکہ روزمرہ کا اوزار ہے۔ مسئلہ اے آئی کے استعمال میں نہیں بلکہ اس پر مکمل انحصار میں ہے۔ جب انسان سوچنے کے بجائے پوچھنے لگے اور محسوس کرنے کے بجائے کاپی کرنے لگے تو تخلیقی صلاحیت آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یہاں اصل خطرہ یہ نہیں کہ اے آئی بہتر لکھ لیتی ہے بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ جب مشین کا جملہ زیادہ چمکدار ہو تو انسان اپنے سادہ جملے پر شرمندہ ہونے لگتا ہے۔ یہی احساس تخلیق کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔
مگر تصویر کا صرف یہی رخ نہیں۔ اے آئی اگر شعوری طور پر استعمال کی جائے تو یہ تخلیق کا خاتمہ نہیں بلکہ توسیع بن سکتی ہے۔ یہ تحقیق میں مدد دے سکتی ہے زبان کی گرفت مضبوط کر سکتی ہے اور خیالات کو ترتیب دینے میں سہارا بن سکتی ہے۔ فیصلہ پھر بھی انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے متبادل بناتا ہے یا معاون۔ اے آئی کا مستقبل طے ہے یہ مزید طاقتور ہو گی مزید ذہین ہو گی اور مزید شعبوں میں داخل ہو گی۔ مگر انسان کا مستقبل غیر یقینی ہے کیونکہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ارادے کا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے سوال یہ ہے کہ ہم کیا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ کیا ہم تنہائی چھوڑ رہے ہیں؟ کیا ہم خاموشی سے ڈرنے لگے ہیں؟ کیا ہم اپنی فکری سستی کو ذہانت کا نام دے رہے ہیں؟ پرانے ادیب کے پاس وسائل کم تھے مگر مقصد واضح تھا۔ جین زی کے پاس وسائل بے شمار ہیں مگر مقصد کا تعین ابھی باقی ہے۔ اگر یہ نسل مشین کے ساتھ چلنا سیکھ لے مگر اس کے پیچھے چلنے کے بجائے اسے اپنے پیچھے رکھے تو شاید تخلیق ایک نئے مگر انسانی دور میں داخل ہو سکے۔ اے آئی نہ تو تخلیق کو ختم کرتا ہے نہ پیدا کرتا ہے۔ یہ صرف انسان کے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ اگر اندر سوال زندہ ہیں تو تحریر زندہ رہے گی اور اگر اندر خاموشی مر چکی ہے تو مشین بھی کچھ نہیں بچا سکتی۔ یہی اس دور کا اصل امتحان ہے اور یہی جین زی کے سامنے سب سے کڑا سب سے سنجیدہ اور سب سے بنیادی سوال ہے۔

جواب دیں

Back to top button